کراچی: سردار اختر مینگل کے فلیٹ پر چھاپہ، 13 افراد حراست میں لیے گئے، 2 تاحال لاپتہ

3

بلوچستان نیشنل پارٹی (بی این پی) کے سربراہ اور سابق وزیراعلیٰ بلوچستان سردار اختر مینگل نے کہا ہے کہ گزشتہ رات کراچی میں ان کی رہائش گاہ کے قریب عملے کے لیے کرائے پر لیے گئے ایک اپارٹمنٹ پر انٹیلی جنس اداروں نے چھاپہ مارا۔

سردار اختر مینگل کے مطابق چھاپے کے دوران اپارٹمنٹ میں موجود تمام افراد کے موبائل فون ضبط کیے گئے اور انہیں تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ ان کا کہنا ہے کہ بعض افراد کو بعد ازاں رہا کردیا گیا، تاہم کسی کو بھی تشدد سے نہیں بخشا گیا۔

اختر مینگل کے مطابق ان کے مینیجر اور ایک سیکیورٹی گارڈ تاحال لاپتہ ہیں اور انہیں واپس نہیں لایا گیا۔

انہوں نے کہا کہ یہ محض سیکیورٹی کا معاملہ نہیں بلکہ نسلی پروفائلنگ کی بنیاد پر رہائش گاہ کو نشانہ بنانا، من مانی حراست، ذاتی موبائل فون ضبط کرنا اور جسمانی تشدد جیسے اقدامات سنگین انسانی حقوق کے خدشات کو جنم دیتے ہیں۔

سردار اختر مینگل نے مطالبہ کیا کہ دونوں لاپتہ افراد کے بارے میں فوری طور پر معلومات فراہم کی جائیں اور انہیں بحفاظت واپس لایا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر کسی شخص کے خلاف کوئی الزام ہے تو اس سے شفاف اور قانونی طریقۂ کار کے تحت نمٹا جائے، جبکہ زیرِ حراست افراد کو قانونی نمائندگی سمیت تمام قانونی حقوق اور ضابطۂ کار کے تحت تحفظ فراہم کیا جائے۔

انہوں نے سندھ حکومت اور پاکستان پیپلز پارٹی سے بھی مطالبہ کیا کہ بلوچستان کے لوگوں کو سندھ میں درپیش بے خوفی اور عدم جواب دہی کی فضا سے لاتعلق نہ رہا جائے۔

اختر مینگل کے مطابق ان 13 افراد میں سے حاجی رجب اور احمد تاحال رہا نہیں ہوئے، جبکہ دیگر افراد کو بعد ازاں رہا کردیا گیا۔

تاحال واقعے سے متعلق سندھ حکومت، پولیس یا متعلقہ اداروں کا باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آیا۔