بلوچستان میں جبری گمشدگیوں کے خلاف وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز (وی بی ایم پی) کے زیرِ اہتمام کوئٹہ پریس کلب کے سامنے قائم احتجاجی کیمپ 6363ویں روز بھی جاری رہا۔
اس دوران غلام حیدر کرد کے اہلِ خانہ نے احتجاجی کیمپ میں شرکت کی اور ان کی جبری گمشدگی سے متعلق تفصیلات وی بی ایم پی کو فراہم کیں۔
لواحقین نے بتایا کہ غلام حیدر کرد ولد جمعہ خان کو رواں سال 12 مارچ کو پاکستانی فورسز نے مشرقی بائی پاس، گلی نمبر 19، نزد کلی پرکانی، کوئٹہ سے حراست میں لینے کے بعد نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا، جس کے بعد سے ان کے بارے میں کوئی معلومات فراہم نہیں کی جا رہیں۔ اس صورتحال کے باعث ان کا خاندان شدید ذہنی کرب اور پریشانی کا شکار ہے۔
وی بی ایم پی کے چیئرمین نصراللہ بلوچ نے لواحقین کو یقین دہانی کرائی کہ تنظیمی سطح پر غلام حیدر کرد کا کیس کمیشن آف انکوائری آن انفورسڈ ڈسپیئرنسز اور حکومت کو فراہم کیا جائے گا، جبکہ ان کی باحفاظت بازیابی کے لیے ہر فورم پر آواز بلند کی جائے گی۔
انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ غلام حیدر کرد سمیت تمام جبری لاپتہ افراد کی بازیابی یقینی بنائی جائے اور جبری گمشدگیوں کے مکمل سدباب کے لیے عملی اقدامات اٹھائے جائیں۔


















































