بیلہ میں قابض فوج کے قافلے پر حملہ، 17 اہلکار ہلاک اور عسکری ساز و سامان ضبط — بلوچ لبریشن آرمی

1

بلوچ لبریشن آرمی کے ترجمان جیئند بلوچ نے میڈیا کو جاری بیان میں کہا ہے کہ سرمچاروں نے بیلہ کے مقام پر قابض پاکستانی فوج کے ایک قافلے پر مؤثر اور کامیاب گھات لگا کر حملہ کیا، جس کے نتیجے میں دشمن کے 17 اہلکار ہلاک ہوگئے، جبکہ سرمچاروں نے ہلاک ہونے والے دشمن اہلکاروں کے زیرِ استعمال تمام جدید ہتھیار اور جنگی ساز و سامان کامیابی سے اپنے قبضے میں لے لیا۔

ترجمان نے کہاکہ یہ کارروائی بی ایل اے کے ہراول دستے فتح اسکواڈ نے آج صبح نو بج کر تیس منٹ پر بیلہ میں والپٹ کے علاقے میں کوئٹہ-کراچی مرکزی شاہراہ پر سرانجام دی۔ فتح اسکواڈ نے قابض پاکستانی فوج کی ”ون سندھ رجمنٹ” کے چار گاڑیوں پر مشتمل کاروان کو اس وقت ہدف بنایا جب وہ کراچی سے بسیمہ کی جانب محوِ سفر تھا۔

انہوں نے کہاکہ یہ کامیاب حملہ بی ایل اے کے انٹیلی جنس ونگ ‘زراب’ کی طویل ریکی، ٹھوس خفیہ اطلاعات اور دشمن کی نقل و حرکت پر کڑی نگرانی کے نتیجے میں ممکن ہوا۔ معرکے کے دوران قابض فوج کی گاڑیاں براہِ راست حملے کی زد میں آئیں، جن میں سوار 17 عسکری اہلکار ہلاک اور متعدد شدید زخمی ہوئے۔ ان میں سے 11 اہلکاروں کی ہلاکت کی تصدیق خود دشمن فوج کی جانب سے کی جاچکی ہے، جن میں صوبیدار وحید، نائیک ثاقب، نائیک ظہیر، سپاہی سجاد، سپاہی وسیم اختر، سپاہی شکور، وی ایم بشارت، سپاہی وقار نور، کوک بلال، لانس نائیک قربان اور سپاہی عثمان شامل ہیں۔

انہوں نے کہاکہ بلوچ لبریشن آرمی اس کارروائی کے ذریعے یہ واضح کرتی ہے کہ مقبوضہ بلوچستان کے طول و عرض میں سرمچاروں کے دائرہ اختیار، اثر و رسوخ اور زیرِ کنٹرول علاقوں میں مسلسل اور غیر معمولی اضافہ ہورہا ہے۔ دشمن اب اپنے ہی قائم کردہ حفاظتی حصاروں اور حساس ترین تجارتی و عسکری شاہراہوں پر محصور ہوکر رہ گیا ہے، جبکہ بی ایل اے نے بلوچستان کے وسیع تر جغرافیئے پر اپنی پوزیشنز کو مزید مستحکم کر لیا ہے۔ مرکزی شاہراہوں پر دشمن کے قافلوں کو دن دیہاڑے نشانہ بنانا اس حقیقت کا ثبوت ہے کہ زمینی بالادستی اور فیلڈ کنٹرول اب بتدریج بلوچ مزاحمت کے حق میں منتقل ہورہا ہے۔

آخر میں کہاکہ اپنے ہی فوجیوں کے جانی نقصان کو چھپانے اور حقائق پر پردہ ڈالنے کی قابض فوج کی پالیسی خود قابض کے اندر گرتے ہوئے مورال اور گہری مایوسی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ بی ایل اے بلوچ قوم کے تاریخی حقِ آزادی اور بقا کی اس جنگ کو اپنے شہداء کے لہو کی امانت سمجھتی ہے، اور جب تک ہماری دھرتی سے غاصبانہ قبضے کا آخری نشان مٹ نہیں جاتا اور ایک آزاد و خودمختار بلوچ ریاست کا قیام عمل میں نہیں آتا، ہمارا یہ اصولی اور نظریاتی سفر بغیر کسی مصلحت، سمجھوتے یا تعطل کے جاری رہے گا۔