سوراب میں فضائی حملہ: ڈاکٹر نسیم بلوچ کا عالمی برادری سے نوٹس لینے کا مطالبہ

177

بلوچ نیشنل موومنٹ کے چیئرمین ڈاکٹر نسیم بلوچ نے سوراب میں گزشتہ رات ہونے والے فضائی حملے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ تصاویر دیکھ کر ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے یہ غزہ یا فلسطین کی ہوں، جہاں بمباری میں بچوں، بزرگوں اور دیگر شہریوں کی جانیں گئی ہیں، لیکن یہ غزہ نہیں بلکہ بلوچستان ہے۔

ڈاکٹر نسیم بلوچ کے مطابق گزشتہ رات پاکستانی فورسز نے بلوچستان کے علاقے سوراب میں بمباری کی، جس کے نتیجے میں 27 شہریوں کی ہلاکت کی اطلاعات ہیں، جن میں بڑی تعداد بچوں کی بتائی جا رہی ہے۔ حملے کے بعد سامنے آنے والی زخمی اور جاں بحق شہریوں، خصوصاً بچوں اور بزرگوں کی تصاویر کو انہوں نے انتہائی دلخراش قرار دیا۔

انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں یہ کوئی الگ تھلگ واقعہ نہیں بلکہ بلوچ عوام کئی دہائیوں سے جبری گمشدگیوں، ماورائے عدالت قتل، فوجی آپریشنز اور منظم تشدد کا سامنا کر رہے ہیں۔

ڈاکٹر نسیم بلوچ نے اسے بلوچ عوام کی نسل کشی قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ صورتحال روز بروز شدت اختیار کر رہی ہے اور عالمی برادری کو اس پر فوری توجہ دینی چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ بلوچ عوام کی تکالیف 1948 میں پاکستان کی جانب سے بلوچستان پر قبضے کے بعد سے جاری ہیں۔ دنیا جس طرح غزہ کے بچوں کے لیے آواز بلند کرتی ہے، بلوچستان کے بچوں کو بھی اسی توجہ، یکجہتی اور تحفظ کی ضرورت ہے۔