بی ایل اے سربراہ بشیر زیب کے عسکری وسائل و انتظام کے حوالے سے تصنیف “مڈی” شائع

2

بلوچ آزادی پسند تنظیم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) کے سربراہ بشیر زیب بلوچ کا تحریر کردہ ایک نیا تنظیمی و عسکری کتابچہ بعنوان “مڈی” جاری کر دیا گیا ہے۔ جون 2026 میں بی ایل اے کے نشریاتی ادارے “ہکّل پبلیکیشنز” کی جانب سے شائع ہونے والے اس کتابچے میں تنظیم کے مستقبل کے جنگی لائحہ عمل، اسلحہ و بارود کی سائنسی مینیجمنٹ اور سخت تنظیمی نظم و ضبط کے لیے تفصیلی قوانین وضع کیے گئے ہیں۔

کتابچے کو تین اہم حصوں “مڈی کی معیشت”، “مڈی کا ضابطہ اخلاق” اور “نفسیات” میں تقسیم کیا گیا ہے، جس میں روایتی مسلح مزاحمت کو جدید گوریلہ جنگ میں تبدیل کرنے پر زور دیا گیا ہے۔

کتابچے کے مطابق، بی ایل اے کے عسکری، سیاسی اور لاجسٹک ڈھانچے میں ہر قسم کے اسلحہ جات، گولہ بارود، دھماکہ خیز مواد اور مواصلاتی آلات کو جامع طور پر “مڈی” کا عنوان دیا گیا ہے۔ مصنف نے واضح کیا ہے کہ یہ وسائل محض مادی اوزار نہیں بلکہ قومی امانت ہیں۔

کتابچے میں عالمی عسکری تاریخ، ماؤزے تنگ کی “طویل المدتی جنگ پر”، ویتنامی جنرل وو نگوین گیاپ کی رسد مینیجمنٹ، اور آئرش ریپبلکن آرمی (IRA) کے “کوارٹر ماسٹر جنرل کارپس” جیسے ماڈلز کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ طویل جنگوں میں مادی کمی سے بچنے کے لیے سائنسی انتظام ناگزیر ہے۔

کتابچے کے دوسرے حصے میں مڈی کے حوالے سے سخت قوانین کا اعلان کیا گیا ہے جس میں تحت اندھا دھند فائرنگ کی سخت حوصلہ شکنی کی گئی ہے اور “نپے تلے فائر” اور عسکری تحمل کو گوریلہ کی اصل طاقت قرار دیا گیا ہے۔

کتابچے کے آخری حصے میں وسائل کے نفسیاتی پہلوؤں پر تفصیلی بحث کی گئی ہے۔

بشیر زیب بلوچ کا کہنا ہے کہ گوریلہ جنگ صرف میدان میں نہیں بلکہ ذہنوں کے اندر لڑی جاتی ہے۔ ان کے مطابق، جب ایک گوریلہ دشمن کا اسلحہ چھین کر اسی کے خلاف استعمال کرتا ہے تو یہ دشمن کے سپاہی کے اندر ایک گہری نفسیاتی اور شناختی دراڑ پیدا کرتا ہے، جو اس کی عسکری برتری کو مفلوج کر دیتی ہے۔

انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ مڈی کا اخلاقی استعمال اور عوام کی حمایت ہی کسی تحریک کی بقا کی اصل ضامن ہوتی ہے۔

خیال رہے بلوچ لبریشن آرمی کی جانب سے مختلف موضوعات پر تسلسل کیساتھ پرنٹ اور پی ڈی ایف کی شکل میں کتابیں شائع ہوتی رہی ہے جن میں تربیتی کتابوں سمیت تنظیم کے یونٹس کے حوالے سے کتابیں شامل ہیں۔

بی ایل اے سربراہ بشیر زیب بلوچ کی اس سے قبل رواں سال ‘موکش’ (رہنماء/رہبر) کے نام سے ایک کتاب شائع ہوئی جس میں وہ مختلف موضوعات کو زیربحث لاچکے ہیں جبکہ قبل ازیں ‘مہر گہوش’ کے نام سے ایک کتاب بھی شائع ہوئی تھی۔ مزید برآں وہ مختلف اوقات میں ان کے مضامین مخلتف رسائل اور ویب سائٹس پر شائع ہوتے رہے ہیں۔