کوئٹہ: جبری طور پر لاپتہ دو بلوچ طالبات منظرعام پر لائی گئیں

0

پاکستانی فورسز و سی ٹی ڈی نے دونوں خواتین کو کوئٹہ سے جبری گمشدگی کا نشانہ بنایا تھا۔

بلوچستان میں پاکستانی فورسز کے ہاتھوں جبری گمشدگی کا نشانہ بننے والی بلوچ طالبات خدیجہ بلوچ ولد پیر جان اور صفیہ بلوچ ولد عبدالخالق کو حکام نے آج کوئٹہ پریس کلب میں منظرعام پر لایا ہے۔

مذکورہ لاپتہ بلوچ طالبات کو فورسز حکام نے کوئٹہ پریس کلب میں پیش کرکے پریس کانفرنس کروائی، جہاں ان پر مسلح تنظیموں سے تعلق کا الزام عائد کیا گیا ہے۔

منظرعام پر لائی جانے والی خواتین میں شامل بلوچستان کے ضلع واشک کے علاقے بسیمہ کی رہائشی 20 سالہ بلوچ طالبہ صفیہ بلوچ ولد عبدالخالق کو گزشتہ ماہ 23 اگست 2026 کی رات تقریباً ایک بجے پاکستانی فورسز نے ایک گھر پر چھاپہ مارتے ہوئے حراست میں لے کر نامعلوم مقام پر منتقل کردیا تھا۔

جبری لاپتہ صفیہ بلوچ کے اہلخانہ نے اس وقت ان کی جبری گمشدگی کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا تھا کہ صفیہ بلوچ کی جبری گمشدگی میں کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ “سی ٹی ڈی” اور انٹر سروسز انٹیلی جنس “آئی ایس آئی” کے اہلکار ملوث ہیں۔

اسی طرح کوئٹہ پریس کلب لائی گئی جبری لاپتہ بلوچ طالبات میں شامل میڈیکل کی طالبہ خدیجہ بلوچ ولد پیر جان کو رواں سال 22 اپریل کی رات بولان میڈیکل کالج (بی ایم سی) گرلز ہاسٹل سے سی ٹی ڈی نے حراست میں لے کر نامعلوم مقام پر منتقل کردیا تھا۔

خدیجہ بلوچ کی حراست کے بعد جبری گمشدگی کے خلاف ان کے اہلخانہ اور بلوچ طلباء کی جانب سے کئی روز تک بی ایم سی کالج کے سامنے دھرنا دیا گیا تھا اور ان کی بازیابی کا مطالبہ کیا گیا تھا۔

مذکورہ دونوں خواتین کو آج کوئٹہ پریس کلب میں پیش کرکے ان سے پریس کانفرنس کرائی گئی، جہاں ان پر بلوچ آزادی پسند مسلح تنظیموں سے منسلک ہونے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔

یاد رہے کہ یہ پہلی دفعہ نہیں ہے کہ بلوچستان سے جبری گمشدگی کا نشانہ بننے والی خواتین کو کئی روز تک جبری گمشدگی اور تشدد کے بعد پریس کلب میں پیش کرکے میڈیا ٹرائل کیا گیا ہو، اس سے قبل بھی جبری گمشدگی کا نشانہ بننے والی متعدد بلوچ خواتین کو حکومتی اور سیکیورٹی حکام کی جانب سے مختلف الزامات کے تحت پریس کانفرنس کروائی گئی ہیں۔

بلوچستان سے جبری گمشدگی اور بعد ازاں حراست میں منظرعام پر لائی جانے والی ماہل بلوچ سے بھی متعدد پریس کانفرنسز کروائی گئی تھیں اور ان پر خودکش بمبار ہونے کا الزام عائد کیا گیا تھا، تاہم بعد ازاں عدالت نے انہیں بے قصور قرار دیتے ہوئے رہا کردیا تھا۔

بلوچستان سے جبری گمشدگی کا نشانہ بننے والے افراد کے اہلخانہ نے یہ بھی الزام عائد کیا ہے کہ پاکستانی فورسز کی جانب سے انہیں اور ان کے لاپتہ پیاروں کو دورانِ قید دھمکایا جاتا ہے کہ اگر وہ پریس کانفرنس نہیں کرتے تو ان کے والدین اور دیگر رشتہ داروں کو جانی نقصان کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔

بلوچستان کی سیاسی و انسانی حقوق کی تنظیموں نے ان واقعات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ریاست بلوچستان میں اجتماعی سزا کے طور پر پوری آبادی کو نشانہ بنا رہی ہے، جو آئینی اور بین الاقوامی قانون کے تحت جرم ہے اور جس کا ازالہ ضروری ہے۔