بلوچستان سے مزید دو افراد جبری گمشدگی کا شکار، کراچی سے ایک شخص بازیاب

40

بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ سے مزید دو افراد کے جبری گمشدگی کا شکار ہونے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں، جبکہ کراچی سے ایک لاپتہ شخص کی بازیابی کی خبر بھی سامنے آئی ہے۔

موصولہ اطلاعات کے مطابق کوئٹہ کے علاقے کلی قمبرانی روڈ سے 32 سالہ شہزاد قمبرانی ولد عبدالرحمان قمبرانی کو 5 جون 2026 کی صبح تقریباً 3 بجے ان کے گھر سے حراست میں لے کر لاپتہ کر دیا گیا۔ اہل خانہ کا کہنا ہے کہ انہیں ایف سی اور ملٹری انٹیلی جنس (MI) کے اہلکاروں نے گھر پر چھاپے کے دوران اپنے ساتھ لے گئے، جس کے بعد سے ان کے بارے میں کوئی اطلاع نہیں مل سکی۔ شہزاد قمبرانی پیشے کے اعتبار سے دکاندار ہیں اور کلی قمبرانی، کوئٹہ کے رہائشی ہیں۔

ایک اور واقعے میں کوئٹہ کے علاقے عوامی پمپ، کلی حسین آباد سریاب روڈ سے 16 سالہ عزیز بلوچ ولد محمد سلطان کو 25 مئی 2026 کی رات تقریباً 2 بجے ان کے گھر سے حراست میں لینے کے بعد لاپتہ کر دیا گیا۔ لواحقین کے مطابق کارروائی میں سی ٹی ڈی، آئی ایس آئی اور ملٹری انٹیلی جنس کے اہلکار شامل تھے۔ عزیز بلوچ رکشہ ڈرائیور ہیں اور گرفتاری کے بعد سے ان کے بارے میں کوئی معلومات فراہم نہیں کی گئی ہیں۔

دوسری جانب کراچی سے ایک بازیابی کا کیس بھی رپورٹ ہوا ہے۔ اطلاعات کے مطابق زاہد علی ولد عبد الحمید، جو کراچی کے علاقے کلری لیاری کے رہائشی ہیں، 17 جولائی 2025 کو جبری گمشدگی کا شکار ہوئے تھے۔ انہیں یکم جون 2026 کو کراچی کے علاقے صفورا گوٹھ میں بازیاب کر دیا گیا۔ زاہد علی تقریباً دس ماہ سے زائد عرصے تک لاپتہ رہے۔

ان تازہ واقعات کے بعد بلوچستان اور سندھ میں جبری گمشدگیوں کے حوالے سے تشویش میں مزید اضافہ ہوا ہے، جبکہ متاثرہ خاندان اپنے پیاروں کی بازیابی اور انصاف کے مطالبے پر قائم ہیں