وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز (وی بی ایم پی) کے زیرِ اہتمام جبری لاپتہ آصف بلوچ سمیت دیگر لاپتہ افراد کی باحفاظت بازیابی کے لیے کوئٹہ پریس کلب کے سامنے ایک احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔
مظاہرے میں جبری لاپتہ افراد کے لواحقین، انسانی حقوق کے کارکنوں، وکلاء، طلبہ، سیاسی و سماجی کارکنوں اور مختلف مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔
احتجاجی مظاہرے سے وی بی ایم پی کے چیئرمین نصراللہ بلوچ، جبری لاپتہ آصف بلوچ کی ہمشیرہ، شاہد کرد کے بھائی، نور محمد کرد کے بھائی، ظہیر بلوچ کی ہمشیرہ اور دیگر مقررین نے خطاب کیا۔
مقررین نے کہا کہ جبری گمشدگیاں شہریوں کے بنیادی انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہیں۔ ایک فرد کی جبری گمشدگی نہ صرف متاثرہ شخص بلکہ اس کے پورے خاندان کو مسلسل ذہنی اذیت، بے یقینی اور کرب میں مبتلا کر دیتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت نے رواں سال دعویٰ کیا تھا کہ فروری سے جبری گمشدگیوں کے مسئلے کو حل کر دیا گیا ہے اور اب کسی بھی شخص کو حراست میں لیے جانے کی صورت میں 2025 کے جبری گمشدگیوں سے متعلق قانون کے تحت 24 گھنٹوں کے اندر مجسٹریٹ کے سامنے پیش کیا جائے گا، اسے حراستی مرکز میں رکھا جائے گا اور اہلِ خانہ کو اس سے ملاقات کی اجازت دی جائے گی۔ تاہم مقررین کے مطابق زمینی حقائق اس دعوے کے برعکس ہیں، کیونکہ بلوچستان میں لوگوں کو حراست میں لینے کے بعد جبری طور پر لاپتہ کیے جانے کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ متعدد افراد کو حراستی مراکز میں منتقل نہیں کیا جا رہا، جبکہ روزانہ کی بنیاد پر جبری لاپتہ افراد کی لاشیں ملنے کے واقعات بھی سامنے آ رہے ہیں۔
مقررین نے حکومت پر زور دیا کہ وہ جبری گمشدگیوں کے خاتمے سے متعلق اپنے وعدوں پر عملی درآمد کرے، تمام جبری لاپتہ افراد کو فوری طور پر بازیاب کرایا جائے اور قانون کی بالادستی کو یقینی بنایا جائے۔
مظاہرے کے شرکاء نے آصف بلوچ سمیت تمام جبری لاپتہ افراد کی فوری اور باحفاظت بازیابی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ جن افراد پر کسی بھی نوعیت کے الزامات ہیں، انہیں آئین اور قانون کے مطابق عدالتوں میں پیش کیا جائے۔ انہوں نے جبری گمشدگیوں اور لاپتہ بلوچوں کے ماورائے عدالت قتل کے خاتمے کا مطالبہ کرتے ہوئے اس امر پر زور دیا کہ تمام شہریوں کے بنیادی انسانی اور آئینی حقوق کا ہر صورت تحفظ یقینی بنایا جائے۔


















































