یونس بلوچ کی جبری گمشدگی تشویشناک ہے، فوری بازیابی کا مطالبہ کرتے ہیں۔ بی ایس او

15

بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے ترجمان نے کہا ہے کہ گزشتہ شب تقریباً 12 بجے تنظیم کے شال زون کے آرگنائزر یونس بلوچ کو پاکستانی فورسز نے ان کے گھر، کوئٹہ، سے بغیر کسی وارنٹِ گرفتاری کے جبری گمشدگی کا نشانہ بنایا، اور تاحال ہمیں ان کی سلامتی کے متعلق کوئی آگاہی فراہم نہیں کی گئی۔ یونس بلوچ کی جبری گمشدگی کو ملکی و بین الاقوامی قوانین کی صریح خلاف ورزی اور طاقت کے زور پر جمہوری آوازوں کو دبانے کی سازش کا تسلسل سمجھتے ہیں۔ بی ایس او اپنے ساتھی رہنما کی جبری گمشدگی کی شدید الفاظ میں مذمت کرتی ہے اور مطالبہ کرتی ہے کہ یونس بلوچ کی باحفاظت بازیابی کو فوری طور پر یقینی بنایا جائے۔

ترجمان نے کہا کہ ملک کے طول و عرض میں سماجی، سیاسی اور معاشی بحرانوں کے نتیجے میں اٹھنے والی عوامی بغاوتوں کے خلاف منظم ریاستی حملوں کے تسلسل میں سیاسی و سماجی کارکنوں کو جھوٹے مقدمات کے اندراج، غیر قانونی حراست، فورتھ شیڈول میں شامل کیے جانے اور جبری گمشدگی جیسے وحشتناک ہتھکنڈوں کے ذریعے انتقامی کارروائیوں کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، جو انسانی حقوق، اظہارِ رائے کی آزادی اور انسانی وقار کی صریح خلاف ورزی ہے۔ بی ایس او جمہوری سیاسی عمل پر منظم حملوں کی شدید مذمت کرتی ہے اور ملک بھر کی محکوم قوموں، مظلوم طبقات اور بالخصوص طلبہ سے اپیل کرتی ہے کہ وہ اس ریاستی جبر کے خلاف متحد ہوں اور اپنے سیاسی و جمہوری حقوق کے دفاع میں صف آراء ہوں۔

مزید کہا کہ بی ایس او ترقی پسند سیاسی جماعتوں، طلبہ تنظیموں، وکلاء برادری، صحافیوں، انسانی حقوق کے کارکنوں اور سماجی رہنماؤں سے اپیل کرتی ہے کہ یونس بلوچ کی باحفاظت بازیابی کے لیے بھرپور آواز اٹھائیں۔