بلوچ نیشنل موومنٹ ( بی این ایم ) کے چیئرمین ڈاکٹر نسیم بلوچ نے کہا ہے کہ ہم اچھی طرح جانتے ہیں کہ موجودہ پاکستان جن خطوں پر مشتمل ہے، وہاں تاریخ میں کبھی نہ مسلم لیگ کا وجود تھا اور نہ ہی پاکستان کے لیے کوئی تحریک چلی۔ سوائے سندھ اسمبلی کی پاکستان کے حق میں منظور کی گئی قرارداد کے، ہمیں کہیں کوئی سیاسی تحریک نظر نہیں آتی۔ لہٰذا پاکستان کا قیام کسی ناگزیر تاریخی و فطری قانون کا نتیجہ نہیں تھا، بلکہ برطانوی نوآبادیاتی سیاست سے جنم لینے والی اور مذہبی بنیادوں پر منظم ہوتی ہوئی نمائندگی، کانگریسی قیادت کی تباہ کن مصالحت کوشی اور برطانیہ کے مستقبل کے مفادات کا کھیل تھا۔ جو مسلم لیگ 1946ء تک ایک متحدہ ہندوستان پر راضی تھی، وہ محض ایک سال بعد خود سے کس طرح ایک نیا ملک بنا سکتی تھی؟ لہٰذا پاکستان کی تخلیق محض مسلم لیگ کا کمال نہیں، بلکہ برطانیہ اور انڈین نیشنل کانگریس کے اپنے اپنے منصوبوں کا حصہ تھی، جس کے نتیجے میں ہندوستان تقسیم ہوا۔
انہوں نے کہاکہ بلوچ نوجوان اگر قیامِ پاکستان کو محض محمد علی جناح، مسلم لیگ یا برطانیہ کی سازش تک محدود سمجھیں تو یہ تاریخ کا ادھورا مطالعہ ہوگا۔ مسلم لیگ یقیناً تقسیم کی ذمہ دار تھی، لیکن متحدہ ہندوستان کا دعویٰ کرنے والی کانگریس نے اسے متحد رکھنے کے لیے آخر کون سی سیاسی مزاحمت کی؟ ایک ایسی جماعت جس نے دہائیوں تک ہندوستان کی وحدت کو اپنا قومی نصب العین قرار دیا تھا، وہ فیصلہ کن مرحلے پر اس وحدت کے دفاع کے لیے آخری سیاسی مزاحمت بھی نہ کر سکی۔ یہی وہ سوال ہے جس کی بنا پر کانگریس بھی تقسیمِ ہند کی برابر کی ذمہ دار ٹھہرتی ہے۔ ایک جانب کانگریس کے دعوے تھے اور دوسری جانب ہندوستان کی تقسیم—وقت نے ثابت کیا کہ وہ محض دعوے ہی تھے۔ حقیقت یہ ہے کہ کانگریس کے لیے متحدہ ہندوستان کے بجائے یہ زیادہ اہم تھا کہ آزاد ہندوستان کی نوعیت کیا ہوگی، مرکز کتنا طاقتور ہوگا اور اقتدار کس کے ساتھ بانٹنا پڑے گا؟ 1947ء تک کانگریس کی قیادت ایک ایسے مقام پر پہنچ چکی تھی جہاں اس نے ایک بڑے مگر مشکل ہندوستان کے مقابلے میں نسبتاً چھوٹے، لیکن زیادہ مضبوط، زیادہ قابلِ حکمرانی اور اپنے سیاسی تصور کے مطابق ہندوستان کو قبول کر لیا۔‘‘
بی این ایم کے چیئرمین نے مزید کہا تقسیمِ ہند سے خطے میں بھیانک تباہی آئی؛ پنجاب تقسیم ہوا، بنگال تقسیم ہوا، لاکھوں انسان مارے گئے اور کروڑوں انسانوں کی زندگیاں تہ و بالا ہو گئیں۔ مذہب کو سیاست و ریاست سازی کی بنیاد بنانے کے عمل نے جنوبی ایشیا کی سیاست میں ایک ایسا زہر گھول دیا جس کے بھیانک اثرات آج بھی موجود ہیں۔
انھوں نے کہا تقسیمِ ہند اور قیامِ پاکستان کی سب سے بڑی قیمت بلوچ قوم نے ادا کی۔ طویل بلوچ قومی مزاحمت اور برطانیہ و بلوچستان کے درمیان تاریخی معاہدات کی روشنی میں 11 اگست 1947ء کو بلوچستان آزاد ہوا۔ بلوچ قوم کا واضح اور اعلانیہ موقف تھا کہ ہماری خواہش پاکستان یا ہندوستان کے ساتھ دشمنی نہیں، بلکہ ہم اپنی قومی آزادی برقرار رکھتے ہوئے نئی ریاستوں کے ساتھ برابری، ہمسائیگی، دوستی اور معاہداتی تعلقات چاہتے تھے؛ لیکن صرف سات ماہ بعد یہ امکان ہمیشہ کے لیے ختم ہو گیا۔ 27 مارچ 1948ء کو بلوچستان کی آزادی سلب کر کے پاکستان نے اس پر قبضہ کر لیا۔
ڈاکٹر نسیم بلوچ نے کہا اس حقیقت کو کبھی نظر انداز نہیں کرنا چاہیے کہ 14 اگست اور 27 مارچ ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ اگر پاکستان وجود میں نہ آتا تو ہماری تاریخ میں 27 مارچ کا سیاہ دن کبھی نہ آتا۔ لہٰذا تقسیمِ ہند کی قیمت صرف ان لوگوں نے نہیں چکائی جو 1947ء میں پنجاب اور بنگال میں مارے گئے، بلکہ بلوچ قوم نے اپنی قومی آزادی گنوا کر اس کی بھاری قیمت ادا کی۔














































