سوراب میں شہری آبادی پر بمباری بلوچ نسل کشی کا تسلسل ہے۔ ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ

1

ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ نے ہدہ جیل کوئٹہ سے جاری ایک بیان میں کہا ہے کہ پاکستان گزشتہ سات دہائیوں سے بلوچ عوام پر حکمرانی کے لیے جبر اور طاقت کا استعمال کرتا آ رہا ہے۔ ریاست نے مسلسل جبر کے سائے تلے بلوچستان پر اپنی حکمرانی قائم رکھنے کی کوشش کی، مگر حکمرانی کا یہ پرتشدد ماڈل اب ناکام ہو چکا ہے اور اس ناکامی کی قیمت ایک بار پھر عام بلوچ آبادی سے وصول کی جا رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ بلوچ نسل کشی محض بلوچستان کا داخلی مسئلہ نہیں بلکہ ایک عالمی انسانی المیہ ہے۔ جب تک بلوچ نسل کشی اور اس کے بنیادی اسباب کا ازالہ نہیں کیا جاتا، امن کی ہر بات محض لفاظی اور حقیقت سے فرار کے مترادف ہے۔

ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ نے کہا کہ گزشتہ چند ماہ سے سیکیورٹی کے نام پر بلوچستان کے مختلف علاقوں میں کرفیو، فوجی آپریشن، جبری گمشدگیاں اور قتلِ عام معمول بنتے جا رہے ہیں۔ ان واقعات کی بڑی تعداد ریاستی میڈیا کے بیانیے میں جگہ نہیں پاتی، مگر بلوچ عوام ان حالات کو روز اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں اور اپنی زندگیوں میں بھگت رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ایسی ہر ریاستی پالیسی مسترد کی جانی چاہیے جس میں بلوچ بچوں، عورتوں اور عام شہریوں کی جانوں کو خطرے میں ڈال کر ان کی ہلاکتوں کو محض Collateral Damage قرار دے کر نظر انداز کیا جائے۔

ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کے مطابق سوراب میں گزشتہ رات پاکستانی جنگی طیاروں کی مبینہ بمباری کے نتیجے میں 27 افراد ہلاک و زخمی ہوئے، جن میں بچے بھی شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عام شہریوں کے گھروں اور آبادیوں پر بمباری کے نتیجے میں بچوں سمیت شہریوں کی ہلاکتوں کو معمول کی کارروائی سمجھنا محض فوجی آپریشن نہیں بلکہ بلوچ عوام کے خلاف جاری ریاستی جبر کا تسلسل ہے۔

انہوں نے کہا کہ سوراب کے عوام کی جانب سے اس حملے کے خلاف سڑک بند کرکے احتجاج کرنا اس بات کا اظہار ہے کہ بلوچ عوام اپنی جان و مال کے تحفظ اور شہری ہلاکتوں کے خلاف خاموش نہیں رہیں گے۔

ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ نے بلوچستان کے عوام سے اپیل کی کہ وہ سوراب واقعے کے خلاف اپنے گھروں سے نکلیں، اس ظلم کے خلاف اپنی آواز بلند کریں اور اپنے پیاروں کے قتل پر خاموش رہنے کے بجائے مزاحمت کا راستہ اختیار کریں۔