23 کارروائیوں میں 29 فوجی اہلکار ہلاک، متعدد زخمی، 2 گاڑیاں تباہ- بی ایل ایف

273

بلوچستان لبریشن فرنٹ کے میجر گہرام بلوچ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ سرمچاروں نے نوشکی، سوراب، چاغی، مشکے، شادی کور، بلیدہ، خاران، تمپ، مند، خضدار، قلات اور جھاؤ کے علاقوں میں قابض پاکستانی فورسز، ملٹری انٹیلی جنس (MI)، فرنٹیئر کور (FC)، عسکری چوکیوں، پولیس تھانے اور ڈیتھ اسکواڈز کے خلاف یکے بعد دیگرے 23 پر اثر عسکری کارروائیاں کیں، فوج کی پیش قدمی کی کو ناکام کیا اور شاہراہوں کی ناکہ بندیاں سر انجام دیں۔

انہوں نے تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ آج 16 اگست 2026 کو سرمچاروں نے نوشکی کے علاقے ملّ کوچال میں قابض فوج کے قافلے کو بھاری اور خودکار ہتھیاروں سے نشانہ بنایا۔ اس کارروائی کے دوران فوج کی 2 گاڑیاں براہِ راست حملے کی زد میں آئیں، جس کے نتیجے میں 4 فوجی اہلکار موقع پر ہی ہلاک اور 2 زخمی ہوئے، جبکہ دونوں گاڑیاں مکمل طور پر ناکارہ ہو گئیں۔

“15 اگست 2026 کو سرمچاروں نے سوراب کے علاقے پدگ میں قابض فوج کے 8 گاڑیوں پر مشتمل قافلے کو اس وقت حملے کا نشانہ بنایا جب وہ سوراب سے نکل کر فارم کیمپ کی طرف جا رہا تھا۔ حملے کے نتیجے میں قافلے میں شامل 3 گاڑیاں براہِ راست زد میں آئیں، جن میں سوار 6 فوجی اہلکار ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے۔ اسی روز ایک اور کارروائی کے دوران، سرمچاروں نے چاغی کے علاقے یکمچ میں قائم پولیس تھانے پر حملہ کر کے اسے مکمل طور پر اپنے کنٹرول میں لے لیا۔ سرمچاروں نے تھانے میں موجود تمام سرکاری ریکارڈ سمیت وائرلیس و دیگر املاک کو نذرِ آتش کر دیا، جبکہ وہاں موجود پولیس اہلکاروں کو سخت تنبیہ کے بعد انسانی ہمدردی کی بنیاد پر رہا کر دیا گیا۔”

“14 اگست 2026 کو سرمچاروں نے گومازی میں شہید کیپٹن جہانگیر کے گھر پر قائم قابض پاکستانی فوج کی چوکی کو نشانہ بناتے ہوئے متعدد گرینیڈ لانچر کے گولے داغے، اس حملے میں تمام گولے عین اہداف پر جا گرے، جس کے نتیجے میں قابض فورسز کو جانی و مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑا۔ اسی روز سرمچاروں نے مشکے کے علاقے داہرہ میں قائم قابض فوج کی سیکیورٹی چوکی پر بھاری اور خودکار ہتھیاروں سے حملہ کیا۔ اس کارروائی کے نتیجے میں بھی قابض فوج کو جانی و مالی نقصان اٹھانا پڑا ہے۔”

“13 اگست 2026 کو سرمچاروں نے شادی کور میں قائم قابض فوج کے کبڈی کیمپ پر گرینیڈ لانچر سے متعدد گولے داغے جو عین اپنے اہداف پر جا گرے، جس کے نتیجے میں دشمن فوج کو جانی و مالی نقصان پہنچا ہے۔ اسی روز سرمچاروں نے بلیدہ کے علاقے بِٹ میں قائم قابض پاکستانی فوج کے مرکزی کیمپ کو 107mm راکٹ کے گولے سے نشانہ بنایا۔ داغا گیا راکٹ عین اپنے ہدف پر کیمپ کے اندر جا گرا، جس کے نتیجے میں دشمن کا ایک اہم سیکیورٹی مورچہ مکمل طور پر تباہ ہو گیا، جبکہ مورچے میں موجود 2 اہلکار موقع پر ہی ہلاک اور کیمپ میں موجود متعدد دیگر اہلکار زخمی ہو گئے۔ اس کے علاوہ کیمپ کی حدود میں کھڑی قابض فوج کی متعدد گاڑیوں کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے۔

“علاوہ ازیں، سرمچاروں نے خاران شہر کے انتہائی حساس ریڈ زون میں قائم ملٹری انٹیلی جنس (MI) کے دفتر پر گرینیڈ لانچر سے 5 گولے داغے جو عین ہدف پر جا گرے۔ اس کارروائی کے نتیجے میں قابض فوج کے اہلکاروں کو جانی و مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑا ہے۔”

ترجمان نے کہا کہ ہمارے سرمچاروں نے خاران شہر کے وسط میں سخت سیکیورٹی میں قائم فرنٹیئر کور (ایف سی) کے مرکزی ہیڈکوارٹر کو بھی گرینیڈ لانچرز سے نشانہ بنایا، جس سے قابض فورسز کو جانی و مالی نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ اسی روز ایک اور کارروائی میں سرمچاروں نے تمپ کے علاقے آسیاباد میں قائم قابض فوج کی چوکی کو راکٹ لانچرز سے نشانہ بنایا۔ اس کارروائی کے نتیجے قابض فوج کو جانی و مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ ایک اور کارروائی میں سرمچاروں نے مند کے علاقے گْواک میں قائم چیک پوسٹ پر گرینیڈ لانچرز سے گولے داغے گئے، جس کے نتیجے میں دشمن کو جانی و مالی نقصانات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

“علاوہ ازیں، ہمارےسرمچاروں نے مند کے علاقے کوہ ڈغار کی مرکزی شاہراہ پر ناکہ بندی کرکے گاڑیوں کی تلاشی لی۔ ناکہ بندی کا مقصد علاقے پر اپنا اثر و نفوذ برقرار رکھنا اور قابض فوج اور اس کے سہولت کاروں پر نظر رکھنا تھا۔ ایک اور کارروائی میں سرمچاروں نے مند کے علاقے بلّو اور بلوچ آباد کے مین بازاروں میں ناکہ بندی کر کے طویل وقت تک اسنیپ چیکنگ کی، گاڑیوں کی تلاشی لی اور مقامی عوام سے خطاب کرتے ہوئے قومی تحریکی مقاصد پر روشنی ڈالی۔

“12 اگست کو سرمچاروں نے خضدار کے علاقے وڈھ میں جی نمی چڑھائی کے مقام پر پیشگی گھات لگا کر قابض فرنٹیئر کور (ایف سی) کے قافلے کو بھاری اور خودکار ہتھیاروں سے نشانہ بنایا۔ اس کارروائی کے دوران ایف سی کی ایک پک اپ اور ایک بکتر بند گاڑی براہِ راست فائرنگ کی زد میں آئیں، جس کے نتیجے میں 12 اہلکار ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے، جبکہ دونوں گاڑیاں مکمل طور پر ناکارہ ہو گئیں۔ ہلاک و زخمی ہونے والوں میں فرنٹیئر کور 141 ونگ اور 15 ایف ایف (FF) کے اہلکار شامل تھے۔”

“11 اگست 2026 کو سرمچاروں نے قلات کے علاقے منگچر کے مین بازار میں قائم قابض پاکستانی فوج کی ایک اہم سیکیورٹی چوکی کو بھاری اور خودکار ہتھیاروں سے نشانہ بنایا۔ اس کارروائی کے نتیجے میں قابض فوج کے 2 اہلکار ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے۔ اسی روز سرمچاروں نے جھاؤ کے علاقے ڈولیجی میں قائم قابض فوج کے کیمپ پر اسنائپر سے حملہ کر کے 1 اہلکار کو موقع پر ہی ہلاک کر دیا۔ بعد ازاں سرمچاروں نے بھاری اور خودکار ہتھیاروں سے کیمپ پر ہمہ جہت حملہ کیا، جس کے نتیجے میں قابض فوج کو مزید جانی و مالی نقصان اٹھانا پڑا ہے۔

“10 اگست 2026 کو سرمچاروں نے مند کے علاقے گیاب میں قائم قابض پاکستانی فوج کی چیک پوسٹ پر حملہ کر کے اسے بھاری و خودکار ہتھیاروں اور گرینیڈ لانچرز سے نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں قابض فوج کو شدید جانی و مالی نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ اسی روز سرمچاروں نے مند کے علاقے بلّو میں واقع وائی فائی (Wi-Fi) انٹرنیٹ ٹاور اور اس کی تمام مشینری کو فائرنگ کر کے مکمل طور پر ناکارہ بنا دیا، جسے قابض فوج سرمچاروں کی جاسوسی، کواڈ کاپٹر و ڈرون آپریشنز اور نگرانی کے لیے استعمال کر رہی تھیں۔”

“9 اگست 2026 کو ہمارے سرمچار جھاؤ کے علاقے میں معمول کے گشت پر تھے کہ میرانی کور کے مقام پر قابض فوج اور مقامی ڈیتھ اسکواڈ کے اہلکاروں نے سرمچاروں کا راستہ روک کر گھات لگا کر حملہ کرنے کی کوشش کی لیکن مستعد سرمچاروں نے پیشگی حملہ کرتے ہوئے قابض فوج اور ڈیتھ اسکواڈ پر حملہ کردیا۔ اس جھڑپ کے نتیجے میں ڈیتھ اسکواڈ کے متعدد اہلکار ہلاک ہو گئے جبکہ قابض فوج پسپا ہو کر پیچھے ہٹنے پر مجبور ہو گئی۔ بعد ازاں سرمچاروں نے دشمن کا متروکہ اسلحہ و سامان بھی اپنے قبضے میں لے لیا۔ اسی روز سرمچاروں نے گومازی میں دازی شیپ کے مقام پر گھات لگا کر قابض فوج اور مقامی ڈیتھ اسکواڈ کے مشترکہ قافلے کو نشانہ بنایا، جو علاقے میں فوجی جارحیت کے مقصد سے داخل ہو رہے تھے۔ حملے کے دوران جدید ہتھیاروں اور گرینیڈ لانچرز کا استعمال کیا گیا، جس کے نتیجے میں قابض فوج کے 2 اہلکار موقع پر ہی ہلاک ہوئے جبکہ قابض فوج اور ڈیتھ اسکواڈ کے متعدد اہلکار زخمی ہوئے۔

“8 اگست 2026 کو خاران کے علاقے کلّگ تنک سے قابض پاکستانی فوج نے راسکوہ کے پہاڑی سلسلے کی طرف پیش قدمی کی کوشش کی، جسے پہاڑ و شاہراہ پر پہلے سے مستعد سرمچاروں نے حملہ کر کے ناکام بنا دیا، جس کے بعد قابض فوج پسپائی اختیار کرنے پر مجبور ہو گئی۔”

“7 اگست 2026 کو سرمچاروں نے خاران تا یکمچ سی پیک لنک روڈ پر شام 5 بجے سے لے کر رات 9 بجے تک مکمل ناکہ بندی کر کے اسنیپ چیکنگ کی، جبکہ سرگُردان، ساراگے اور گْواش کے مختلف علاقوں میں گشت کیا۔ اس دوران سرمچاروں نے سرگُردان کے مقام پر شہید نثار صباء عرف میرل کی مرقد پر تنظیم کا پرچم آویزاں کیا اور سلامی پیش کی ہے۔ 30 جولائی 2026 کو سرمچاروں نے مند کے علاقے سورو میں قائم قابض پاکستانی فوج کے ملٹری انٹیلی جنس (MI) کے دفتر پر گرینیڈ لانچرز سے حملہ کیا، جس کے نتیجے میں “ملٹری انٹیلی جنس کو جانی و مالی نقصانات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

ترجمان نے کہا کہ بلوچستان لبریشن فرنٹ ان تمام عسکری کارروائیوں، ناکہ بندیوں، دشمن فورسز کو پہنچنے والے جانی و مالی نقصانات اور انفراسٹرکچر کی تباہی کی کامل ذمہ داری قبول کرتی ہے اور اس عزم کا اعادہ کرتی ہے کہ بلوچستان سے قابض فورسز کے مکمل انخلا تک یہ جدوجہد پوری طاقت کے ساتھ جاری رہے گی۔