51 کارروائیوں میں قابض فوج کے 46 اہلکار ہلاک، معاشی ناکہ بندی برقرار، فوج کی پوسٹیں تباہ – بلوچ لبریشن آرمی

1

بلوچ لبریشن آرمی کے ترجمان جیئند بلوچ نے میڈیا کو جاری بیان میں کہاکہ سرمچاروں نے گزشتہ پندرہ روز کے دوران بلوچستان بھر میں اکیاون (51) کارروائیاں کیں۔ ان حملوں میں قابض پاکستانی فوج کے چھالیس (46) سے زائد اہلکار ہلاک اور درجنوں زخمی ہوگئے، جبکہ دشمن کو بھاری مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑا۔ سرمچاروں نے دشمن کو آئی ای ڈی اور گھات لگا کر کیئے گئے حملوں میں نشانہ بنانے سمیت متعدد علاقوں کا کنٹرول حاصل کیا، جبکہ قابض فورسز کے زیرِ استعمال سات پوسٹوں کو دھماکے سے تباہ کردیا گیا۔ قابض فوج کے ساتھ جھڑپوں میں بی ایل اے کے پانچ ساتھی شہید ہوگئے۔

انہوں نے کہاکہ 11 جولائی کو سرمچاروں نے کوئٹہ شہر میں ہزار گنجی کے مقام پر شاہراہ پر ناکہ بندی کی اور پولیس تھانے کو حملے میں نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں پولیس اہلکاروں کو جانی و مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑا۔

15 جولائی: ہرنائی کے علاقے کھوسٹ میں سرمچاروں نے استحصالی ادارے ‘ماری آئل اینڈ گیس کمپنی’ کی سائٹ پر کنٹرول حاصل کر کے ٹینکروں کو بارودی مواد نصب کرکے تباہ کر دیا۔ اسی مقام پر لیویز فورس کی ایک پوسٹ کو بھی دھماکے سے تباہ کر دیا گیا جو گیس کمپنی کی معاونت کے لیئے استعمال کی جا رہی تھی، جبکہ گیس کنویں کی مرکزی پائپ لائن کو بھی دھماکے سے تباہ کردیا گیا۔

انہوں نے کہاکہ اسی روز سوراب میں نغاڑ کنڈ کے مقام پرقابض پاکستانی فوج کو ایک حملے میں نشانہ بنایا گیا۔ دشمن فوج پر اس وقت حملہ کیا گیا جب وہ جارحیت میں مصروف تھی۔ کئی گھنٹوں تک جاری رہنے والے اس حملے میں قابض فوج کے چھ اہلکار ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے، جبکہ بی ایل اے کے تین سرمچار سنگت وحید عرف باہوٹ، سنگت محمد رحیم عرف اسفند اور سنگت شاکر رحمٰن عرف اشرف شہید ہوگئے۔

مزید کہاکہ 16 جولائی: نوشکی کے علاقے احمد وال میں سرمچاروں نے لیویز تھانے کو کنٹرول میں لے کر وہاں موجود دو اہلکاروں کو حراست میں لے لیا۔ مذکورہ تھانے کو قابض فوج دورانِ جارحیت استعمال کرتی رہی تھی، جبکہ لیویز اہلکار گاڑیوں سے بھتہ خوری میں بھی ملوث پائے گئے تھے۔ سرمچاروں نے تھانے سے اسلحہ ضبط کرنے کے بعد عمارت کو دھماکہ خیز مواد نصب کرکے تباہ کر دیا۔ حراست میں لیے گئے اہلکاروں کو تنبیہ کے بعد رہا کر دیا گیا۔

ترجمان نے کہاکہ 17 جولائی: قلات میں بدرنگ کے مقام پر سرمچاروں نے قابض فوج کو حملے میں نشانہ بنا کر نقصان سے دوچار کیا۔ اسی روز کیچ میں ہوشاپ کے مقام ‘دمب’ پر قابض فوج کے کیمپ، اور ہوشاپ کے ‘زیرو پوائنٹ’ پر نصب جاسوسی کیمروں کو سرمچاروں نے بیک وقت نشانہ بنا کر تباہ کر دیا۔

18 جولائی: نوشکی میں کچکی اور اسٹیشن کے مقامات پر تجارتی روٹ پر معدنیات لے جانے والی تین گاڑیوں کو نشانہ بنایا گیا۔ دریں اثناء نوشکی میں زرین جنگل کے مقام پر لیویز فورس کی پوسٹ کو سرمچاروں نے دھماکے سے تباہ کر دیا۔

انہوں نے کہاکہ 19 جولائی: پنجگور کے علاقے کلشان میں سرمچاروں نے قابض فوج کے پیدل اہلکاروں کو آئی ای ڈی حملے میں نشانہ بنایا، دھماکے میں دو اہلکار ہلاک اور ایک شدید زخمی ہوا۔ دریں اثناء مستونگ کے علاقے کانک میں ببری کے مقام پر کوئٹہ-تفتان تجارتی روٹ پر سرمچاروں نے گھنٹوں تک ناکہ بندی کی۔

20 جولائی: پنجگور کے علاقے پروم میں قابض فوج کی بکتر بند گاڑی کو سرمچاروں نے آئی ای ڈی حملے میں نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں قابض فوج کو جانی و مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑا۔ اسی روز سرمچاروں نے خاران شہر کے قریب خاران-کوئٹہ مرکزی شاہراہ پر ناکہ بندی کرکے سات گھنٹوں تک اسنیپ چیکنگ کی۔ دریں اثناء دالبندین میں پھاٹک کے مقام پر سرمچاروں نے کوئٹہ-تفتان تجارتی روٹ کا کنٹرول حاصل کرکے اسنیپ چیکنگ کی، جبکہ ایک لیویز پوسٹ کو دھماکہ خیز مواد نصب کرکے تباہ کر دیا۔ علاوہ ازیں نوشکی کے علاقے کچکی میں کوئٹہ-تفتان تجارتی روٹ پر ایک مال بردار گاڑی کو سرمچاروں نے نذرِ آتش کرکے تباہ کردیا۔

ترجمان نے کہاکہ 21 جولائی: مستونگ کے علاقے دشت میں سرمچاروں نے گیس پائپ لائن کو دھماکہ خیز مواد نصب کر کے تباہ کردیا۔ اسی روز خاران کے علاقے تازینہ میں قابض فوج نے جارحیت کی غرض سے پیش قدمی کی کوشش کی جسے سرمچاروں نے ناکام بنا دیا۔ بزدل دشمن نے کواڈ کاپٹر سے عام آبادیوں پر گولے گرائے جس کے نتیجے میں مال مویشیوں کو نقصان پہنچا۔

22 جولائی: بسیمہ کے علاقے دُرگ میں سرمچاروں نے پاکستانی فورسز کی پوسٹ کو دھماکے سے تباہ کردیا، مذکورہ پوسٹ قابض فوج کی جانب سے مختلف اوقات میں استعمال کی جاتی رہی تھی۔ دریں اثناء کوہلو کے علاقے ہوسڑی میں سرمچاروں نے لیویز فورس کی ایک پوسٹ کو دھماکہ خیز مواد نصب کر کے تباہ کر دیا۔ اسی روز دالبندین کے علاقے چارسر میں کوئٹہ-تفتان تجارتی روٹ پر معدنیات لے جانے والی ایک گاڑی کو سرمچاروں نے نذرِ آتش کر کے تباہ کر دیا۔

بیان میں کہاکہ 23 جولائی: خاران کے علاقے دالی میں سرمچاروں نے قابض فوج کو اس وقت حملے میں نشانہ بنایا جب وہ پیش قدمی کی کوشش کر رہے تھے۔

25 جولائی: نوشکی میں احمد وال کے علاقے میں کوئٹہ-تفتان تجارتی روٹ پر سرمچاروں نے قابض پاکستانی فوج کی متعدد گاڑیوں کے قافلے کو گھات لگا کر حملے میں نشانہ بنایا، حملے میں قابض فوج کے کم از کم چار اہلکار ہلاک اور ڈی ایس پی سمیت متعدد اہلکار زخمی ہو گئے۔ دریں اثناء مستونگ کے علاقے دشت کمبیلا میں سرمچاروں نے قابض فوج کی گاڑی کو آئی ای ڈی حملے میں نشانہ بنا کر نقصان سے دوچار کیا۔

انہوں نے کہاکہ 26 جولائی: کوہلو کے علاقے ہوسڑی میں سرمچاروں نے قابض پاکستانی فورسز (اے ٹی ایف) کے اہلکاروں کو اس وقت گھات لگا کر حملے میں نشانہ بنایا جب وہ علاقے میں جارحیت کی غرض سے پیش قدمی کی کوشش کر رہے تھے؛ حملے میں قابض فورسز کے پانچ اہلکار ہلاک ہو گئے جبکہ دیگر بزدل اہلکار حواس باختہ حالت میں بھاگ نکلے جن میں زخمی اہلکار بھی شامل ہیں۔

دریں اثناء خاران کے علاقے تازینہ میں پیش قدمی کرنے والی قابض فوج پر سرمچاروں نے مارٹر گولے فائر کرکے جانی نقصان سے دوچار کیا اور انہیں پسپا کردیا۔ اسی روز خاران شہر کے قریب کوئٹہ-خاران روڈ پر سرمچاروں نے قابض فورسز (سی ٹی ڈی) کے قافلے کو مسلح حملے میں نشانہ بنایا، قابض فورسز کی دو گاڑیاں براہِ راست حملے کی زد میں آئیں جس کے نتیجے میں متعدد اہلکار ہلاک و زخمی ہوگئے۔

انہوں نے کہاکہ مزید برآں چاغی کے علاقے نوکچاہ میں کوئٹہ-تفتان تجارتی روٹ پر سرمچاروں نے آٹھ بڑی گاڑیوں کو نذرِ آتش کرکے تباہ کر دیا، جبکہ سوراب میں گدر جوری کراس اور ٹوبو کراس پر ناکہ بندیاں قائم کرکے مرکزی شاہراہ پر گھنٹوں تک اسنیپ چیکنگ جاری رکھی۔

27 جولائی: پنجگور میں ایئرپورٹ روڈ پر سرمچاروں نے قابض فوج کے قافلے میں شامل ایک گاڑی کو ریموٹ کنٹرول آئی ای ڈی سے نشانہ بنا کر نقصان سے دوچار کیا۔ دریں اثناء کوئٹہ کے علاقے ڈغاری میں قابض فوج کی ایک بکتر بند گاڑی کو سرمچاروں نے آئی ای ڈی حملے میں نشانہ بنایا۔ مزید برآں نوشکی کے علاقے احمد وال (ہارونی) میں قابض فوج کی گاڑیوں کے قافلے کو حملے میں نشانہ بنا کر نقصان سے دوچار کیا، جبکہ واشک میں ارماگئے کے مقام پر سی پیک روٹ پر سرمچاروں نے قابض فوج کے قافلے کو مسلح حملے میں نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں قابض فوج کے دو اہلکار موقع پر ہلاک ہو گئے۔

مزید کہاکہ 28 جولائی: نوشکی شہر سے متصل غریب آباد میں سرمچاروں نے قابض فوج کی چوکی کو راکٹ و دیگر ہتھیاروں سے نشانہ بنایا، حملے میں قابض فوج کے چار اہلکار موقع پر ہلاک ہو گئے۔ اس دوران قابض فوج کی ایک گاڑی نے پیش قدمی کی کوشش کی جسے گھات لگائے سرمچاروں کے دوسرے دستے نے حملے میں نشانہ بنا کر مزید نقصان سے دوچار کیا۔

اسی روز خاران شہر کے قریب بابِ خاران کے مقام پر سرمچاروں نے پولیس کے قافلے کو اس وقت حملے میں نشانہ بنایا جب انہوں نے علاقے میں پیش قدمی کی کوشش کی؛ بعد ازاں دوپہر کے وقت قابض پاکستانی فوج نے علاقے میں پیش قدمی کی کوشش کی جسے سرمچاروں نے نشانہ بنایا، اس حملے میں قابض فوج کے کم از کم تین اہلکار ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے۔

جیئند بلوچ نے کہاکہ تربت کے علاقے کلاتک میں سرمچاروں نے علاقے کا کنٹرول حاصل کر کے مختلف مقامات پر ناکہ بندیاں قائم کیں اور اسنیپ چیکنگ جاری رکھی۔ بی ایل اے کا ہراول دستہ ‘فتح اسکواڈ’ اس آپریشن کا حصہ تھا؛ فتح اسکواڈ کے سرمچاروں نے خفیہ اطلاع پر ایک خفیہ ٹھکانے پر چھاپہ مارتے ہوئے وہاں موجود قابض پاکستانی فوج کے ملٹری انٹیلی جنس (ایم آئی) کے سات کارندوں کو حراست میں لے لیا، مذکورہ کارندے بھیس بدل کر گرد ونواح کے علاقے میں فعال تھے۔ قابض پاکستانی فوج نے اس دوران پیش قدمی کی کوشش کی جسے سرمچاروں نے حملے میں نشانہ بنایا، ان جھڑپوں میں قابض فوج کے چار اہلکار ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے جبکہ بی ایل اے کے دو جانباز سرمچار سنگت قدیر بلوچ عرف سعود اور سنگت مقصود عرف بیبگر شہید ہوگئے۔

اسی روز خاران میں نوروز قلات کے مقام پر سرمچاروں نے قابض فوج کو مسلح حملے میں نشانہ بنایا، بی ایل اے سنائپرز کے حملے میں قابض فوج کا ایک اہلکار ہلاک ہو گیا جس کے باعث قابض فوج پسپائی پر مجبور ہوگئی۔

انہوں نے کہاکہ 29 جولائی: پنجگور کے علاقے گوارگو میں سرمچاروں نے قابض فوج کو اس وقت حملے میں نشانہ بنایا جب وہ علاقے میں پیش قدمی کی کوشش کر رہے تھے، حملے میں قابض فوج کے تین پیدل اہلکار موقع پر ہلاک ہوگئے۔ بعد ازاں دشمن فوج نے بکتر بند گاڑیوں کے ہمراہ پیش قدمی کی کوشش کی جس پر سرمچاروں نے دو بکتر بند گاڑیوں کو نشانہ بنایا۔ دریں اثناء مچھ میں سرمچاروں نے قابض فوج کی گاڑی کو ریموٹ آئی ای ڈی حملے میں نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں قابض فوج کو جانی و مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑا۔

30 جولائی: خاران میں کلی کریم بخش کے قریب سرمچاروں نے قابض فوج کے قافلے کو حملے میں نشانہ بنا کر نقصان سے دوچار کیا، بعد ازاں قابض فوج کے پیدل اہلکاروں کو ریموٹ کنٹرول آئی ای ڈی حملے میں نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں تین اہلکار زخمی ہوگئے۔ اسی روز پنجگور کے علاقے پل آباد میں قابض فوج کی ایک پوسٹ کو دھماکہ خیز مواد نصب کرکے تباہ کر دیا، مذکورہ پوسٹ قابض فوج کی جانب سے مختلف اوقات میں زیرِ استعمال رہی تھی۔

انہوں نے کہاکہ 31 جولائی: خضدار کے علاقے زیدی میں سرمچاروں نے ‘ڈیتھ اسکواڈ’ کے کارندوں کو ایک حملے میں نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں پانچ ڈیتھ اسکواڈ کارندے موقع پر ہلاک ہوگئے۔ بعد ازاں قابض فوج نے علاقے میں پیش قدمی کی کوشش کی تو سرمچاروں نے قابض فوج کے قافلے میں شامل دو گاڑیوں کو براہِ راست حملے میں نشانہ بنایا جس میں متعدد اہلکار ہلاک و زخمی ہوگئے۔

آخر میں کہاکہ بلوچ لبریشن آرمی ان تمام معرکوں میں جان کا نذرانہ پیش کرنے والے شہداء، سنگت وحید عرف باہوٹ، سنگت محمد رحیم عرف اسفند، سنگت شاکر رحمٰن عرف اشرف، سنگت قدیر بلوچ عرف سعود اور سنگت مقصود عرف بیبگر کی عظیم قربانیوں کو شاندار الفاظ میں خراجِ عقیدت اور سرخ سلام پیش کرتی ہے۔ ان جانبازوں نے قومی آزادی کی جدوجہد میں اپنے خون کا نذرانہ دے کر جرات اور پائیدار عزم کی نئی تاریخ رقم کی ہے۔ بی ایل اے اس عزم کا اعادہ کرتی ہے کہ شہداء کا خون اور ان کا پیغام تحریک کے لیئے مشعلِ راہ رہے گا، اور بلوچ سرزمین کی مکمل آزادی کے بنیادی مقصد کے حصول تک قابض فورسز کے خلاف جدوجہد اسی شدت سے جاری رکھی جائے گی۔