گیارہ اگست: شہداء کے لہو سے روشن آزادی کا خواب – کاکا انور بلوچ

1

گیارہ اگست: شہداء کے لہو سے روشن آزادی کا خواب

تحریر: کاکا انور بلوچ

دی بلوچستان پوسٹ

گیارہ اگست ہماری تاریخ کا ایک ایسا دن ہے جس کے ساتھ آزادی کی خوشی بھی وابستہ ہے اور قربانیوں کی ایک گہری داستان بھی۔ یہ دن ہمیں ان لوگوں کی یاد دلاتا ہے جنہوں نے اپنی سرزمین، اپنے لوگوں اور اپنے مستقبل کے خوابوں کی خاطر اپنی زندگیاں قربان کیں۔ شہداء کی قربانی صرف ایک فرد کی زندگی کا اختتام نہیں ہوتی، بلکہ وہ اپنے پیچھے ایک ایسا سوال، ایک ایسی یاد اور ایک ایسا خواب چھوڑ جاتے ہیں جو آنے والی نسلوں کو راستے دیکھتے ہیں ۔ گیارہ اگست کو شہید ریحان جان کی برسی بھی ہمیں اسی احساس سے دوچار کرتی ہے کہ آزادی، وفاداری اور اپنے لوگوں کے لیے جدوجہد کی قیمت کتنے قیمتی ہوتی ہے۔ یہ داستان صرف شہید ریحان جان تک محدود نہیں، یہ ان کرداروں کو یاد کرنے کا دن بھی ہے جنہوں نے اپنے عمل، عزم اور قربانی سے تاریخ پر اپنے نقوش ثبت کیے۔ استاد اسلم جیسے کردار اسی عزم، وفاداری اور قربانی کی علامت ہیں، جن کی زندگی اور جدوجہد آنے والی نسلوں کے لیے ایک مستقل حوالہ بن جاتی ہے۔ آج جب ہم ان قربانیوں کو یاد کرتے ہیں تو ہمارے سامنے صرف ماضی نہیں ہوتا، بلکہ ایک ایسا مستقبل بھی ہوتا ہے جس میں امن، انصاف، عزت، اور صرف خوشیاں ملتی ہیں ۔

یہ دن ہمارے لیے محض ایک تاریخ نہیں، بلکہ ایک گہری یاد اور قربانی کی علامت ہے۔ گیارہ اگست جہاں ہمارے لیے یومِ آزادی ہے، وہیں یہ ریحان جان کی برسی بھی ہے وہ شخص جس نے اپنی مادرِ وطن کی خاطر اپنی زندگی کی تمام خوشیاں، اپنے خواب چھوڑ کر اپنی قیمتی جان تک قربان کر دی۔ ریحان جان نے سرزمین سے وفا کا وہ راستہ چُنا جس کی منزل قربانی تھی۔ ایک ماں اپنے ہی بیٹے کو، اپنی آنکھوں کے سامنے پلنے والے اپنے لختِ جگر کو، اپنی سرزمین اور آنے والی نسلوں کی خاطر رخصت کرتی ہے۔ وہ ماں جس کے لیے اولاد دنیا کی سب سے قیمتی متاع ہوتی ہے، اسی اولاد کو اپنے ہاتھوں تیار کرکے، بیرک پہنا کر، ایک ایسے راستے پر روانہ کرتی ہے جہاں واپسی کی کوئی ضمانت نہیں ہوتی۔ ایک ماں کا اپنے ہاتھوں اپنی اولاد کو رخصت کرنا محض ایک الوداع نہیں تھا؛ یہ ایک ایسا لمحہ تھا جس میں ماں کی ممتا، بیٹے کی قربانی اور سرزمین سے وابستگی ایک ساتھ سمٹ آئے تھے۔ اسطرح کے واقعات ان تاریخ کے اوراق کا حصہ بن جاتے ہیں جس کے ہر باب میں سرزمین سے وفا کی داستان لکھی ہے۔

اور ہمارے قائد، استاد اسلم جو کسی تعریف کے محتاج نہیں ان کی عظمت، کردار اور قربانی کو بیان کرنے کے لیے شاید ہمارے پاس الفاظ ہی نہیں۔ قلم اٹھائیں تو لکھتے چلے جائیں، مگر الفاظ ہر موڑ پر کم پڑ جائیں؛ کیونکہ استاد اسلم محض ایک نام نہیں، بلکہ ایک ایسے کردار ہیں جو اپنی سرزمین سے وفا، عزم اور قربانی کی ایک منفرد مثال ہیں۔ انہوں نے اپنے کردار سے یہ ثابت کیا کہ کچھ لوگ تاریخ کا حصہ نہیں بنتے، بلکہ خود تاریخ رقم کرتے ہیں ۔ استاد اسلم کے بارے میں قلم لکھتا رہے گا، الفاظ ختم ہوتے رہیں گے، مگر استاد اسلم کا کردار تاریخ کے صفحات پر اپنی گواہی دیتا رہےگا۔

شہداء صرف تاریخ کا ایک باب نہیں ہوتے، بلکہ وہ قوموں کے حافظے، ان کے فخر اور آنے والی نسلوں کے لیے حوصلے کی علامت بن جاتے ہیں۔ آج اگر میں ریحان جان کو عقیدت و احترام کے ساتھ یاد کرتا ہوں، کیونکہ ایسے بہادر انسان اپنی زندگی تو قربان کر دیتے ہیں، مگر اپنے کردار، اپنی جدوجہد اور اپنی قربانی سے ہمیشہ کے لیے دلوں میں زندہ رہتے ہیں۔ ان کا نام وقت گزرنے کے ساتھ مٹتا نہیں بلکہ ان کی قربانی کی آنے والی نسلوں کے لیے عزم و حوصلے کا چراغ بن جاتی ہے۔ اور آج کے اس موقع پر میرا سلام صرف شہداء تک محدود نہیں، بلکہ ان عظیم ماؤں کے نام بھی ہے جنہوں نے ایسے شیردل لختِ جگر کو جنم دیا، ان کی پرورش کی اور انہیں حق، حوصلے اور وفاداری کے راستے پر چلنے کا حوصلہ دیا۔ ماں کے لیے اس سے بڑھ کر کوئی فخر نہیں کہ اس کا بیٹا اپنی مٹی، اپنے لوگوں اور اپنے اصولوں کی خاطر اپنی جان قربان کر دے، لیکن اس فخر کے پیچھے ایک ماں کے دل کا وہ درد بھی چھپا ہوتا ہے جسے الفاظ کبھی مکمل طور پر بیان نہیں کر سکتے۔ ان تمام ماؤں کو ہزاروں سلام جنہوں نے اپنے جگر کے ٹکڑے وطن اور قوم کے نام کر دیے۔ سلام ان کی ممتا کو، سلام ان کے حوصلے کو، سلام ان کی قربانی کو اور سلام اس عظیم جذبے کو جس نے انہیں اپنے شہید بیٹوں کی جدائی کا دکھ برداشت کرنے کی طاقت عطا کی۔

ہمارے تمام شہداء، وہ مرد و خواتین، بہنیں اور بھائی، جو اپنے اپنے عزم اور یقین کے ساتھ اس کٹھن دور سے گزرے اور جنہوں نے اپنی جانوں کی قربانی دے کر تاریخ پر اپنے نقوش ثبت کیے، آج بھی ہماری یادوں کا حصہ ہیں۔ ان سب کو عقیدت، احترام اور سلام پیش کرتے ہیں۔ ان قربانیوں نے بے شمار دلوں میں اپنے مستقبل، اپنے حق اور اپنے وطن کے حوالے سے امید کو زندہ رکھا ہے شہداء کا لہو تاریخ کے صفحات پر ایک ایسی داستان چھوڑ جاتا ہے جسے وقت آسانی سے مٹا نہیں سکتا۔ آنے والی نسلیں اپنے گزرے ہوئے لوگوں کو یاد کرتی ہیں، ان کی قربانیوں سے سوال کرتی ہیں اور ان خوابوں کو سمجھنے کی کوشش کرتی ہیں جن کے لیے ان کے بزرگوں نے اپنی زندگیاں وقف کیں۔ ہم دعا کرتے ہیں کہ بلوچستان کے لوگوں کی آنے والی نسلیں ایک ایسے مستقبل کا سورج دیکھیں جہاں عزت، امن، انصاف، آزادیِ اور اپنے مستقبل کے فیصلوں خود کریں۔ وہ دن آئے جب آج کے یہ آنسو خوشی کے آنسوؤں میں بدل جائیں، جب ماؤں کے دلوں میں جدائی کا درد کم ہو اور آنے والی نسلیں خوف کے بجائے امید کے سائے میں پروان چڑھیں۔ ان سب کی داستانیں اپنے اندر درد، جدائی، قربانی اور حوصلے کی ایسی بے شمار کہانیاں سمیٹے ہوئے ہیں ان قربانیوں نے ہمیں اپنے وطن سے محبت، اپنے لوگوں کے دکھ کو سمجھنے اور ایک باوقار مستقبل کی امید رکھنے کا درس دیا ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کی یاد دلوں میں عزم پیدا کرتی ہے، جن کی داستانیں آنکھوں کو نم بھی کرتی ہیں اور امید کا چراغ بھی روشن رکھتی ہیں۔ یہی امید زندہ رہے، یہی خواب نسل در نسل منتقل ہوتا رہے، اور ہمارے شہداء کی یاد ہمیشہ احترام، وقار اور امن کے ساتھ زندہ رہے۔

باقی وہ تمام مائیں، جو اپنے لختِ جگر کے جیل کی اذیتوں میں مبتلا ہونے کے بعد دن، مہینے اور سال اس امید اور انتظار میں گزار دیتی ہیں کہ شاید آج دروازے پر دستک ہو، اور ان کا بیٹا واپس لوٹ آئے۔ مگر ظالم دشمن ہمیں اپنے لختِ جگر ویرانوں سے لاشوں کی صورت میں واپس کرتے رہے ہیں۔ ان ماؤں کے حوصلے، صبر اور برداشت میں چھپے درد کو وہی محسوس کر سکتا ہے جو اس کرب سے گزرا ہو۔ یہ ایسا دکھ ہے جسے الفاظ میں بیان کرنا ممکن نہیں۔ ہاں، جو مائیں اس اذیت سے گزر چکی ہیں اور جو آج بھی اسی انتظار، کرب اور بے یقینی میں زندگی گزار رہی ہیں، ان کے دل کا درد کوئی دوسرا پوری طرح محسوس نہیں کر سکتا۔

شہداء کی یاد دراصل ہمارے اجتماعی حافظے کی وہ امانت ہے جسے وقت کی گرد کبھی مٹا نہیں سکتی۔ ریحان جان اور ان تمام شہداء کی قربانیاں ہمیں یہ یاد دلاتی ہیں کہ تاریخ صرف واقعات سے نہیں بنتی، بلکہ ان انسانوں کے درد، خواب، جدوجہد اور قربانیوں سے تشکیل پاتی ہے جو اپنے بعد آنے والوں کے لیے ایک بہتر مستقبل کا خواب دیکھتے ہیں۔


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔