بلوچ لبریشن آرمی کے ترجمان جیئند بلوچ نے میڈیا کو جاری بیان میں کہا ہے کہ سرمچاروں کا مرکزی شاہراہوں پر کنٹرول برقرار رہا، جہاں سرمچاروں نے بارہ روز کے دوران گیارہ کارروائیاں سرانجام دیں۔ ان حملوں میں سیندک استحصالی پروجیکٹ سے منسلک گاڑیوں کے قافلوں، ایندھن وگیس کی ترسیل میں ملوث گاڑیوں سمیت ان دیگر گاڑیوں کو نشانہ بنایا گیا جو قابض ریاست کو معاشی فوائد پہنچا رہی تھیں۔ حملوں میں چھتیس سے زائد گاڑیاں تباہ ہو گئیں جبکہ سی پیک روٹ پر دو مرکزی پلوں کو بھی دھماکوں سے تباہ کر دیا گیا۔
انہوں نے کہاکہ 1 جون: سرمچاروں نے پنجگور – چیدگی روٹ کا مکمل کنٹرول حاصل کیا جو دو روز تک جاری رہا۔ اس دوران سرمچاروں نے چھ بڑی گاڑیوں پر فائرنگ کی اور انہیں نذرِ آتش کر کے تباہ کر دیا۔
انہوں نے کہاکہ 5 جون: سرمچاروں نے لسبیلہ میں والپٹ کے مقام پر کوئٹہ – کراچی مرکزی شاہراہ پر چیک پوائنٹس قائم کر کے کنٹرول حاصل کیا اور ایک گھنٹے سے زائد وقت تک چیکنگ جاری رکھی۔ اس دوران سرمچاروں کے دیگر دستوں نے ایکسائز چوکی اور استحصالی کمپنی کی سائٹ پر کنٹرول حاصل کر لیا۔ سرمچاروں نے استحصالی کمپنی کی بھاری مشینری اور دس گاڑیوں کو نذرِ آتش کر کے تباہ کر دیا اور ایکسائز اہلکاروں سے اسلحہ ضبط کر لیا، جبکہ حملے میں ایک کانسٹیبل زخمی ہوا۔ سرمچاروں نے پولیس اہلکار سمیت تین افراد کو حراست میں لیا تاہم انہیں بعد ازاں تنظیمی پالیسی کے تحت رہا کر دیا گیا۔
اسی روز سرمچاروں نے چمالنگ – کوہلو روڈ کا کنٹرول حاصل کر کے اسنیپ چیکنگ کی۔ مزید برآں، نوشکی میں دو مقامات ‘سرمل’ اور ‘رحمانزئی’ پر کوئٹہ – تفتان شاہراہ کا کنٹرول گھنٹوں تک حاصل کر کے پانچ گاڑیوں کو نشانہ بنایا۔
ترجمان نے کہاکہ 7 جون: مستونگ کے علاقے کردگاپ میں سرمچاروں نے سیندک سے معدنیات لوٹ کر لے جانے والی استحصالی کمپنی کے بارہ گاڑیوں کے ایک قافلے کو حملے میں نشانہ بنایا۔ اس حملے میں معدنیات لے جانے والی تین گاڑیاں مکمل طور پر تباہ ہو گئیں جبکہ قابض فوج کی ایک گاڑی راکٹ لگنے سے تباہ ہو گئی، حملے میں قابض فوج کے چھ اہلکار ہلاک و زخمی ہوئے۔
انہوں نے کہاکہ 9 جون: مستونگ میں سرمچاروں نے پاکستان اسٹیٹ آئل (پی ایس او) کی ایک گاڑی کو فائرنگ کر کے ناکارہ کر دیا۔
10 جون: نوشکی، مَل میں رحمانزئی کے مقام پر شاہراہ پر سرمچاروں نے معدنیات لے جانے والی گاڑیوں کے ایک قافلے کو حملے میں نشانہ بنایا۔ سرمچاروں نے دس گاڑیوں کو نذرِ آتش کر کے تباہ کر دیا جبکہ متعدد گاڑیوں کے ٹائروں پر فائرنگ کر کے انہیں نقصان پہنچایا۔
انہوں نے کہاکہ 11 جون: خاران کے قریب، ارماگئے واشک میں سرمچاروں نے استحصالی پروجیکٹ (سی پیک روڈ) کے دو مرکزی پلوں کو دھماکا خیز مواد نصب کر کے تباہ کر دیا۔
مزید کہاکہ بلوچستان میں جاری قومی آزادی کی جنگ کے تزویراتی تقاضے اس امر پر زور دیتے ہیں کہ قابض ریاست کی معاشی شہہ رگ پر فیصلہ کن ضرب لگائی جائے۔ نوآبادیاتی تسلط کے خلاف مسلح قومی مزاحمت کا یہ ایک مسلمہ اصول ہے کہ غاصب قوت کے معاشی مفادات کو اس حد تک غیر محفوظ، غیر مستحکم اور خسارے کا سودا بنا دیا جائے کہ اس کے لیئے مقبوضہ سرزمین پر جبری قبضہ برقرار رکھنے کی قیمت، یہاں کے وسائل کی لوٹ مار سے حاصل ہونے والے منافع سے کہیں زیادہ بڑھ جائے۔ جب تک بلوچستان کو غاصب ریاست کے لیئے ایک ناگزیر معاشی بوجھ میں تبدیل نہیں کردیا جاتا، تب تک اس کی اندھی عسکری مہم جوئی اور بلوچ نسل کشی کے ہولناک سلسلے کو روکنا ممکن نہیں، کیونکہ سیندک، ریکوڈک، گوادر، سوئی اور کوئلے جیسے ہمارے گرانقدر قومی وسائل کی بے دریغ چوری ہی قابض پاکستانی فوج کے اس جابرانہ تسلط کو مالیاتی ایندھن فراہم کر رہی ہے۔
ترجمان نے کہاکہ اس تناظر میں، بلوچستان سے گزرنے والی مرکزی شاہراہیں محض عام مواصلاتی یا سفری رابطے نہیں ہیں، بلکہ یہ وہ نوآبادیاتی تجارتی شریانیں ہیں جن کے ذریعے ہماری دھرتی کی دولت کو بے رحمی سے نچوڑ کر پنجاب منتقل کیا جا رہا ہے۔ کسی بھی غلام وطن کے وسائل کا غاصبانہ اور بے دریغ استحصال کبھی بھی وہاں کے مقامی لوگوں کے وسیع تر مفاد میں نہیں ہو سکتا۔ قابض کے گرد بلوچ لبریشن آرمی کی یہ معاشی ناکہ بندی اور استحصالی کمپنیوں کی گاڑیوں کو نشانہ بنانے کا عمل کسی عوام دشمنی کا مظہر نہیں، بلکہ یہ بلوچ قومی بقا، ساحل و وسائل کے تحفظ اور غاصب ریاست کے توسیع پسندانہ نوآبادیاتی عزائم کو خاک میں ملانے کا ایک جائز، قانونی اور ناگزیر دفاعی ردِعمل ہے، جو مزید شدت کے ساتھ جاری رہیگی۔
بین الاقوامی قوانین، اقوامِ متحدہ کے چارٹر اور قومی دفاع کے مسلمہ اصولوں کے تحت، کسی بھی مقبوضہ خطے کے مغلوب ومحکوم عوام کو یہ بنیادی اور ناقابلِ تنسیخ حق حاصل ہے کہ وہ اپنی دھرتی پر مسلط کردہ ہر قسم کے جبری منصوبوں کو طاقت کے زور پر مسترد کریں۔ غاصب قوت کی جانب سے مقامی بلوچ آبادی کی مرضی اور خودمختاری کو پامال کرکے بنائے جانے والے نام نہاد ترقیاتی منصوبے دراصل نوآبادیاتی قبضے کو طول دینے اور بلوچ قوم کو اپنی ہی تاریخی دھرتی پر معاشی، سیاسی اور جغرافیائی طور پر اقلیت میں تبدیل کرنے کی ایک گہری اور مکارانہ سازش ہے۔ سی پیک سمیت دیگر بیرونی و مقامی سرمایہ کاری کے تمام تر منصوبے بلوچ عوام کی خوشحالی کے لیئے نہیں، بلکہ ان کی نسل کشی میں مصروف ریاستی عسکری مشینری کو مضبوط کرنے کے لیئے وضع کیئے گئے ہیں۔ لہٰذا، ان استحصالی منصوبوں کی لاجسٹک سپلائی لائن، مواصلاتی نیٹ ورک اور انفراسٹرکچر کو مفلوج کرنا بین الاقوامی قانون کے مطابق قومی آزادی کی جدوجہد کا ایک ناگزیر اور تسلیم شدہ حصہ ہے۔
آخر میں کہاکہ بلوچ لبریشن آرمی، تمام ٹرانسپورٹ مالکان، ڈرائیوروں اور عوام کو یہ ہدایت جاری کرتی ہے کہ وہ اس استحصالی نوآبادیاتی نظام کا پرزہ بننے سے خود کو فوری طور پر الگ کرلیں۔ مالکان اور ڈرائیورز قومی دولت کی منظم چوری اور استحصالی کمپنیوں کے لیئے ایندھن، رسد یا کسی بھی قسم کی لاجسٹک ترسیل کا حصہ بننے سے مکمل طور پر گریز کریں، جبکہ عام مسافر اور شہری اپنی جان ومال کی حفاظت کی خاطر ان شاہراہوں پر سفر کے دوران فوجی قافلوں، قابض فورسز کی تحرک اور استحصالی پروجیکٹس کی گاڑیوں کے قریب رہنے سے سختی سے پرہیز کریں۔ ہماری یہ جنگ بلوچ قوم کی مکمل خودمختاری، قومی وقار اور غیر مشروط آزادی کی جنگ ہے، اور جب تک بلوچ سرزمین سے غیر ملکی تسلط، غاصبانہ لوٹ مار اور نوآبادیاتی جبر کا مکمل خاتمہ نہیں ہو جاتا، ہماری یہ معاشی ناکہ بندی اور عسکری مزاحمت پوری شدت اور وسعت کے ساتھ جاری رہے گی۔
















































