بلوچستان میں جبری گمشدگیوں کے خلاف وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز (وی بی ایم پی) کے زیر اہتمام کوئٹہ پریس کلب کے سامنے قائم احتجاجی کیمپ 6229ویں روز بھی جاری رہا۔
میر تاج محمد سرپرہ کی اہلیہ نے وی بی ایم پی کے چیئرمین نصراللہ بلوچ سے رابطہ کرکے بتایا کہ ان کے شوہر میر تاج محمد سرپرہ کو 19 جولائی 2020 کو کراچی میں گھر سے ائیرپورٹ جاتے ہوئے ملکی اداروں کے اہلکاروں نے حراست میں لینے کے بعد جبری طور پر لاپتہ کردیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ آج ان کی جبری گمشدگی کو 6 سال مکمل ہوچکے ہیں، تاہم تاحال ان کے بارے میں کوئی معلومات فراہم نہیں کی گئیں۔
انہوں نے کہا کہ گزشتہ چھ برسوں کے دوران ان کے شوہر کا کیس کمیشن برائے لاپتہ افراد میں زیر سماعت رہا ہے اور وہ ان کی بازیابی کے لیے ہر متعلقہ فورم سے رجوع کرتی رہی ہیں، لیکن اب تک انہیں انصاف نہیں مل سکا۔ انہوں نے سیاسی جماعتوں، طلباء تنظیموں، انسانی حقوق کی تنظیموں اور معاشرے کے تمام طبقات سے اپیل کی کہ وہ میر تاج محمد سرپرہ سمیت تمام لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے آواز بلند کریں۔
وی بی ایم پی کے چیئرمین نصراللہ بلوچ نے میر تاج محمد سرپرہ کی اہلیہ کو یقین دہانی کرائی کہ تنظیم ان کے شوہر کی باحفاظت بازیابی کے لیے ہر ممکن فورم پر آواز اٹھاتی رہے گی۔ انہوں نے حکام بالا سے مطالبہ کیا کہ میر تاج محمد سرپرہ سمیت تمام لاپتہ افراد کے اہل خانہ کو ان کے پیاروں کے بارے میں معلومات فراہم کی جائیں اور ان کی بازیابی کو یقینی بنا کر لواحقین کی طویل اذیت کا خاتمہ کیا جائے۔


















































