بلوچستان: دو افراد کے ماورائے عدالت قتل اور جبری گمشدگی پر بلوچ یکجہتی کمیٹی کا تحقیقات کا مطالبہ

8

بلوچ یکجہتی کمیٹی نے بلوچستان میں دو الگ واقعات میں ایک شخص کے ہدف بنا کر قتل اور ایک جبری لاپتہ شخص کی لاش برآمد ہونے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اقوام متحدہ، انسانی حقوق کے اداروں اور حکومتوں سے آزادانہ و غیر جانب دارانہ تحقیقات اور ذمہ داروں کے احتساب کا مطالبہ کیا ہے۔

بی وائی سی کے مطابق خضدار کے علاقے گریشہ سے تعلق رکھنے والے 47 سالہ کسان عالم خان ولد داد بخش کو 17 ستمبر کو اس وقت فائرنگ کرکے قتل کیا گیا جب وہ اپنے دوستوں کے ہمراہ شادی کی تقریب میں شرکت کے بعد گھر واپس جا رہے تھے۔ تنظیم کے مطابق فائرنگ ڈیتھ اسکواڈ کے ارکان نے کی، جس کے نتیجے میں عالم خان جاں بحق جبکہ ان کے دوست برکت عظیم زخمی ہوئے۔

دوسرے واقعے میں بی وائی سی نے بتایا کہ تربت کے سنگانی سر سے تعلق رکھنے والے 26 سالہ حسن رفیق ولد رفیق بلوچ کو ستمبر 2025 میں اسٹار پلس مارکیٹ، تربت سے ایف سی، ایم آئی اور سی ٹی ڈی اہلکاروں نے
جبری طور پر لاپتہ کیا تھا۔ تنظیم کے مطابق حسن کو بعد ازاں تربت سینٹرل جیل اور پھر گڈانی جیل منتقل کیا گیا، جبکہ اہلخانہ نے عدالت سے رجوع کرکے ان کی ضمانت حاصل کی۔

بی وائی سی کے مطابق حسن رفیق کو 14 اگست 2026 کو ضمانت پر رہا کیا گیا، تاہم رہائی کے بعد حب چوکی عدالت کے سامنے ایم آئی اہلکاروں نے انہیں دوبارہ حراست میں لے کر لاپتہ کردیا۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ 34 روز بعد 17 ستمبر کو حسن رفیق کی لاش گوادر کے علاقے کلدان سے دو دیگر افراد کی لاشوں کے ہمراہ برآمد ہوئی۔

تنظیم نے کہا کہ بلوچستان میں جبری گمشدگیوں، ہدف بنا کر قتل اور جعلی مقابلوں کے واقعات انسانی حقوق کی سنگین صورتحال کی نشاندہی کرتے ہیں۔ بی وائی سی نے اقوام متحدہ، اس کے انسانی حقوق کے اداروں، عالمی انسانی حقوق کی تنظیموں اور آزاد مبصرین سے مطالبہ کیا کہ وہ بلوچستان کی صورتحال کا نوٹس لیتے ہوئے شہریوں کے تحفظ اور ذمہ داروں کے احتساب کے لیے مؤثر اقدامات کریں۔