25 ارب روپے کی لاگت سے نئی فورس کا قیام، قافلہ سسٹم، اور انشورنس: بلوچستان میں شاہراہوں پر سکیورٹی کا نیا نظام

45

بلوچستان میں مرکزی شاہراہوں پر مال بردار گاڑیوں کو جلانے اور خراب سکیورٹی صورتحال کے خلاف تاجروں اور ٹرانسپورٹرز کے احتجاج کے بعد حکومت اور مظاہرین کے درمیان مذاکرات کامیاب ہوگئے ہیں جس کے بعد بلوچستان بھر میں شٹر ڈاؤن اور پہیہ جام ہڑتال مؤخر کردی گئی ہے۔

حکومت نے شاہراہوں کی سکیورٹی بہتر بنانے کے لیے 25 ارب روپے کی لاگت سے نئی فورس کے قیام، جلائی گئی گاڑیوں کے مالکان کو معاوضہ اور بلوچستان میں مال بردار گاڑیوں کے لیے انشورنس سکیم سمیت متعدد اہم اقدامات کا اعلان کیا ہے۔

تاجر تنظیموں، ٹرانسپورٹرز اور مائنز مالکان کی جانب سے جمعرات کو بلوچستان بھر میں ہڑتال کی گئی تھی جس کے باعث کوئٹہ سمیت مختلف اضلاع میں کاروباری مراکز بند رہے جبکہ بلوچستان کو پنجاب، سندھ اور خیبر پختونخوا سے ملانے والی اہم شاہراہوں پر ٹریفک بھی معطل رہی۔ مظاہرین نے شاہراہوں پر حملوں، گاڑیوں کو جلانے اور لوٹ مار کے واقعات کے خلاف احتجاج کیا اور حکومت سے مطالبہ کیا کہ سکیورٹی اور معاوضے کے نظام کو بہتر بنایا جائے۔

احتجاج میں 20 سے زائد تنظیموں نے حصہ لیا جبکہ سیاسی جماعتوں اور وکلا تنظیموں نے بھی حمایت کی۔ ابتدا میں غیر معینہ مدت کی ہڑتال کی کال دی گئی تھی تاہم مذاکرات کے بعد اسے ایک روز بعد ہی مؤخر کردیا گیا۔

ٹرانسپورٹراور تاجر تنظیموں کا کہنا ہے کہ گزشتہ ایک ماہ میں بلوچستان کی اہم شاہراہوں خصوصاً کوئٹہ۔تفتان ایران روٹ پر درجنوں مال بردار گاڑیاں جلائی جا چکی ہیں جس سے ایک ارب روپے سے زائد کا نقصان ہوا ہے۔ ان کے مطابق پہلے صرف معدنیات لے جانے والی گاڑیاں نشانہ بنتی تھیں لیکن اب پھل، خوراکی اشیا سمیت عام تجارتی سامان اور ایل پی جی ٹینکرز بھی حملوں کی زد میں ہیں جس کے باعث بیشتر ٹرانسپورٹرز نے اپنی گاڑیاں بند کر دی ہیں۔ اس صورتحال کے باعث بلوچستان کے اندرون ملک سامان کی ترسیل، ہمسایہ ملک کے ساتھ تجارت رک گئی تھی۔

بلوچستان کے وزیر داخلہ ضیاء اللہ لانگو اور ایڈیشنل چیف سیکریٹری داخلہ حمزہ شفقات نے جمعرات کی شام میں کوئٹہ چیمبر آف کامرس میں مذاکرات کامیاب ہونے کے بعد حکومتی اقدامات کا اعلان کیا۔

ایڈیشنل چیف سیکریٹری داخلہ بلوچستان حمزہ شفقات نے اعتراف کیا کہ تاجروں اور ٹرانسپورٹرز کا احتجاج بلا وجہ نہیں ، ان کے بیشتر مسائل حقیقی ہیں جن کے حل کے لیے اقدامات کئے جارہے ہیں۔

حمزہ شفقات نے کہا کہ تاجروں کے 33 مطالبات میں سے 15 پر اتفاق ہو چکا ہے جبکہ باقی معاملات پر بھی بات چیت جاری ہے۔ ان کے مطابق وفاقی نوعیت کے معاملات پر وزیراعظم سے رابطہ کیا گیا ہے اور وفاقی وزیر داخلہ اور چیئرمین ایف بی آر بجٹ کے بعد کوئٹہ آئیں گے۔

انہوں نے بتایا کہ شاہراہوں پر سکیورٹی کے لیے نئی فورس قائم کی جا رہی ہے جبکہ مال بردار گاڑیوں کے لیے انشورنس نظام بھی متعارف کرایا جائے گا اس سلسلے میں اسٹیٹ لائف انشورنس سے بات چیت جاری ہے۔ بلوچستان حکومت بھی انشورنس میں اپنا حصہ ڈالے گی۔

ان کا کہنا ہے کہ قومی شاہراہوں پر جلائی گئی گاڑیوں کے مالکان کو معاوضے کی ادائیگی کی جائے گی اس عمل کو تیز کیا جا رہا ہے ۔ اسی طرح دہشت گردی سے متاثرہ گاڑیوں کی واپسی کا وقت مہینوں سے کم کر کے ایک ہفتہ کیا جا رہا ہے۔

ان کے مطابق سکیورٹی خدشات کے باعث پھنسنے والی گاڑیوں کو اب قافلوں کی صورت میں سکیورٹی حصار میں منزل تک پہنچایا جائے گا جس میں ضرورت پڑنے پر پاکستان فوج کی مدد بھی لی جائے گی۔ آئی جی بلوچستان بھی تاجروں کے ساتھ سکیورٹی پلان پر مشاورت کریں گے ۔

حمزہ شفقات کے مطابق بار بار اور غیر ضروری چیکنگ کی شکایات کا بھی ازالہ کیا جارہا ہے۔ قومی شاہراہوں پر قائم 55 چیک پوسٹوں کی تعداد مرحلہ وار کم کی جائے گی جبکہ بعض چوکیوں سے کسٹم اختیارات واپس لے کر انہیں صرف سکیورٹی تک محدود کیا جائے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ کوئٹہ سے باہر جانے والی چھوٹی اور نجی گاڑیوں کی لکپاس اور بلیلی چیک پوسٹوں پر چیکنگ اب نہیں کی جائے گی جبکہ مال بردار گاڑیوں کے لیے خصوصی کلیئرنس کارڈ سسٹم متعارف کرایا جائے گا تاکہ ایک بار چیکنگ کے بعد بار بار روکا نہ جائے۔سندھ میں بلوچستان کے تاجروں ، ٹرانسپورٹروں اور مسافروں کو تنگ کئے جانے کی شکایات پر سندھ حکومت سے مسئلہ اٹھایا جائےگا۔

انہوں نے یہ بھی بتایا کہ کوئٹہ ڈیرہ غازی خان شاہراہ پر رکھنی کے قریب بواٹہ چوکی پر بسوں اور گاڑیوں کی چیکنگ میں تین چار گھنٹے کی شکایت پر بھی غور کیاگیا۔ اب چیکنگ کو گھنٹوں سے کم کرکے 15 سے 20 منٹ تک لایا جائے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ روڈ نیٹ روک، گاڑیوں اور مائنز اینڈ منرل کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے خصوصی فورس قائم کی جارہی ہے جو اگلے چھ مہینے میں تیار ہوگی۔ اس وقت تک مال بردار گاڑیوں کو سکیورٹی حصار میں خصوصی قافلوں میں لے جایا جائے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ ترقیاتی بجٹ سے پیسہ نکال کر سکیورٹی پر لگایا جارہا ہے۔ حکومت اور تاجر برادری اسمگلنگ کے خاتمے پر متفق ہیں، سمگلنگ کی اجازت نہیں دی جائے گی تاہم جائز اور قانونی کاروبار کو ہر قسم کی سہولت دی جائے گی۔

خیال رہے کوئٹہ – تفتان روٹ سمیت مستونگ، دشت، قلات اور خضدار میں مرکزی شاہراہیں بلوچ لبریشن آرمی کے کنٹرول میں ہے۔

بی ایل اے ترجمان جیئند بلوچ نے ایک بیان میں کہا کہ بلوچستان میں جاری قومی آزادی کی جنگ کے تزویراتی تقاضے اس امر پر زور دیتے ہیں کہ قابض ریاست کی معاشی شہہ رگ پر فیصلہ کن ضرب لگائی جائے۔ نوآبادیاتی تسلط کے خلاف مسلح قومی مزاحمت کا یہ ایک مسلمہ اصول ہے کہ غاصب قوت کے معاشی مفادات کو اس حد تک غیر محفوظ، غیر مستحکم اور خسارے کا سودا بنا دیا جائے کہ اس کے لیئے مقبوضہ سرزمین پر جبری قبضہ برقرار رکھنے کی قیمت، یہاں کے وسائل کی لوٹ مار سے حاصل ہونے والے منافع سے کہیں زیادہ بڑھ جائے۔ جب تک بلوچستان کو غاصب ریاست کے لیئے ایک ناگزیر معاشی بوجھ میں تبدیل نہیں کردیا جاتا، تب تک اس کی اندھی عسکری مہم جوئی اور بلوچ نسل کشی کے ہولناک سلسلے کو روکنا ممکن نہیں، کیونکہ سیندک، ریکوڈک، گوادر، سوئی اور کوئلے جیسے ہمارے گرانقدر قومی وسائل کی بے دریغ چوری ہی قابض پاکستانی فوج کے اس جابرانہ تسلط کو مالیاتی ایندھن فراہم کر رہی ہے۔

ترجمان نے کہا کہ بلوچ لبریشن آرمی، تمام ٹرانسپورٹ مالکان، ڈرائیوروں اور عوام کو یہ ہدایت جاری کرتی ہے کہ وہ اس استحصالی نوآبادیاتی نظام کا پرزہ بننے سے خود کو فوری طور پر الگ کرلیں۔ مالکان اور ڈرائیورز قومی دولت کی منظم چوری اور استحصالی کمپنیوں کے لیئے ایندھن، رسد یا کسی بھی قسم کی لاجسٹک ترسیل کا حصہ بننے سے مکمل طور پر گریز کریں، جبکہ عام مسافر اور شہری اپنی جان ومال کی حفاظت کی خاطر ان شاہراہوں پر سفر کے دوران فوجی قافلوں، قابض فورسز کی تحرک اور استحصالی پروجیکٹس کی گاڑیوں کے قریب رہنے سے سختی سے پرہیز کریں۔ ہماری یہ جنگ بلوچ قوم کی مکمل خودمختاری، قومی وقار اور غیر مشروط آزادی کی جنگ ہے، اور جب تک بلوچ سرزمین سے غیر ملکی تسلط، غاصبانہ لوٹ مار اور نوآبادیاتی جبر کا مکمل خاتمہ نہیں ہو جاتا، ہماری یہ معاشی ناکہ بندی اور عسکری مزاحمت پوری شدت اور وسعت کے ساتھ جاری رہے گی۔