دالبندین: تجارتی روٹ پر بڑی گاڑیوں کے قافلے پر مزید تین حملے، ڈی ایس پی زخمی، دو ڈرائیور زیر حراست

1

بلوچستان کے ضلع چاغی میں کوئٹہ تفتان تجارتی روٹ پر کانوائے کے طور پر جانے والی تجارتی گاڑیوں اور ان کی سیکورٹی کو مزید تین حملوں میں نشانہ بنایا گیا۔ حملوں میں ایک گاڑی نذر آتش جبکہ ایک کو حملہ آور اپنے ہمراہ لے گئے جبکہ دو ڈرائیوروں کو بھی مسلح افراد نے حراست میں لے لیا۔

آج صبح دالبندین یک مچ کے مقام پر مسلح افراد نے تجارتی گاڑیوں کے کانوائے اور اس کی سیکورٹی کو حملے میں نشانہ بنایا تھا۔ حملے میں فورسز کی دو گاڑیوں کو شدید نقصانات پہنچا جبکہ اہلکار ہلاک و زخمی ہوگئے۔

مذکورہ کانوائے کو مزید تین مقامات پر حملوں میں نشانہ بنایا گیا جن کے نتیجے میں متعدد گاڑیوں کو نقصان پہنچا جبکہ ان حملوں میں سائندک پروجیکٹ کے قافلوں کو بھی حملوں میں نشانہ بنایا گیا۔

ذرائع کے مطابق مسلح افراد نے دالبندین نوکچاہ کے مقام پر شاہراہ کا کنٹرول سنبھال کر اسنیپ چیکنگ جاری رکھی جبکہ ایک بڑی گاڑی کو نذر آتش و دوسرے کے ٹائر برسٹ کردیئے۔ دریں اثناء چار سر کے مقام پر گاڑیوں و ان کی سیکورٹی کو نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں ڈی ایس پی سمیت دو پولیس اہلکار زخمی ہوگئے۔

مزید برآں چہتر کے مقام پر مسلح افراد سیندک پروجیکٹ کی گاڑیوں اور تجارتی گاڑیوں کے دو قافلوں کو حملوں میں نشانہ بنایا۔ متعدد گاڑیوں کو نقصان پہنچنے سمیت ایک گاڑی کو مسلح افراد نے تحویل میں لے لیا۔

اطلاعات کے مطابق حملوں کے دوران مسلح افراد دو ڈرائیوروں کو بھی حراست میں لیکر اپنے ہمراہ لے گئے ہیں۔

ان حملوں کی ذمہ داری تاحال کسی نے قبول نہیں کی ہے تاہم بلوچ لبریشن آرمی کی جانب سے کوئٹہ تفتان روٹ سمیت دیگر اہم شاہراہوں کو کنٹرول میں لینے کا اعلان کیا جاچکا ہے جبکہ “معاشی ناکہ” بندی” کے تحت دو سو سے قریب گاڑیوں نشانہ بنایا جاچکا ہے۔