نوشکی میں ایک بار پھر کرفیو نافذ، شہریوں کو گھروں تک محدود رہنے اور بازار بند رکھنے کا حکم۔
اطلاعات کے مطابق بلوچستان کے ضلع نوشکی میں پاکستانی فورسز کے حکام نے اعلامیہ جاری کرتے ہوئے نوشکی کے رہائشیوں کو حکم دیا ہے کہ کل سے ضلع بھر کے شہری و مضافاتی علاقوں میں کرفیو نافذ رہے گا۔
فورسز حکام نے اعلامیے میں کہا ہے کہ تمام شہری کرفیو کے دوران اپنے اپنے گھروں میں رہیں، مریضوں یا ایمرجنسی کی صورت میں سول انتظامیہ و سیکیورٹی فورسز سے رابطہ کریں۔
حکام نے حکم دیا ہے کہ اعلامیے کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
یاد رہے کہ رواں سال بلوچ لبریشن آرمی کے آپریشن ہیروف دو کے حملوں کے بعد نوشکی شہر کرفیو کی زد میں رہا ہے، جس کے بعد پاکستانی فورسز کے حکام نے جزوی لاک ڈاؤن نافذ کردیا تھا، تاہم کل سے ایک بار پھر ضلع بھر میں مکمل کرفیو کا اعلان کیا گیا ہے۔
طویل کرفیو و لاک ڈاؤن سے پریشان شہریوں اور نوشکی کی آل پارٹیز نے گزشتہ دنوں علاقے میں سیکیورٹی پابندیوں، راستوں کی بندش، سخت چیکنگ اور شہریوں کو درپیش مشکلات کے خلاف شدید احتجاج کرتے ہوئے شکایت کی تھی کہ علاقے کو عملاً محاصرے میں رکھ کر شہریوں کے بنیادی، آئینی اور انسانی حقوق سلب کیے جا رہے ہیں۔
مقامی سیاسی و سماجی قیادت نے نوشکی پریس کلب میں ہنگامی پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا تھا کہ کرفیو اور سیکیورٹی چیک پوسٹوں پر نوشکی کے تقریباً 98 فیصد شہریوں کے ساتھ مجرموں جیسا سلوک کیا جا رہا ہے، مختلف راستوں پر رکاوٹیں کھڑی کی گئی ہیں اور سڑکیں کھودی گئی ہیں، جبکہ این-40 سمیت اہم شاہراہوں پر آمدورفت کو مشکل بنا دیا گیا ہے۔
آل پارٹیز رہنماؤں نے کہا کہ ریاستی اداروں کی ذمہ داری عوام کے لیے آسانیاں پیدا کرنا ہے، مشکلات میں اضافہ کرنا نہیں صورتحال اس قدر سنگین ہو چکی ہے کہ مریضوں کو رات کے وقت نوشکی کے ہسپتال منتقل کرنا مشکل ہے اور ایمرجنسی کی صورت میں انہیں شہر سے باہر لے جانا بھی دشوار بنا دیا گیا ہے۔
تاہم آل پارٹیز کے احتجاج کے باوجود فورسز حکام نے آج ایک بار پھر مکمل کرفیو کا اعلان کیا ہے۔



















































