البُرز اور طاقت – بچکند بلوچ

1

البُرز اور طاقت

تحریر: بچکند بلوچ

دی بلوچستان پوسٹ

البُرز، جو کئی سالوں سے بلوچ مزاحمتی تحریک کا حصہ ہے، سیاسی پلیٹ فارم سے نکل کر پہاڑوں کی طرف چلا گیا۔ وہ تحریک کو رومانوی یا مہم جوہانہ طرز کا قائل نہیں ہے کیونکہ وہ سمجھتا ہے کہ اگر کوئی تحریک رومانوی یا مہم جوئی کے طریقہ کار کو زیادہ زور دے تو وہ تحریک نہیں رہتی بلکہ ایک ایسا مزاج طور پر ابھرتی ہے جس کی موت اس کی گردن پر ہمیشہ سے سوار ہوتی ہے۔ اسی لیے وہ تحریک کو ایک نئی انسانی و اجتماعی تخلیق کے طور پر پرکھتا ہے جو سماج میں نہ صرف تبدیلی لائے بلکہ تہذیب کا بھی ارتقا کرے جس کے ذریعے دنیا میں بھی ایک پُرسکون انسانی رویے اور شانتی کا نظام برپا ہو۔ وہ اس نقطہ نظر سے جنگ اور تحریک کو دیکھتا ہے۔

البُرز نہ صرف ایک ذہین اور خواندہ نوجوان ہے بلکہ حربِ فن کے ایک ماہر سپاہی کے طور پر بھی جانا جاتا ہے۔ اس کے بارے میں مشہور ہے کہ وہ جنگ کو محض ایک روایت کے طور پر نہیں پرکھتا، بلکہ اسے ایک سیاسی و قومی طاقت کے طور پر دیکھتا ہے، اور سائنسی طریقہ کار کی بنیاد پر وہ ہمیشہ سے حکمت عملیوں پر سوال اٹھاتا رہا ہے۔ اس کا عاجزانہ رویہ، نرم دلی، لازوال جدوجہد، اپنی سنگتوں کے ساتھ ہاتھ بٹانا، اور ہر کسی کے ساتھ ان کے مزاج اور طبیعت کے مطابق برتاؤ کرنا، اس کی بردباری اور سنجیدہ شخصیت کے اہم پہلو ہیں۔ یہی اس کی بے مثال مہربانی اور صلاحیت ہے جس نے سنگتوں کے دلوں میں گھر بنایا ہے، اسی لیے جب سنگت اس کے ساتھ بیٹھتے ہیں تو ان کے ساتھ سوال، مکالمات اور بحث و مباحثہ کا ایک دوستانہ ماحول سجتا ہے۔

اس کے باوجود بعض دفعہ ذمہ داران نے البُرز سے کہا: “آپ ایک باشعور شخص ہیں، حربِ فن کو نہ صرف علمی حکمتوں میں تبدیل کرنے میں ماہر ہیں بلکہ اس کو سیاسی، معاشی اور سماجی تبدیلی اور مفادات کی غرض سے استعمال کرنے کی صلاحیت سے بھی سرشار ہیں، تو آپ ذمہ داری کیوں نہیں لیتے؟”

لیکن البُرز کبھی بھی اس بات پر راضی نہیں ہوتا تھا، کیونکہ اس کے لیے ذمہ داری صرف ایک عہدے کا نام نہیں ہے بلکہ اس کے نقطہ نظر کے مطابق ذمہ داری ایک ایسا عمل ہے جو انقلابی طاقت کو سماج کے اندر سمونے کا جوہر رکھتا ہو۔ لیکن وہ سمجھتا تھا کہ اس کے پاس ابھی تک طاقت کو سماج میں منتقل کرنے کی صلاحیت نہیں ہے۔

رات کے 2:47 بج چکے تھے۔ البُرز، جو ایک اونچی پہاڑی پر اپنے ساتھیوں کی حفاظت اور دشمن کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے کے لیے بیٹھا تھا، رات کی گہری تاریکی میں خاموشی سے دور تک دیکھ رہا تھا۔ اس کے ہاتھ میں ایک M4-16 تھی اور وہ وقفے وقفے سے تھرمل کو آنکھوں سے لگا لیتا تاکہ دور سے آتی ہوئی کسی حرکت، کسی سائے یا دشمن کے کسی ممکنہ وجود کو دیکھ سکے۔

اس کے پاس ایک چاگل رکھا تھا۔ چاگل ایک بلوچی لفظ ہے، پانی رکھنے کی روایتی بوتل، جس کے گرد کپڑا لپٹا ہوتا ہے تاکہ پانی ٹھنڈا رہے۔ ساتھ ایک قلم اور ایک پاکٹ ڈائری پڑی تھی۔ قریب ہی کلاوز وٹز کی کتاب ‘آن وار’ رکھی ہوئی تھی، جس کے صفحہ نمبر 274 کے درمیان ایک پنسل دبی ہوئی تھی۔ اس کے گلے میں ایک چین تھی اور اس چین میں ایک گولی۔ وہ گولی اس نے اپنے لیے رکھی تھی، اس آخری لمحے کے لیے جب دشمن اسے گرفتار کرنے کے قریب ہو۔ وہ نہیں چاہتا تھا کہ اس کی زندگی کا آخری فیصلہ دشمن کے ہاتھ میں ہو۔ اس لیے اس نے اپنے پاس ایک ایسی گولی محفوظ رکھی تھی جسے ضرورت پڑنے پر اپنے سینے میں اتار کر وہ خود کو زمین کی آغوش میں سونپ سکے۔

اس کے پاس ایک چھوٹا سا چاقو، نائٹ ویژن، کیپٹن سگریٹ کا پیکٹ اور ایک ماچس بھی پڑی تھی۔ اس نے ایک پرانی سلی ہوئی جیکٹ پہن رکھی تھی۔ کپڑے اتنے بوسیدہ تھے جیسے کئی مہینوں سے بدن سے جدا نہ ہوئے ہوں اور پاؤں میں پرانے بلوچی چپل تھے۔ دور سے دیکھنے والا اسے انسان کے بجائے پہاڑ کی خاموشی میں کھڑا کوئی بے جان پتلا سمجھ سکتا تھا۔

کچھ دیر بعد البُرز نے آہستہ سے تھرمل کو آنکھوں سے ہٹایا۔ اس نے پاس پڑا سگریٹ کا پیکٹ اٹھایا، ایک سگریٹ نکالی، منہ میں رکھی اور ماچس سے جلا لی۔ دو کش لینے کے بعد اس نے سگریٹ بجھا دی، اسے واپس جیب میں رکھا اور دوبارہ دور دیکھنے کے لیے تھرمل آنکھوں سے لگا لی۔ وہ پھر سے ایک پتلا بن گیا تھا۔ ایک ایسا پتلا، جس کی آنکھیں جاگ رہی تھیں۔

رات کے ساڑھے تین بج چکے تھے۔ اتنی دیر سے ایک ہی جگہ بیٹھے بیٹھے البُرز کے ذہن میں ایک سوال مسلسل ابھر رہا تھا: “طاقت کیا ہے؟” وہ ابھی اس سوال کا کوئی جواب تلاش ہی کر رہا تھا کہ بلوچان وہاں آ پہنچا۔

بلوچان بھی سیاسی کیڈر تھا۔ جب البُرز سیاست میں اپنا کردار ادا کر رہا تھا تو اس دورانیے میں بلوچان بھی زون کا صدر تھا۔ آج وہ پہاڑوں میں بلوچ آزادی پسندوں کے ساتھ اپنا قومی فرض نبھا رہا ہے۔ اس نے البُرز کے قریب آ کر تھرمل کی طرف دیکھا اور پوچھا: “تو اب بھی وہیں بیٹھا دشمن کی راہ تک رہا ہے؟”

البُرز نے عاجزی سے جواب دیا: “کمانڈر شیرو نے مجھے یہی حکم دیا ہے۔ یہاں سے ایک انچ بھی ہلنے کی اجازت نہیں ہے۔”

بلوچان نے مسکراتے ہوئے کہا: “کمانڈر شیرو نے مجھے تمہارے پاس بھیجا ہے تاکہ تھوڑی سی گفتگو ہو جائے اور تم سو نہ جاؤ۔”

البُرز نے آخری بار تھرمل بلوچان کے ہاتھ میں دینے سے پہلے اسے آنکھوں سے لگایا۔ اس نے دور تک دیکھا، کہیں کوئی روشنی، کوئی سایہ یا کوئی حرکت دکھائی نہ دی۔ اس نے تھرمل واپس رکھی، پھر اسے ‘آن وار’ کی کتاب کے اوپر رکھ دیا اور اطمینان سے بلوچان کے پاس بیٹھ گیا۔ بلوچان نے سگریٹ کا پیکٹ نکالا، ایک سگریٹ نکالی، ماچس سے جلائی، دو کش لیے اور پھر اسے بجھا کر جیب میں رکھ لیا۔ اب دونوں آمنے سامنے بیٹھے تھے۔ چاروں طرف خاموشی چھائی ہوئی تھی۔ پہاڑ خاموش تھا۔ رات خاموش تھی اور اس خاموشی کے اندر البُرز کے ذہن میں وہی سوال ایک بار پھر ابھرا: “طاقت کیا ہے؟” البُرز نے سوچا کہ شاید یہ سوال بلوچان سے پوچھ لینا چاہیے۔ شاید اسے کوئی سنجیدہ جواب مل جائے۔ اس سے پہلے کہ وہ کچھ کہتا، بلوچان نے پوچھ لیا:

“کیا کوئی بات تمہیں پریشان کر رہی ہے؟”

البُرز کی نظریں زمین پر جمی ہوئی تھیں۔ وہ اپنے ہاتھ میں پکڑے ایک چھوٹے سے پتھر کو انگلیوں کے درمیان گھما رہا تھا۔ اس نے دھیرے سے کہا:

“میں آج کل طاقت کے بارے میں جاننے کی جسارت کر رہا ہوں۔ سوچ رہا ہوں کہ طاقت آخر ہے کیا؟”

بلوچان ایک ہٹا کٹا نوجوان تھا۔ اس کے چہرے پر ہلکی سی مسکراہٹ تھی۔ البُرز کا سوال سن کر وہ کچھ دیر خاموش رہا، جیسے الفاظ کو ترتیب دے رہا ہو۔ پھر بولا: “ویسے تو طاقت کے بارے میں مختلف مفکرین نے اپنے اپنے انداز میں بات کی ہے۔ اسی لیے شاید طاقت کو ایک ہی معنی میں قید نہیں کیا جا سکتا۔” وہ کچھ دیر رکا، پھر بولا:

“مثال کے طور پر میشل فوکو کو دیکھو۔ اس کے نزدیک محض یہ کہنا کافی نہیں کہ ریاست کے پاس طاقت ہے۔ ہمیں ان طریقہ کار کا جائزہ لینا ہوگا جن کے ذریعے طاقت عمل کرتی ہے، مثلاً جیلوں، اسکولوں، اسپتالوں، فوج، کام کی جگہوں، جنسیت، نفسیات اور علم کے نظاموں میں۔”

البُرز خاموشی سے سنتا رہا۔ بلوچان نے بات آگے بڑھائی:

“فوکو کے نزدیک طاقت صرف کسی ایک شخص یا ادارے کے پاس موجود کوئی چیز نہیں۔ طاقت تعلقات میں موجود ہوتی ہے۔ وہ روزمرہ کے معمولات، اداروں، علم، سماجی اداروں، نگرانی اور حتیٰ کہ اس طریقے سے بھی عمل کرتی ہے جس کے ذریعے لوگ خود کو سمجھتے ہیں اور اپنے بارے میں ایک تصور قائم کرتے ہیں۔”

البُرز کچھ دیر سوچتا رہا۔ پھر اس نے پوچھا:

“اگر فوکو کے ہاں طاقت روزمرہ کے معمولات اور ان تمام اداروں میں عمل کرتی ہے، تو پھر تشدد کیا ہے؟”

بلوچان نے سگریٹ کا پیکٹ اٹھایا، ایک سگریٹ نکالی، منہ میں رکھی اور ماچس سے جلا لی۔ اس نے ایک لمبا کش لیا، کچھ دیر دھواں فضا میں چھوڑتا رہا، پھر سگریٹ بجھا کر جیب میں رکھ لی۔

“فوکو کے ہاں تشدد کا تعلق جسم یا اشیا پر براہ راست عمل کرنے سے ہے۔ یہ جبر کرتا ہے، جسم کو موڑتا ہے، توڑتا ہے، تباہ کرتا ہے یا امکانات کے دروازے بند کر دیتا ہے۔”

وہ ایک لمحے کے لیے رکا۔

“یعنی تشدد کا مقصد محض کسی شخص کے رویے کو متاثر کرنا نہیں ہوتا، بلکہ وہ جسم کو براہ راست مجبور، محدود یا نقصان پہنچاتا ہے۔ اپنی انتہا پر تشدد انسان کی عمل کرنے، جواب دینے اور مزاحمت کرنے کی صلاحیت تک ختم کر سکتا ہے۔”

یہ سنتے ہوئے البُرز پھر سوچ میں پڑ گیا۔ اس کے ذہن میں جیسے ایک سوال ختم ہوتے ہی دوسرا سوال پیدا ہو گیا تھا۔ کچھ دیر بعد اس نے کہا:

“تو پھر لوئی التھوسر کے ہاں طاقت کیا ہے؟ اگر طاقت صرف لوگوں کو زبردستی اطاعت پر مجبور کرنے کا نام نہیں، بلکہ ایسے افراد پیدا کرنے کا عمل بھی ہے جو موجودہ سماجی نظام کو فطری، معمول اور جائز سمجھ کر قبول کر لیتے ہیں، تو پھر ان کے نزدیک طاقت کی اصل نوعیت کیا ہے؟”

بلوچان نے تھرمل سے دور تک دیکھا۔ کچھ دیر بعد اس نے تھرمل رکھ دی۔ پھر البُرز کی طرف دیکھتے ہوئے بولا:

“التھوسر کا استدلال یہ ہے کہ ریاست حکمران طبقے کو اپنی بالادستی برقرار رکھنے کے قابل بناتی ہے کیونکہ، وہ ان حالات اور سماجی ڈھانچوں کو کنٹرول کرتی ہے جن کے ذریعے معاشرہ خود کو دوبارہ پیدا اور برقرار رکھتا ہے۔” وہ ذرا رکا، پھر بولا:

“اسی لیے وہ ریاستی جابرانہ آلات، یعنی Repressive State Apparatuses (RSA)، اور نظریاتی ریاستی آلات، یعنی Ideological State Apparatuses (ISAs)، کے درمیان فرق کرتے ہیں۔ ریاستی جابرانہ آلات بنیادی طور پر جبر اور طاقت کے ذریعے کام کرتے ہیں، جبکہ نظریاتی ریاستی آلات نظریے کے ذریعے۔”

البُرز نے فوراً پوچھا:

“ان دونوں میں سے زیادہ طاقتور اور مؤثر کیا ہے؟”

بلوچان نے جواب دیا:

“التھوسر کے نزدیک نظریاتی ریاستی آلات طویل مدت میں زیادہ گہری اور مؤثر طاقت رکھتے ہیں، کیونکہ وہ لوگوں کو صرف زبردستی اطاعت پر مجبور نہیں کرتے، بلکہ انہیں موجودہ سماجی نظام کو قبول کرنے اور اسے دوبارہ پیدا کرنے پر آمادہ کرتے ہیں۔ یہاں طاقت باہر سے مسلط ہونے کے بجائے انسان کے شعور اور روزمرہ کے معمولات کا حصہ بن جاتی ہے۔”

رات مزید گہری ہو چکی تھی۔ ساڑھے چار بجنے والے تھے۔ مگر البُرز کے ذہن میں سوال کم ہونے کے بجائے بڑھتے جا رہے تھے۔ اچانک دور سے کمانڈر شیرو کی آواز سنائی دی:

“البُرز، بلوچان دشمن کا کوئی اتل پتل دکھائی دے رہا ہے؟”

بلوچان نے بلند آواز میں جواب دیا:

“نہیں، بے فکر رہیں!”

سامنے سے کوئی جواب نہیں آیا۔ پہاڑ پھر خاموش ہو گیا۔ البُرز اب پوری طرح سوچ میں ڈوب چکا تھا۔ اس نے بلوچان کی طرف دیکھا اور پوچھا:

“پھر وہ کون سا مرحلہ ہے جب ریاست اپنی طاقت برقرار رکھنے کے لیے تشدد کا استعمال کرتی ہے؟”

بلوچان کچھ دیر خاموش رہا۔ پھر اس نے بیونگ چول ہان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا:

“بیونگ چول ہان طاقت کو ایک مختلف زاویے سے دیکھتا ہے۔ اس کے نزدیک طاقت کا لازماً جبر کی شکل اختیار کرنا ضروری نہیں۔ جہاں طاقت کو مسلسل تشدد، دھمکی یا جبر کے ذریعے اپنی موجودگی ثابت کرنا پڑے، وہاں یہ اس کی کمزوری کی علامت بھی ہو سکتی ہے۔ طاقت جتنی زیادہ مؤثر اور مضبوط ہوتی ہے، اس کی کارکردگی اتنی ہی خاموش ہوتی ہے۔ جہاں طاقت کو اپنی طرف خصوصی توجہ مبذول کرانے کی ضرورت پڑ جائے، وہاں شاید وہ پہلے جیسی مؤثر نہیں رہی۔”

وہ کچھ لمحے خاموش رہا، پھر بولا:

“بیونگ چول ہان طاقت کو ایک اور زاویے سے بھی دیکھتا ہے۔ اس کے ہاں دوسرا شخص بظاہر اپنی آزادی کے ساتھ خودی کی پیروی کرتا ہے۔ جو شخص مطلق طاقت حاصل کرنا چاہتا ہے، اسے لازماً تشدد پر انحصار نہیں کرنا پڑتا، وہ دوسرے کی آزادی کو بھی اپنے اختیار کے دائرے میں استعمال کر سکتا ہے۔ مطلق طاقت اس مقام پر حاصل ہوتی ہے جہاں آزادی اور محکومی ایک دوسرے میں اس طرح مدغم ہو جائیں کہ دونوں کے درمیان فرق مٹنے لگے۔”

البُرز نے فوراً بلوچان کی بات کاٹ دی۔

“اگر قبضہ غیرِ پاکستان بلوچوں پر اپنی طاقت برقرار رکھنے کے لیے تشدد کا سہارا لے رہی ہے، تو کیا اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ کمزور ہو چکی ہے؟”

بلوچان نے ہلکا سا مسکرا کر البُرز کی طرف دیکھ:

“اس میں کوئی شک نہیں۔ مگر ہم طاقت کو یک طرفہ انداز میں نہیں دیکھ سکتے۔ خاص طور پر استعماری نظام میں طاقت ایک مختلف انداز سے بھی کام کرتی ہے، کیونکہ استعماری نظام خود ایک متشدد عمل کی بنیاد پر قائم ہوتا ہے۔”

وہ کچھ دیر خاموش رہا۔ پھر فینن کا حوالہ دیتے ہوئے بولا:

“فینن کے نزدیک تشدد محض ریاستی جبر نہیں، بلکہ نوآبادیاتی نظام کی بنیاد کا حصہ ہے۔ نوآبادیاتی طاقت خود تشدد کے ذریعے قائم ہوتی ہے، اس لیے محکوم لوگوں کی مزاحمت بھی اکثر اسی متشدد ماحول کے اندر سے جنم لیتی ہے۔ دوسرے لفظوں میں، نوآبادیات اپنی بنیادی ساخت ہی میں ایک متشدد نظام ہے۔”

یہ کہتے ہوئے بلوچان نے اپنے سگریٹ کے پیکٹ سے ایک سگریٹ نکالی، جلائی، دو لمبے کش لیے اور پھر اسے بجھا کر ایک طرف رکھ دیا۔ البُرز ایک اور سوال پوچھنے ہی والا تھا کہ اچانک کمانڈر شیرو کی آواز ان کے کانوں تک پہنچی:

“کمبر اور کیپٹن آ رہے ہیں۔ تم لوگوں کی شفٹ ختم ہو گئی ہے۔ اب جاؤ اور سو جاؤ۔”

دونوں کچھ دیر خاموش بیٹھے رہے۔ رات اب اپنی آخری ساعتوں میں داخل ہو چکی تھی۔ البُرز نے اٹھتے ہوئے بلوچان کی طرف دیکھا اور مسکرا کر کہا:

“کل اسی موضوع پر مزید بات جاری رکھتے ہیں۔ ابھی تو طاقت کا سوال اور بھی گہرا ہو گیا ہے۔”

بلوچان ہنس پڑا۔ دونوں نے اپنا اپنا سامان اٹھایا اور سونے کی جگہ کی طرف چل پڑے۔ پیچھے پہاڑ اپنی جگہ خاموش کھڑا رہا۔ رات کی تاریکی ابھی باقی تھی، مگر کہیں دور، اندھیرے کی تہہ میں صبح کی ایک مدھم سی لکیر جنم لینے لگی تھی۔ اور شاید اسی خاموش پہاڑ پر، ان دونوں کے پیچھے، طاقت کا سوال بھی ابھی باقی تھا۔


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔