یونائیٹڈ بلوچ آرمی کے ترجمان مزار بلوچ نے میڈیا کو جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ یو بی اے کے سرمچاروں نے گزشتہ شام 6:00 بجے بولان میں کوئٹہ سبی قومی شاہراہ (N-65) اپطاری کے مقام پر ناکہ بندی قائم کی گئی اور تقریباً ڈیڑھ گھنٹے تک اسنیپ چیکنگ کا عمل جاری رہا اس دوران گزرنے والی گاڑیوں اور افراد کی جانچ پڑتال کے ساتھ علاقے کی آمدورفت پر کڑی نظر رکھی گئی۔ اس اقدام کا مقصد قابض فوج اور مشکوک افراد کے سرگرمیوں پر نظر رکھنا اور دشمن کی نقل و حرکت کو محدود کرنا تھا۔
انہوں نے کہا کہ اس دوران بلوچ سرمچاروں کے ایک اور دستے نے گوکرت کے مقام پر KMP-246 والو اسمبلی 18 انچ قطر گیس کی مین پائپ لائن کو دھماکا خیز مواد سے تباہ کر دیا جس کے نتیجے میں کوئٹہ سمیت کولپور، مچھ ،مستونگ، قلات، پشین، زیارت میں گیس کی سپلائی میں مکمل تعطل پیدا ہوگیا، جس سے متاثرہ علاقوں میں گیس فراہمی مکمل طور پر بند ہوگئی۔
ترجمان نے کہا کہ اپطاری کے مقام پر دو مختلف کاروائیوں (N-65) میں قائم پل کو دھماکے سے اڑا دیا جس کے نتیجے میں پل کو جزوی نقصان پہنچا اسی دوران سرمچاروں نے قابض آرمی کے زیر استعمال سرویلنس کیمروں کو بھی نشانہ بناکر تباہ کردیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ ان حملوں کے بعد دراژ بیٹ سے سرمچاروں کی طرف پیش قدمی کرنے والے 20 گاڑیوں پر مشتمل قافلے کو خودکار ہتھیاروں سے نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں ایک گاڑی فائرنگ کی زد میں آکر سڑک سے نیچے الٹ گئی۔ جس کے نتیجے میں ایک اہلکار ہلاک اور متعدد اہلکار شدید زخمی ہوئے. کارروائی کے دوران قابض فوج نے سرمچاروں کی پوزیشنوں پر الٹریز اور کواڈ کاپٹر ڈرونز کے ذریعے متعدد ناکام حملے کیے، جس کے جواب میں سرمچاروں نے بروقت کواڈ کاپٹر ڈرونز پر جوابی فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں کواڈکاپٹر ڈرونز واپس چلے گئے۔ان منظم کاروائیوں کی ذمہ داری ہماری تنظیم یو بی اے قبول کرتی ہے
ہمارے اس طرح کے حملے آزاد بلوچستان کے حصول تک رہیں گی۔













































