قید کی اذیت
تحریر: سازین بلوچ
دی بلوچستان پوسٹ
میں یہ چاہوں گی کہ میں موت کو قبول کروں، مگر پاکستان اور اس کی بنائی گئی حکومت کی غلامی کو نہیں؛ کیونکہ جب ایک بلوچ قید کی اذیت سے گزر رہا ہوتا ہے، تو اسے سمجھ آتی ہے کہ یہ ہمارا خیرخواہ نہیں۔ وہ زنداں میں ان کی ہر وہ وحشت دیکھتا ہے، اور اس وقت سمجھ جاتا ہے کہ جو ہم سوچتے تھے کہ یہ کتنا نفرت کرتا ہے، تب ہم غلط ثابت ہوتے ہیں۔
کیونکہ ہمارے سوچ سے کہیں زیادہ وہ ہم سے نفرت کرتے ہیں لیکن اس قید نے کبھی ہمیں کمزور نہیں کیا، بلکہ ہمیں یہ احساس دلاتی ہے کہ یہ جو ظلم تم میرے ساتھ اس قید خانے میں کر رہے ہو، یہ میرے آنے والی نسل کے ساتھ نہیں ہونا چاہیے۔ جیل یا قید وہ جگہ ہے کہ انسان تو کمزور ہو سکتا ہے، مگر سوچ اور مزاحمت کبھی نہیں۔ مزاحمت وہ بلند ترین خیال ہے انسان کی، جو غلامی پر مجبور نہیں کر سکتی۔ تمہارا جسم ہی اس کا غلام ہو سکتا ہے، مگر تمہارا فکر نہیں۔ ایک قید تمہیں وہ شعور اور سوچ دیتی ہے، جو تمہارے سوچ کو دوبارہ زندہ کرتی ہے۔ تمہیں سوچنے پر مجبور کرتی ہے کہ تمہاری مزاحمت کس رخ پر ہے۔ ایک بلوچ کو اس قید کی سزا اور اس ریاست کی وحشت کا اندازہ پہلے سے ہونا چاہیے۔
جب کسی کو اس قید میں ڈال دیا جاتا ہے، تب اسے اندازہ نہیں ہوتا کہ یہ کیا کر سکتے ہیں؛ کیونکہ ان کی نفرت ہمارے سوچ سے کہیں زیادہ ہے۔ آپ کی فکر اور سوچ آپ کو اس زنداں سے نکلوا سکتی ہے۔ ہم کمزور اور ناامید تو ہو سکتے ہیں کہ اس قید سے کیسے نکلیں گے، مگر وہ فکر جو ہمیں کمزور ہونے سے بچاتی ہے، ہمیں اس قید میں بھی مایوسی سے بچاتی ہے۔
وہ فکر، شعور اور سوچ جو ہمیں ہمارے رہنماؤں سے ملی ہے؛ وہ فکر جو ہمیں مایوس ہونے سے روکتی ہے، وہ یہ کہ بلوچ آج سے نہیں، بلکہ بہت پہلے سے زنداں میں قید ہیں، وہ کبھی بھی ناامید اور مایوس نہیں ہوتے۔ یہ وہ فکر ہے جو آج تک زندہ ہے ان بلوچ بہادروں میں، جو آج بھی غلامی قبول نہیں کر رہے ہیں۔ زنداں کی اذیت سے تو گزر رہے ہیں، مگر ان کی سوچ آج بھی وہی ہے۔ بہادری اس خون میں ہو اور سوچ آزادی کی ہو، تو وہ کیسے کمزور ہو سکتا ہے؟ یہ وہ فکر جو بلوچ کو قید میں بھی زندہ رکھتی ہے، وہ گہرام سکندر کی مزاحمت اور شعور ہیں کہ وہ پوری زندگی زنداں میں تو گزار دی، لیکن آج بھی اپنے پختہ عزم کے ساتھ اس کی غلامی قبول نہیں کی۔ آج بھی اس کی فکر کے ساتھ زنداں کی اذیت ہر بلوچ کاٹ رہا ہے۔ جو لوگ خود قید خانوں میں ہیں، لیکن ان کا شعور باہر ہر جگہ پھیل چکا ہے۔ میں یہ سوچنے پر مجبور ہوں، جو خود تو اس ریاست کی قید میں ہیں، مگر ان کا فکر بہار کے موسم کی خوشبو کی طرح پھیلتا جا رہا ہے، اور ہر اس بلوچ کو ایک امید دے رہا ہے کہ قید تمہیں کمزور نہیں، بلکہ اس کی یہ سوچ کو ختم کر رہی ہے کہ جو تم مجھے قید تو کر سکتیے ہو، مگر فکر کی چراغ کو بجھا نہیں سکتے۔ میرے وطن سے محبت کو کم نہیں کر سکتے۔ تمہارے ہر ظلم کے باوجود، فکر جو ہم تک پہنچ رہی ہے، یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ بلوچ نے کبھی غلامی قبول نہیں کی، اور زنداں میں قید وہ شخص نے بھی۔ یہ تمہاری ناکامی ہے کہ ایک جسم قید ہونے سے ایک فکر قید نہیں ہو سکتا، اور فکر جس نے خوب آزادی کی دیکھی ہو۔
دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔













































