وڈیرہ عزیز تراسانی سے سردار موسیانی تک: زہری میں سرداری آمریت اور ریاستی گٹھ جوڑ کا سیاہ باب – سعد بلوچ

51

وڈیرہ عزیز تراسانی سے سردار موسیانی تک: زہری میں سرداری آمریت اور ریاستی گٹھ جوڑ کا سیاہ باب

تحریر: سعد زہری

دی بلوچستان پوسٹ

بلوچستان کی سیاسی بساط پر زہری کا علاقہ ایک ایسی علامت بن چکا ہے جہاں تاریخ بار بار خود کو دہرا رہی ہے، لیکن ہر بار یہ تکرار پہلے سے زیادہ خونیں اور کربناک ہوتی ہے۔ یہ محض سرداروں کی باہمی چپقلش نہیں، بلکہ ایک منظم نظامِ استبداد ہے جو ایک طرف فرسودہ قبائلی روایات کے لبادے میں چھپا ہے اور دوسری طرف اسے ریاست کی سرپرستی میں ایک “خوفناک مشین” کی طرح چلایا جا رہا ہے۔ وڈیرہ عزیز تراسانی سے شروع ہونے والا یہ خونیں سفر آج سردار موسیانی کے گھر کے آنگن تک پہنچ چکا ہے، جس کا مقصد زہری کے سماجی اور سیاسی ماحول کو مکمل طور پر مسخ کرنا ہے۔

اس سارے کھیل کی جڑیں انجیرہ کے ان کمروں میں پیوست ہیں جہاں صلح و صفائی کے نام پر موت کے سودے کیے جاتے ہیں۔ یہ کوئی حادثہ نہیں کہ جب بھی زہری میں کوئی عوامی آواز اٹھتی ہے یا کوئی سیاسی شخصیت اپنی خود مختار حیثیت برقرار رکھنے کی کوشش کرتی ہے، تو اسے انہی قدیم اور فرسودہ طریقوں سے راستے سے ہٹا دیا جاتا ہے۔ امان اللہ زرکزئی کی مثال ہمارے سامنے ہے، جو اپنی آزادانہ سوچ کی قیمت اپنی جان سے ادا کر گئے۔ سردار موسیانی کو بھی اسی سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا گیا، کیونکہ وہ اس استحصالی نظام کے لیے ایک ایسی دیوار بن چکے تھے جسے گرانا ریاست اور اس کے گماشتہ سرداروں کی بقا کے لیے ضروری تھا۔

یہ سرکاری سردار جنہیں ہم زہری کا حکمران کہتے ہیں، دراصل پنجابی ریاست کے وہ ٹاؤٹ ہیں جنہوں نے اپنی ذاتی کرسی کو مستحکم کرنے کے لیے زہری کی پوری آبادی کو یرغمال بنا رکھا ہے۔ انہوں نے فوج کو زہری میں اس لیے مضبوط نہیں کیا کہ وہاں امن ہو، بلکہ اس لیے کیا کہ ان کی اپنی “سیاسی دکان” چلتی رہے۔ کرفیو کا نفاذ ان کے لیے کسی لعنت سے کم نہیں بلکہ ایک نعمت ہے، جس کے سائے میں وہ اپنے مخالفین کو چن چن کر قتل کرواتے ہیں، منشیات کا زہر پھیلاتے ہیں اور نوجوانوں کو اغوا کروا کر ان کی زندگیوں کو تاریک کرتے ہیں۔ جو لوگ ان حالات میں کرفیو میں معمولی رعایت پر ان قاتلوں کی تعریف کرتے ہیں، وہ دراصل اپنی ہی غلامی کے طوق کو چوم رہے ہوتے ہیں۔

اگر ہم ان کیسز پر غور کریں جو ماضی سے اب تک سامنے آئے ہیں، تو ایک بھیانک نقشہ ابھرتا ہے۔ چاہے وہ جمالزئی قبیلہ کے مسجد میں نماز کے دوران درجن بھر ایک ساتھ پورے قبیلے کا قتلِ عام ہو، جتک قبیلے کے معززین کو نشہ دے کر ویرانے میں پھینکنا ہو، یا شاہوزئی اور جمالزئی قبیلوں کے درجنوں افراد کو ٹریکٹر میں ایک ساتھ شہید کر کے لاشوں کو ٹھکانے لگانا ہو، ان سب کے پیچھے ایک ہی ہاتھ اور ایک ہی سوچ کارفرما رہی ہے۔ ریاست کا کام صرف یہ ہے کہ وہ ان قاتلوں کو سیکورٹی فراہم کرے، ان کے خلاف درج مقدمات کو فائلز میں دبا دے، اور انہیں کھلی چھوٹ دے کہ وہ بلوچ معاشرے کو اندر سے کھوکھلا کریں۔

یہ سردار صرف اپنے قبیلے کے نہیں، بلکہ دشمن کے وفادار ہیں۔ جب یہ کسی قبیلے کو آپس میں لڑاتے ہیں تو یہ ان کی “پریکٹس” ہوتی ہے۔ لڑائی کے بعد جو گروہ زندہ بچتا ہے، اسے ریاست اپنے گلے لگا لیتی ہے، ان کے ہاتھ میں سرکاری بندوق تھما دی جاتی ہے اور انہیں بلوچ قومی تحریک کے خلاف بطور “ڈیتھ اسکواڈ” میدان میں اتار دیا جاتا ہے۔ یہ ایک ایسی زنجیر ہے جس کی ہر کڑی خون سے رنگی ہوئی ہے۔

آج ضرورت اس امر کی ہے کہ بلوچ قوم ان حقائق کو محض “قبائلی جھگڑا” سمجھ کر نظر انداز نہ کرے۔ یہ جھگڑے نہیں، یہ بلوچوں کی قومی شناخت اور تحریکِ آزادی کے خلاف ایک مربوط ریاستی سازش ہے۔ سردار موسیانی کا نشانہ بننا اس بات کا ثبوت ہے کہ اب ریاست اور اس کے گماشتے ہر اس شخص کو ختم کرنے پر تلے ہوئے ہیں جو ان کی بالادستی کو چیلنج کرنے کی ہمت رکھتا ہے۔

اب خاموش رہنے کا وقت نہیں رہا۔ یہ سردار جو آج پنجابی کے بوٹ چاٹ کر زہری پر حکمرانی کر رہے ہیں، درحقیقت بلوچ قوم کے سب سے بڑے دشمن ہیں۔ جب تک زہری کے عوام ان کے حصار سے باہر نہیں نکلیں گے اور ان کے بنائے ہوئے اس خوف کے نظام کو نہیں توڑیں گے، تب تک یہ فہرست ختم نہیں ہوگی۔ وڈیرہ عزیز تراسانی سے سردار موسیانی تک کا یہ طویل سفر ہمیں صرف ایک ہی سبق دیتا ہے جب تک یہ استحصالی سرداری نظام باقی ہے، تب تک بلوچوں کی نسل کشی کا سلسلہ بھی جاری رہے گا۔


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔