سوراب فضائی حملے میں متعدد افراد شہید ہوئے ہیں۔ سابق وزیر اعظم پاکستان عمران خان

0

سابق پاکستانی وزیراعظم عمران خان نے بلوچستان کے ضلع سوراب کے علاقے گدر میں فضائی بمباری پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ اس واقعے میں متعدد افراد شہید اور زخمی ہوئے، جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔

عمران خان نے اپنے بیان میں کہا کہ بلوچستان سمیت ملک کے مختلف علاقوں میں ڈرون حملوں اور فوجی آپریشنز کے ذریعے دہشت گردی کے مسئلے سے نمٹنے کی پالیسی مؤثر ثابت نہیں ہو رہی۔ ان کے بقول، ایسے آپریشنز کو نہ عوامی حمایت حاصل ہے، نہ ہی سیاسی جماعتوں اور عوامی نمائندوں کی مکمل تائید، جس کے باعث ان کی کامیابی پر سوالات اٹھتے ہیں۔

انہوں نے الزام عائد کیا کہ آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر کی پالیسیاں ملک کے مفادات کے لیے نقصان دہ ہیں اور دعویٰ کیا کہ موجودہ حکمتِ عملی کے نتیجے میں فوج، پولیس اور عام شہریوں سمیت پاکستانیوں کی جانیں ضائع ہو رہی ہیں۔

عمران خان نے کہا کہ پاکستان میں کئی دہائیوں سے بڑے پیمانے پر فوجی آپریشنز کے ذریعے دہشت گردی کے خاتمے کی کوشش کی جاتی رہی ہے، تاہم ان کے مطابق یہ مسئلہ مکمل طور پر حل نہیں ہو سکا۔

انہوں نے خبردار کیا کہ فوجی کارروائیوں کے دوران ہونے والا ’’کولیٹرل ڈیمیج‘‘ نہ صرف شہری ہلاکتوں کا سبب بنتا ہے بلکہ مقامی آبادی کی نقل مکانی اور بے دخلی کا بھی باعث بنتا ہے۔

سابق وزیراعظم نے مزید کہا کہ دہشت گردی کے مستقل خاتمے کے لیے صرف فوجی طاقت پر انحصار کرنے کے بجائے ایک جامع اور سیاسی حکمتِ عملی کی ضرورت ہے۔ ان کے مطابق، پائیدار امن کے لیے بند کمروں میں کیے گئے فیصلوں کے بجائے سیاسی بصیرت، عوامی شمولیت اور معاملہ فہمی پر مبنی پالیسی اختیار کرنا ضروری ہے۔

عمران خان نے اپنے بیان میں فوجی حکمرانی پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ان کے نزدیک فوجی قیادت عموماً مسائل کے عسکری حل کو ترجیح دیتی ہے، جبکہ دیرپا امن کے لیے سیاسی حل ضروری ہے۔

انہوں نے موجودہ حکومت کی سیاسی حیثیت اور اہلیت پر بھی سوال اٹھائے اور اسے ’’فارم 47 کی حکومت‘‘ قرار دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ موجودہ حکمران قیامِ امن کے لیے مؤثر کردار ادا کرنے کی اہلیت نہیں رکھتے۔

عمران خان نے زور دیا کہ پاکستان میں دہشت گردی کے خاتمے کے لیے ایسی جامع حکمتِ عملی کی ضرورت ہے جو عسکری اقدامات کے ساتھ ساتھ سیاسی، سماجی اور عوامی عوامل کو بھی مدنظر رکھے۔