کوئٹہ میں قابض پاکستانی فوج کے دو کیمپوں پر کنٹرول، 14 اہلکار ہلاک، اسلحہ ضبط – بلوچ لبریشن آرمی

1

بلوچ لبریشن آرمی کے ترجمان جیئند بلوچ نے میڈیا کو جاری بیان میں کہا ہے کہ سرمچاروں نے ایک مربوط اور منظم حکمتِ عملی کے تحت کوئٹہ کے نواحی علاقے میں قابض پاکستانی فوج کی دو اہم اور مرکزی کیمپوں پر متوازی حملے کرتے ہوئے چودہ اہلکاروں کو موقع پر ہی ہلاک کردیا اور دونوں کیمپوں پر مکمل کنٹرول حاصل کرلیا۔ اس کامیاب پیش قدمی کے بعد بی ایل اے کے سرمچاروں نے دشمن کے دونوں کیمپوں کو اپنے مکمل محاصرے میں لے کر وہاں قائم تمام تر اسلحہ خانوں کو اپنی تحویل میں لے لیا، اور وہاں موجود بھاری مقدار میں جدید عسکری اسلحہ، گولہ بارود، مواصلاتی آلات اور دیگر اہم عسکری سامان ضبط کرکے اپنے محفوظ مقام کی جانب منتقل کردیا۔ 

ترجمان نے کہاکہ گزشتہ روز شام چھ بجے کے قریب بلوچ لبریشن آرمی کے سرمچاروں نے کوئٹہ شہر سے متصل دو اہم اور مقامات ‘ولی تنگی’ اور ‘سپین کاریز’ میں قائم قابض پاکستانی فوج کی اہم پوسٹوں پر بیک وقت اور شدید حملوں کا آغاز کیا۔ اس معرکے کے دوران بی ایل اے کے خصوصی دستے ‘فتح اسکواڈ’ نے پیش قدمی کرتے ہوئے قابض فوج کی پوزیشنز پر ضربیں لگا کر انہیں پسپائی پر مجبور کردیا اور دیگر عسکری دستوں کو حتمی پیش قدمی کے لیئے آپریشنل اور فیلڈ معاونت فراہم کی۔ سرمچاروں نے ولی تنگی کے محاذ پر دشمن کا گھیراؤ کر کے قابض فوج کے نو اہلکاروں کو ہلاک کردیا اور پوسٹ پر مکمل کنٹرول حاصل کرلیا، جبکہ دریں اثناء سپین کاریز کے مقام پر دوسرے دستے نے پیش قدمی کرتے ہوئے قابض فوج کے پانچ اہلکاروں کو ہلاک کر کے دشمن کی تمام تر دفاعی لکیروں کو توڑا اور اس پوسٹ پر بھی اپنا کنٹرول قائم کر لیا۔

مزید کہاکہ اس معرکے میں بی ایل اے کے ہراول دستے ‘فتح اسکواڈ’ نے انتہائی اعلیٰ مہارت، نظم اور بے مثال جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے قابض فوج کو کاری ضربیں لگائیں اور اس پیچیدہ آپریشن کو کامیابی کے ساتھ اپنے منطقی انجام تک پہنچایا۔ اس آپریشن کے دوران بلوچ لبریشن آرمی کے دو جانباز سرمچار، سنگت میر عالم کیازئی عرف سلمان اور سنگت نور احمد سمالانی عرف نوتک، مردانہ وار دشمن کا مقابلہ کرتے ہوئے جامِ شہادت نوش کرگئے۔ بی ایل اے اپنے ان عظیم شہداء کو ان کی لاثانی قربانی، غیر متزلزل قومی جذبے اور انقلابی وابستگی پر سرخ سلام پیش کرتی ہے، اور یہ عزم ظاہر کرتی ہے کہ شہداء کا مشن منزلِ مقصود تک جاری رکھا جائے گا۔