کوئٹہ: جبری لاپتہ شاہد احمد کرد اور نور محمد کرد منظر عام پر، وی بی ایم پی کا احتجاجی کیمپ 6330ویں روز جاری

1

کوئٹہ میں رواں سال 8 اپریل کو کلی خلی سے جبری طور پر لاپتہ کیے گئے شاہد احمد کرد اور نور محمد کرد کو منظر عام پر لا کر ہدہ جیل منتقل کر دیا گیا، جبکہ بلوچستان میں جبری گمشدگیوں کے خلاف وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز (وی بی ایم پی) کا کوئٹہ پریس کلب کے سامنے احتجاجی کیمپ 6330ویں روز بھی جاری رہا۔

وی بی ایم پی کے چیئرمین نصراللہ بلوچ نے شاہد احمد کرد اور نور محمد کرد کی بازیابی کو مثبت عمل قرار دیتے ہوئے کہا کہ دونوں نوجوانوں کے کیسز وی بی ایم پی کی جانب سے لاپتہ افراد کے کمیشن اور حکومت کو فراہم کیے گئے تھے، جبکہ کمیشن نے ان کی بازیابی کے حوالے سے حکومت اور متعلقہ اداروں کو نوٹسز بھی جاری کیے تھے۔

نصراللہ بلوچ نے امید ظاہر کی کہ انصاف کی فراہمی کے لیے قائم ادارے دونوں نوجوانوں کو ملکی قوانین کے تحت قانونی حقوق اور انصاف فراہم کرنے میں اپنا کردار ادا کریں گے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ دیگر لاپتہ افراد کو بھی بازیاب کرایا جائے اور جن افراد پر الزامات ہیں انہیں منظر عام پر لا کر عدالتوں میں پیش کیا جائے۔ انہوں نے جبری گمشدگیوں کے مکمل سدباب کے لیے عملی اقدامات اٹھانے پر بھی زور دیا۔

دوسری جانب وی بی ایم پی کے احتجاجی کیمپ کا دورہ بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے سابق چیئرمین مہیم خان بلوچ اور ممتاز صحافی امان اللہ شادینزئی نے کیا۔ انہوں نے جبری گمشدگیوں کے خلاف احتجاج ریکارڈ کراتے ہوئے لاپتہ افراد کے لواحقین سے اظہارِ یکجہتی کیا۔

اس موقع پر مہیم خان بلوچ اور امان اللہ شادینزئی نے لاپتہ افراد کی عدم بازیابی، جبری گمشدگیوں اور ماورائے قانون اقدامات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ لاپتہ افراد کے خاندان طویل عرصے سے اذیت اور غیر یقینی صورتحال کا سامنا کر رہے ہیں۔

انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ تمام لاپتہ افراد کی بازیابی یقینی بنائی جائے، انہیں قانون کے مطابق عدالتوں میں پیش کیا جائے اور جبری گمشدگیوں کے خاتمے کے لیے فوری اور عملی اقدامات کیے جائیں۔