سوراب گدر کی دردناک کہانی – مہراب بلوچ

1

سوراب گدر کی دردناک کہانی

تحریر: مہراب بلوچ

دی بلوچستان پوسٹ

14 اگست آنے والا تھا۔ سیکیورٹی فورسز اپنی حفاظت کے لیے پورے بلوچستان کے شہروں، بازاروں، شاہراہوں اور کاروباری مراکز کو بند کر رہے تھے۔ وہ جانتے تھے کہ 14 اگست قریب آنے سے اُن پر حملے بڑھ سکتے ہیں۔ وہ اسی کوشش میں تھے کہ کسی نہ کسی طریقے سے خود کو بلوچ سرمچاروں کے حملوں سے محفوظ رکھیں۔ لیکن وہ ایک اور کوشش میں بھی مگن تھے کہ 14 اگست، سیکیورٹی اور حفاظت کے نام پر بلوچوں کا خون کیسے بہایا جائے اور لوگوں کو خوف کے سائے تلے رکھا جائے۔

اسی تسلسل میں 11 اور 12 اگست کی درمیانی رات آ گئی۔ لوگ اپنے معمولاتِ زندگی کے مطابق رات کو اپنے گھروں میں گئے، لیکن اسی نام نہاد 14 اگست اور جشنِ آزادی کی تیاریوں اور پاکستانی فوج کی سیکیورٹی نے بلوچستان میں لوگوں کے درمیان خوف کا ماحول بنائے رکھا تھا۔ لوگوں کے درمیان یہی خوف تھا کہ کسی بھی وقت پاکستانی فوج اُن پر اپنے مظالم شروع کر سکتی ہے۔ ایسے موقعوں پر جبری گمشدگیاں، لاشیں، گھروں پر چھاپے اور یہاں تک کہ جیٹ طیاروں اور ڈرون حملے بھی پاکستانی فوج کی طرف سے کیے جا سکتے ہیں۔ اسی طرح سوراب کے علاقے گدر میں لوگ اس خوف کو محسوس کر رہے تھے، لیکن وہ اسی خوف کے سائے تلے زندگی گزار رہے تھے اور گزار رہے ہیں۔

رات کو بچے، بزرگ اور جوان، تمام لوگ اپنے بستروں کی طرف گئے اور سکون سے سو گئے، لیکن یہ رات سوراب گدر کے اُس خاندان کے لیے ایک قہر بننے جا رہی تھی۔ اُن لوگوں کو یہ پتا نہیں تھا کہ اُن میں سے کچھ لوگ اپنی آخری نیند سونے جا رہے ہیں اور باقی بچے کچھے وقت سے پہلے اٹھنے پر مجبور ہوں گے۔ اسی دوران رات اپنی منزل طے کرتی جا رہی تھی کہ پاکستانی جیٹ طیاروں کی آواز نے لوگوں کو نیند سے جگا دیا۔ اسی کشمکش میں سوراب گدر میں ایک خاندان کے گھر پر جیٹ طیاروں نے بمباری شروع کی۔ ایسا لگ رہا تھا کہ کسی دو افواج کے درمیان گھمسان کی جنگ شروع ہو گئی ہے، جس میں فضائی افواج حصہ لے رہی ہوں۔ دیکھتے ہی دیکھتے اس پورے خاندان کا گھر مٹی اور ملبے کے ڈھیر میں بدل گیا۔ اس میں شیرخوار بچوں سے لے کر 80 سالہ بزرگ مرد و خواتین تک، کوئی بھی محفوظ نہ رہا۔ 27 لوگ شہید ہوئے اور درجنوں زخمی ہوئے۔

ایک ایسا منظر تھا کہ پورا گھر مٹی کے ڈھیر میں تبدیل ہو چکا تھا۔ کئی لوگوں کی لاشیں ایسی تھیں کہ ہاتھ لگانے کے قابل نہیں تھیں۔ اس سے زیادہ دردناک یہ تھا کہ اس بمباری کی وجہ سے چھوٹے معصوم بچے ملبے تلے دب گئے تھے اور کچھ لوگ ایسے زخمی تھے کہ لوگ اُن پر نظریں پڑنے سے دل کے مریض بن سکتے تھے۔ ایک ایسا منظر تھا کہ انسانیت کی پوری کھال اتر گئی تھی۔ اس طرح 14 اگست کے نام نہاد جشنِ آزادی کے درمیان بلوچ ماؤں، بزرگوں اور بچوں کا خون بہتے ہوئے بلوچ کی مظلومیت اور ریاستی مظالم کا ایک نیا باب کھل گیا۔

لیکن یہ انتہائی افسوس ناک بات رہی کہ دوسرے دن جب لوگوں نے اس کی مذمت کی اور پاکستانی مظالم کو بے نقاب کیا تو حسبِ روایت پاکستانی فوج نے اس مسئلے سے توجہ ہٹانے اور اپنی درندگی کو جواز دینے کے لیے منفی پروپیگنڈا شروع کر دیا اور اس حملے کو مسلح افراد کے حملے کی کوشش قرار دیا۔ لیکن پاکستانی فوج اور اُس کے میڈیا کا ہر کسی کے سامنے آشکار ہے۔ سب جانتے ہیں کہ وہ اپنے مظالم، بالخصوص بلوچ نسل کشی، کو جواز دینے کے لیے منفی پروپیگنڈے کا سہارا کیسے لیتے ہیں۔ یہ بلوچ نسل کشی کے تسلسل کا حصہ تھا، جس میں کئی لوگوں کی جانیں گئیں۔ یہ سلسلہ آگے بھی جاری ہے۔ پتا نہیں کہ اگلا ہدف کون سا بد نصیب خاندان ہو گا۔


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔