خاران، دالبندین، ڈھاڈر: مرکزی شاہراہوں پر مسلح افراد کی ناکہ بندیاں، سیکورٹی چوکی تباہ

256

مسلح افراد نے گھنٹوں تک ناکہ بندی کے دوران گاڑیوں کی تلاشی لی۔

بلوچستان کے ضلع خاران سے اطلاعات کے مطابق، خاران نوروز قلات کے مقام پر کوئٹہ، خاران مرکزی شاہراہ پر مسلح افراد نے ناکہ بندی قائم کی، جہاں گھنٹوں تک اسنیپ چیکنگ جاری رہی۔

اسی طرح دالبندین کے کروک پھاٹک کے مقام پر کوئٹہ تفتان مرکزی شاہراہ پر مسلح افراد نے ناکہ بندی قائم کرتے ہوئے گاڑیوں کی تلاشی لی۔ اس دوران مسلح افراد نے مرکزی شاہراہ پر موجود سیکورٹی چوکی کو کنٹرول میں لے کر بارودی مواد نصب کرنے کے بعد تباہ کردیا۔

دوسری جانب دالبندین-تفتان شاہراہ پر ڈھڈر کے مقام پر نامعلوم مسلح افراد نے محکمہ ایکسائز کی عارضی چیک پوسٹ پر حملہ کرکے محکمہ ایکسائز کے تین اہلکاروں کو دو سرکاری گاڑیوں اور سرکاری اسلحہ سمیت اپنے ساتھ لے گئے۔

دالبدین پولیس کے مطابق واقعے کے وقت ایکسائز اہلکار عارضی چیک پوسٹ پر ڈیوٹی انجام دے رہے تھے کہ مسلح افراد نے اہلکاروں، سرکاری گاڑیوں اور اسلحے قبضے میں لیکر اپنے ہمراہ لے گئے۔

دریں اثناء ڈھاڈر کے مقام پر بھی مسلح افراد نے مرکزی شاہراہ کا کنٹرول سنبھال کر اسنیپ چیکنگ جاری رکھی۔

یاد رہے کہ اس سے قبل بھی مذکورہ بھی مذکورہ شاہراہوں پاکستانی فورسز، سیکورٹی چوکیوں اور معدنیات لیجانے والی گاڑیوں کو حملوں میں نشانہ بنایا جاتا رہا ہے۔

مرکزی شاہراہوں پر اکثر حملوں کی ذمہ داری بلوچ لبریشن آرمی قبول کرچکی ہے۔ تنظیم کی جانب سے ‘معاشی ناکہ’ کا اعلان کیا جاچکا ہے جس کے تحت مرکزی شاہراہوں پر کنٹرول بدستور جاری ہے۔