بلوچستان کے مختلف اضلاع میں فائرنگ، بم دھماکوں اور جھڑپوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں، جن میں پاکستانی فورسز اور ڈیتھ اسکواڈ کے ارکان کو جانی نقصانات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
تفصیلات کے مطابق بلوچستان کے ضلع کچھی کے علاقے بولان میں قلمدین کے مقام پر پاکستانی فورسز اور مسلح افراد کے مابین جھڑپیں ہوئی ہے۔
ادھر مستونگ کے علاقے گرگینہ میں مسلح افراد نے پاکستانی فورسز کے ایک قافلے کوحملے میں نشانہ بنایا، جہاں پاکستانی فورسز کو جانی نقصانات پہنچنے کی اطلاعات ہیں۔ علاقائی ذرائع نے دعویٰ کیا کہ متعدد فوجی اہلکاروں کی لاشیں جائے وقوعہ پر دیکھی گئی ہیں۔
دریں اثناء ضلع قلات کے علاقے منگچر میں چوٹانک کے مقام پر بھی پاکستانی فورسز کا قافلہ حملے کی زد میں آیا، جبکہ نصیرآباد میں نوتال کے قریب پاکستانی فورسز کی چیک پوسٹ کو حملے کا نشانہ بنایا گیا۔
مزید برآں خاران شہر کے قریب باب خاران کے مقام پر مسلح افراد نے پاکستانی فورسز کو ایک حملے میں نشانہ بنایا ہے۔ اطلاعات کے مطابق قبل ازیں مسلح افراد زیر تعمیر ڈی آئی جی پولیس آفس پرحملہ کرکے آفس کو دھماکے میں تباہ کردیا جبکہ وہاں کام کرنے والے مزدوروں کو چھوڑ دیا گیا۔
مزید برآں خضدار کے علاقے کرخ میں مسلح افراد نے ایک بار پھر ناکہ بندی قائم کرکے گاڑیوں کی تلاشی لی، اسی دوران مسلح افراد نے پاکستانی فورسز کے تقریباً 30 گاڑیوں پر مشتمل قافلے پر گھات لگا کر حملہ کیا۔
کرخ میں گھات لگا کر کیے گئے حملے کے نتیجے میں پاکستانی فورسز کے اہلکاروں کی ہلاکتوں کی اطلاعات ہیں۔
دوسری جانب ضلع چاغی کے علاقے دالبندین میں نامعلوم مسلح افراد نے سرکاری حمایت یافتہ گروہ، جسے مقامی طور پر ’’ڈیتھ اسکواڈ‘‘ کہا جاتا ہے، کی ایک گاڑی کو آئی ای ڈی دھماکے کے بعد فائرنگ کا نشانہ بنایا۔
واقعے میں شاہجان عرف شاہو ہلاک ہوگیا، جبکہ اس کے محافظ زخمی ہوئے ہیں تاہم مزید ہلاکتوں کی اطلاعات ہیں۔
واضح رہے کہ مذکورہ علاقوں میں بلوچ آزادی پسند مسلح تنظیمیں متحرک ہیں اور پاکستانی فورسز کے خلاف حملوں سمیت دیگر کارروائیوں میں ملوث رہی ہیں، تاہم ان حملوں کی ذمہ داری تاحال کسی تنظیم نے قبول نہیں کی ہے۔


















































