سرداری نظام کے خلاف نئی قرارداد، پانچ دہائیاں گزرنے کے باوجود قانون پر عمل درآمد سوالیہ نشان

27

بلوچستان اسمبلی کا اجلاس کچھ دیر بعد ہوگا، جس میں صوبے سے سرداری نظام کے خاتمے سے متعلق قرارداد پیش کیے جانے کا امکان ہے۔ ایجنڈے کے مطابق قرارداد میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ نواب اور سردار کے الفاظ بولنے اور لکھنے پر پابندی عائد کی جائے۔

واضح رہے کہ بلوچستان میں سرداری نظام کے خاتمے کے لیے 1976 میں ہی قانون منظور کیا جا چکا ہے، جس کے تحت کوئی شخص سردار کی حیثیت سے غیر قانونی جرگہ نہیں بلا سکتا، قانونی اختیار کے بغیر فیصلے نہیں کر سکتا اور نہ ہی جبری مشقت لے سکتا ہے۔ اس قانون کی خلاف ورزی پر تین سال تک قید کی سزا بھی مقرر ہے۔

سرداری نظام کے خاتمے کے لیے بلوچستان اسمبلی کی پہلی اسمبلی میں سردار عطااللہ مینگل اور نواب خیر بخش مری نے بھی قرارداد پیش کی تھی، جس کے بعد 1976 میں The System of Sardari (Abolition) Act, 1976 منظور کیا گیا۔

بلوچستان ہائیکورٹ بھی سرداری نظام سے متعلق متعدد فیصلے اور احکامات جاری کر چکی ہے، تاہم فراہم کردہ معلومات کے مطابق اس قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف مؤثر کارروائی نہ ہونے کا معاملہ تاحال زیر بحث ہے۔

بلوچستان میں سرداری نظام کے خاتمے سے متعلق نئی قرارداد ایسے وقت میں پیش کی جا رہی ہے جب اس نظام کے خلاف قانون کو نافذ ہوئے تقریباً پانچ دہائیاں گزر چکی ہیں۔ اس صورتحال میں بنیادی سوال یہ ہے کہ پہلے سے موجود قانون پر عمل درآمد کیوں یقینی نہیں بنایا جا سکا اور اس کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف کارروائی کیوں نہیں ہوئی۔

دوسری جانب بلوچستان میں سرداروں اور نوابوں کے سیاسی و قبائلی اثر و رسوخ اور ریاستی سرپرستی سے متعلق بھی بحث جاری ہے۔

یاد رہے کہ بلوچستان میں بیشتر بااثر قبائلی سرداروں کے زیرِ اثر علاقوں میں نجی جیلوں کے قیام اور لوگوں کو غیر قانونی طور پر قید رکھنے کے الزامات ماضی میں سامنے آتے رہے ہیں۔

2023 میں ایک تحقیاتی رپورٹ میں بلوچستان کے مختلف علاقوں میں مبینہ نجی جیلوں، قیدیوں پر تشدد اور بااثر افراد کے خلاف کارروائی نہ ہونے سے متعلق متاثرین کے بیانات شائع کیے تھے۔

دوسری جانب ہیومن رائٹس واچ کی رپورٹ کے مطابق بلوچستان کے بعض علاقوں میں قبائلی سرداروں کا مقامی انتظامیہ اور قانون نافذ کرنے والے نظام پر اثر و رسوخ رہا ہے، جبکہ ریاستی اداروں اور قبائلی قیادت کے باہمی تعلقات نے بھی اس نظام کو برقرار رکھنے میں کردار ادا کیا ہے۔

تاہم بیشتر سرداروں اور نوابوں کی جانب سے نجی جیلیں قائم کرنے، مسلح جتھوں کی سرپرستی کرنے یا انہیں ریاستی حمایت حاصل ہونے کے الزامات کا تصدیق بھی ہوچکا ہے ۔