کوئٹہ: جبری لاپتہ افراد کے اہلِ خانہ طویل ذہنی و معاشرتی اذیت کا شکار ہیں۔ نصراللہ بلوچ

18

جبری گمشدگیوں کے خلاف وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز (وی بی ایم پی) کا احتجاجی کیمپ کوئٹہ پریس کلب کے سامنے 6410ویں روز بھی جاری رہا۔

اس دوران صحافی سیف اللہ سرپرہ اور کامریڈ منظور بلوچ نے احتجاجی کیمپ کا دورہ کیا اور لاپتہ افراد کے لواحقین سے اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے جبری گمشدگیوں کے خاتمے اور تمام لاپتہ افراد کی بازیابی کا مطالبہ کیا۔

اس موقع پر وی بی ایم پی کے چیئرمین نصراللہ بلوچ نے کہا کہ ایک شخص کی جبری گمشدگی سے اس کا پورا خاندان کرب و اذیت میں مبتلا ہو جاتا ہے اور اس کی زندگی مفلوج ہو کر رہ جاتی ہے۔ جبری گمشدگیوں کے اثرات صرف متاثرہ شخص تک محدود نہیں رہتے بلکہ اس کے اہلِ خانہ کو بھی طویل عرصے تک ذہنی اور معاشرتی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جس کے معاشرے پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

انہوں نے حکومت اور ملکی اداروں کے سربراہان سے مطالبہ کیا کہ وہ اس مسئلے کو انسانی ہمدردی کی بنیاد پر دیکھیں اور ملکی قوانین کے تحت اس کے حل کے لیے فوری اور عملی اقدامات کریں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ تمام لاپتہ افراد کی بازیابی کو یقینی بنایا جائے اور جن افراد پر کوئی الزام ہے، انہیں منظرِ عام پر لا کر عدالتوں میں پیش کیا جائے تاکہ ان کے خلاف قانونی تقاضوں کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔