بلوچستان حالتِ جنگ میں ہے۔ وزیراعلیٰ بلوچستان

28

وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ اگر کوئی نجی جائیداد حملوں کے لیے استعمال ہوتی ہے تو اس کے مالک کو سہولت کار تصور کیا جائے گا۔

وہ جمعہ کو سنٹرل پولیس آفس کوئٹہ میں بلوچستان پولیس کے نئے اور اپ گریڈ کیے گئے ڈیجیٹل انیشیٹوز کی افتتاحی تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔

بلوچستان میں ریاستی رٹ اور سیکیورٹی صورتحال سے متعلق سوال پر سرفراز بگٹی نے کہا کہ ریاست کی رٹ قائم کرنا حکومت کی بنیادی ذمہ داری ہے اور حکومت اس ذمہ داری سے پیچھے نہیں ہٹے گی۔

انہوں نے بلوچستان کی موجودہ صورتحال کو ایک انٹیلی جنس بیسڈ جنگ قرار دیتے ہوئے کہا کہ بلوچستان کی جغرافیائی صورتحال اور بعض داخلی کمزوریوں کے باعث اسے سیکیورٹی چیلنجز کا سامنا ہے۔

انہوں نے حملوں میں اضافے کی وجوہات میں افغانستان سے دستیاب جدید فوجی سازوسامان اور نوجوانوں کو مسلح تصادم کی طرف دھکیلنے کو شامل کیا۔

انہوں نے کہا کہ ریاستی اداروں کی جانب سے کارروائیوں میں بھی اضافہ ہوا ہے اور ان کے مطابق گزشتہ ایک سال کے دوران ایک ہزار افراد مارے گئے ہیں۔

سرفراز بگٹی نے بلوچستان کی صورتحال کو گوریلا جنگ سے تشبیہ دیتے ہوئے کہا کہ انہیں صرف ایک مقام پر حملے کے لیے کامیابی درکار ہوتی ہے، جبکہ ریاست کو پورے بلوچستان اور ہزاروں کلومیٹر شاہراہوں کی حفاظت کرنا ہوتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ریاست اس جنگ سے تھکنے والی نہیں اور حکومت کا عزم ہے کہ ان کے خلاف کارروائی جاری رکھی جائے گی۔

مستونگ میں فورسز اور صوبائی وزیر داخلہ پر حملوں کے لیے انگور کے باغات یا نجی جائیدادوں کے مبینہ استعمال سے متعلق سوال پر وزیراعلیٰ نے کہا کہ حکومت عام شہریوں کو نقصان پہنچانے والی کارروائی نہیں چاہتی، تاہم ریاست کے صبر کی بھی ایک حد ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر کسی نجی جائیداد سے فورسز کے قافلے یا صوبائی وزیر داخلہ پر حملہ ہوتا ہے تو جائیداد کے مالک یہ مؤقف اختیار نہیں کر سکتے کہ انہیں اپنی زمین پر موجود دہشت گردوں کے بارے میں علم نہیں تھا۔

سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ اگر کوئی نجی جائیداد حملوں کے لیے استعمال ہوتی ہے تو اس کے مالک کو سہولت کار تصور کیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ باغات اور دیگر نجی جائیدادوں کے مالکان کو بارہا خبردار کیا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق اگر حملوں کے لیے ان جائیدادوں کا استعمال جاری رہا تو حکومت کے سامنے دو آپشنز ہوں گے: متاثرہ علاقوں سے لوگوں کی منتقلی اور متبادل آبادکاری، یا حملوں کے لیے استعمال ہونے والی جائیدادوں کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔