بلوچستان کے ضلع کیچ کے مختلف علاقوں میں جبری گمشدگیوں کے واقعات میں مزید تین افراد کے لاپتہ ہونے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔
لاپتہ افراد میں مند کے علاقے گوبرد سے تعلق رکھنے والے اکرم ولد اسماعیل، سورگ کے رہائشی حنیف ولد پیر محمد اور گیبن کے رہائشی شمشیر ولد منیر شامل ہیں۔
تفصیلات کے مطابق گزشتہ پیر کو مند کے علاقے گوبرد کے رہائشی نوجوان اکرم ولد اسماعیل کو پاکستانی خفیہ اداروں کے اہلکاروں نے جبری طور پر لاپتہ کیا، اکرم کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ حالیہ دنوں میں ان کے خاندان سے تعلق رکھنے والے یہ چوتھے نوجوان ہیں جنہیں گوبرد سے جبری طور پر لاپتہ کیا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق بعد ازاں فرنٹیئر کور “ایف سی” کی جانب سے اہلِ خانہ کو ہدایت کی گئی کہ وہ اپنے لاپتہ رشتہ داروں کے شناختی کارڈ اور مقامی ڈومیسائل سرٹیفکیٹس لے کر آئیں۔
اس سلسلے میں اکرم ولد اسماعیل اپنے خاندان کے دو دیگر افراد کے ہمراہ مذکورہ دستاویزات جمع کرانے کے لیے ایف سی کیمپ گئے، جب اکرم اپنے ساتھیوں کے ہمراہ ایف سی کیمپ سے باہر نکل رہے تھے تو ایک سیاہ رنگ کی کرولا گاڑی میں سوار مبینہ طور پر خفیہ اداروں کے اہلکاروں نے انہیں زبردستی اپنے ساتھ لے گئے، جبکہ ان کے ہمراہ موجود دونوں افراد کو چھوڑ دیا گیا۔
واقعے کے بعد سے اکرم کے حوالے میں کوئی معلومات سامنے نہیں آ سکیں۔
تربت گیبن سے اطلاعات کے مطابق گذشتہ شب 2 بجے کے قریب مسلح افراد نے ایک گھر میں داخل ہوکر 16 سالہ طالبعلم شمشیر احمد ولد منیر احمد نادل کو بندوق کے زور پر اغوا کرکے اپنے ہمراہ لے گئے ہیں۔
خاندانی زرائع کے مطابق اغوا کاروں کا تعلق مبینہ طور پر مقامی ڈیتھ اسکواڈ سے ہے۔
دریں اثناء کیچ سورگ کے رہائشی حنیف ولد پیر محمد کو آج پاکستانی فورسز نے حراست بعد نامعلوم مقام پر منتقل کردیا ہے، جس کے بعد سے وہ منظرعام پر نہیں آسکے ہیں۔

















































