بلوچستان لبریشن فرنٹ کے ترجمان میجر گہرام بلوچ نے میڈیا کو جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ بی ایل ایف کے سرمچاروں نے جولائی 2026 کے مہینے میں مقبوضہ بلوچستان کے طول و عرض میں قابض پاکستانی فوج، اس کے دیگر کلیدی سکیورٹی فورسز، استعماری دفاعی اور معاشی تنصیبات اور مواصلاتی نظام پر حملوں کا سلسلہ غیر معمولی عزم اور شدت کے ساتھ جاری رکھا۔ ان کارروائیوں کا دائرہ کار مستونگ، خضدار، بیسمہ، مند، تمپ، کاہان، چاغی، خاران، قلات، گومازی، جھاؤ، کوئٹہ، زامران، سوراب، ماشکیل، بلیدہ، کراچی، پسنی، رکھنی، نال، کھڈان، بل نگور اور مشکے سمیت 23 مختلف علاقوں اور شہروں تک پھیلا رہا۔ ان کارروائیوں کا بنیادی مقصد مقبوضہ بلوچستان میں قابض ریاست کے استعماری ڈھانچے کو مفلوج کرنا، وسائل کے استحصال کو روکنا، اور قابض ریاست کی عسکری گرفت و عمل داری کو جڑوں سے اکھاڑ کر ختم کرنا ہے۔
انہوں نے کہا کہ بی ایل ایف کے سرمچاروں نے جولائی کے مہینے میں دشمن کے خلاف مجموعی طور پر 48 مسلح کارروائیاں سرانجام دیں۔ ان منظم و کاری ضربات کے نتیجے میں مجموعی طور پر قابض فوج کے 97 عسکری اہلکار ہلاک اور 15 شدید زخمی ہوئے، جبکہ تحریکِ آزادی کے خلاف مخبری کے نیٹ ورک چلانے والے دشمن کے 5 کلیدی آلہ کاروں اور ایجنٹوں کو بھی نشانہ بنا کر ہلاک کیا گیا۔ یوں جولائی کے مہینے میں دشمن کا مجموعی جانی نقصان 117 افراد پر مشتمل رہا۔
ترجمان نے کہا کہ تزویراتی لحاظ سے اس ماہ کی سب سے بڑی اور مہلک کارروائی 22 جولائی 2026 کو مستونگ کے علاقے کھڈ کوچہ میں میکرواسٹاپ کے مقام پر انجام دی گئی، جہاں سرمچاروں نے منظم و مربوط منصوبے کے تحت پیش قدمی کرتے ہوئے دشمن کے ایک بڑے عسکری قافلے کو حملے کا نشانہ بنایا۔ اس کارراوئی کے نتیجے میں قابض فوج کے 17 اہلکار ہلاک اور 10 زخمی ہوئے، جبکہ قافلے کو شدید مادی نقصان بھی پہنچا۔ اس کے علاوہ، دشمن کے رسد کے نظام کو منقطع کرنے اور علاقے پر اپنا عسکری تسلط برقرار رکھنے کے لیے سرمچاروں نے اہم شاہراہوں پر 9 مختلف مقامات پر کامیاب ناکہ بندیاں قائم کر کے کنٹرول حاصل کیا۔ اس دوران دشمن کے 7 متحرک فوجی قافلوں کو گھات لگا کر جانی و مالی نقصان پہنچایا گیا۔ عسکری پیش قدمی کو برقرار رکھتے ہوئے سرمچاروں نے دشمن کے 6 بڑے فوجی کیمپوں اور 7 اہم فوجی چیک پوسٹوں پر بھی مربوط حملے کیے۔
انہوں نے کہا کہ تکنیکی، مواصلاتی اور مادی محاذ پر قابض کے بنیادی ڈھانچے کو کمزور کرنے کے لیے سرمچاروں نے نگرانی کے جدید آلات اور عسکری گاڑیوں کو نشانہ بنایا۔ فضائی جاسوسی اور نگرانی کے لیے استعمال ہونے والے دشمن کے 2 ڈرون مار گرائے گئے، جبکہ زمینی نگرانی کے لیے نصب کردہ 3 جدید کیمروں کو بھی تباہ کر دیا گیا۔ مادی و عسکری محاذ پر کارروائیوں اور دھماکوں کے دوران قابض فوج کی 15 عسکری گاڑیاں مکمل طور پر تباہ کی گئیں، جبکہ مختلف چھاپہ مار کارروائیوں اور آپریشنز کے دوران پسپا ہونے والے دشمن کے اہلکاروں سے 5 جدید ہتھیار ضبط کر لیے گئے۔
ترجمان نے کہا کہ عسکری کارروائیوں میں تنوع اور جنگی محاذ پر اپنی برتری کو برقرار رکھتے ہوئے اس ماہ دشمن کے خلاف گوریلا جنگ کے مختلف تکنیکی حربے استعمال کیے گئے۔ مجموعی طور پر 16 مرتبہ دشمن پر بھاری ہتھیاروں سے حملے کیے گئے، 8 بار منظم طور پر گھات لگا کر حملے سرانجام دیے گئے، انٹلیجنس پر مبنی پانچ خفیہ آپریشنز کیے گئے، 4 بار اسناپئر حملوں کے ذریعے دشمن کی پوزیشنوں کو نشانہ بنایا گیا، 2 بار گرینیڈ لانچر کا استعمال کیا گیا، 2 مرتبہ آئی ای ڈی (IED) ریموٹ کنٹرول بم دھماکے کیے گئے، جبکہ 1 دستی بم حملہ بھی کیا گیاہے۔ یہ متنوع اور مہلک حملے تنظیم کی اعلیٰ عسکری مہارت، کامیاب منصوبہ بندی اور ہر قسم کے حالات میں جنگ لڑنے کی صلاحیت کو اجاگر کرتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بلوچستان لبریشن فرنٹ اپنے اس عزم کی تجدید کرتی ہے کہ بلوچستان کی کامل آزادی اور خودمختاری تک ہماری عسکری کاروائیاں باقاعدگی، جدت، تنوع اور مزید شدت کے ساتھ جاری رہیں گی۔















































