6 روز کے دوران 16 حملوں میں قابض فوج کے 13 اہلکار ہلاک، ایک سرمچار شہید – بی ایل اے

2

بلوچ لبریشن آرمی کے ترجمان جیئند بلوچ نے میڈیا کو جاری بیان میں کہا ہے کہ سرمچاروں نے گزشتہ 6 روز کے دوران بلوچستان کے مختلف علاقوں میں قابض پاکستانی فوج پر منظم اور شدید نوعیت کے 16 حملے کیئے، جن میں دشمن کو شدید جانی ومالی نقصانات سے دوچار کیا گیا۔ سرمچاروں نے دشمن کے قافلوں، رسد اور اس کے آلہ کاروں کو نشانہ بنانے کے ساتھ مرکزی شاہراہوں پر اپنا کنٹرول مکمل طور پر برقرار رکھا، جبکہ اس دوران بی ایل اے کا ایک جاں نثار سرمچار جامِ شہادت نوش کرگیا۔

ترجمان نے کہا ہے کہ 7 اکتوبر کو قلات کے علاقے گراڑی میں سرمچاروں نے قابض فوج کے قافلے کو حملے میں نشانہ بنایا، جس میں دشمن کو بھاری جانی و مالی نقصانات کا سامنا کرنا پڑا۔

ترجمان نے کہاکہ 8 اکتوبر کو خضدار کے علاقے پیر عمر (حمزہ گر چوکی) کے مقام پر قابض فوج کو سرمچاروں نے اس وقت مسلح حملے میں نشانہ بنایا جب وہ جارحیت کی غرض سے جمع ہو رہی تھی۔ بعدازاں دشمن کے بم ڈسپوزل اسکواڈ کے پیدل اہلکاروں کو آئی ای ڈی دھماکے میں نشانہ بنایا گیا جس میں ایک اہلکار ہلاک اور دو زخمی ہو گئے، اور دشمن فوج پسپا ہونے پر مجبور ہوگئی۔ اس کے بعد سرمچاروں نے مذکورہ چوکی کو دھماکے سے اڑا کر تباہ کر دیا۔ اسی روز چاغی کے علاقے نوکچاہ (کوئٹہ-تفتان تجارتی روٹ) پر سرمچاروں نے دو گھنٹوں تک ناکہ بندی کرکے اسنیپ چیکنگ کا عمل جاری رکھا۔

انہوں نے کہاکہ 10 اکتوبر کو قلات کے علاقے دشت بابا میں سرمچاروں نے قابض فوج کے قافلے کو مسلح حملے میں نشانہ بنا کر نقصانات سے دوچار کیا۔ اسی روز پنجگور کے علاقے پنچی میں سرمچاروں نے قابض فوج کے قافلے کو حملے کا نشانہ بنایا، جہاں دشمن کی دو گاڑیاں براہ راست حملے کی زد میں آئیں اور چار دشمن اہلکار ہلاک جبکہ متعدد زخمی ہوگئے۔ مزید برآں نوشکی کے علاقے ریکو میں قابض پاکستانی فوج کے لیئے رسد لے جانے والی گاڑی کو رسد سمیت تحویل میں لے لیا گیا۔

اسی روز قلعہ عبداللہ میں بی ایل اے کی فضائی اور ڈرون وارفیئر یونٹ “قہر (QAHR)” نے ‘ڈیتھ اسکواڈ’ کے کیمپ پر ڈرون حملے کے بعد پیش قدمی کرنے والے کارندوں کی گاڑی کو گھات لگا کر نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں تین کارندے ہلاک اور سات سے زائد زخمی ہوگئے۔

بیان میں کہا کہ مزید برآں آواران کے علاقے گیشکور (مراشم) میں سرمچاروں نے قابض فوج اور ڈیتھ اسکواڈ کو مسلح حملے میں نشانہ بنایا؛ حملے میں دو کارندے ہلاک اور مزید دو زخمی ہوئے ہیں جبکہ قابض فوج کو بھی جانی نقصانات کا سامنا کرنا پڑا۔

11 اکتوبر: قلات کے علاقے منگچر (چوٹانک) میں سرمچاروں نے روڈ کلیئرینس میں مصروف قابض فوج کے پیدل اہلکاروں کو نشانہ بنانے کے بعد تجارتی گاڑیوں اور دشمن فوج کے قافلے کو حملے کی زد میں لیا، جس میں دشمن کے دو اہلکار ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے۔ دریں اثنا، آواران کے علاقے گورکوپ میں سرمچاروں نے قابض فوج کے اہلکاروں کو اس وقت مسلح حملے میں نشانہ بنایا جب وہ قافلوں کو سیکیورٹی فراہم کر رہے تھے۔

ترجمان نے کہاکہ 12 اکتوبر کو بسیمہ کے علاقے کلغلی میں قابض فوج کی پوسٹ پر تعینات اہلکار کو بی ایل اے کے سنائپر نے نشانہ بنا کر ہلاک کردیا۔ اسی روز دالبندین کے علاقے لاگ آپ (کوئٹہ-تفتان تجارتی شاہراہ) پر سرمچاروں نے ایک گھنٹے سے زائد طویل ناکہ بندی کرکے اسنیپ چیکنگ کا عمل جاری رکھا۔

ترجمان نے کہا کہ گذشتہ روز (11 اکتوبر) کو بلوچ لبریشن آرمی کی بحری یونٹ ‘حمل میری ٹائم ڈیفنس فورس’ (Hammal Maritime Defence Force – HMDF) نے گوادر کے علاقے جیونی میں ایک منظم اور شدید حملے کے دوران قابض پاکستانی فوج کے کوسٹ گارڈز کی دو بوٹس Rigid Hull Inflatable Boats کو بیک وقت نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں قابض فوج کے 13 اہلکار موقع پر ہلاک ہوگئے۔

اس معرکے کے دوران قابض فوج کی قریبی پوسٹ کے ساتھ بھی شدید جھڑپیں جاری رہیں، جس میں ‘حمل میری ٹائم ڈیفنس فورس’ کے یونٹ کمانڈر سنگت نواز بلوچ عرف استاد گاجیان زخمی ہوگئے اور بعدازاں جامِ شہادت نوش کر گئے۔ شہید کمانڈر سنگت نواز بلوچ عرف استاد گاجیان ولد رسول بخش ہوت کا تعلق تربت کے علاقے گوگدان سے تھا۔ وہ 2010 میں بلوچ مسلح تحریک کا حصہ بنے اور 2020 میں باضابطہ طور پر بلوچ لبریشن آرمی سے منسلک ہوئے۔ سنگت نواز نے تمپ، مند، دشت، تربت، پروم، پنجگور اور کوسٹل بیلٹ میں بلوچ قومی آزادی کے لیئے گراں قدر خدمات سرانجام دیں اور وہ اس وقت ‘حمل میری ڈیفنس فورس’ کی بحری یونٹ کی کمان کر رہے تھے۔

مزید کہاکہ یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ اس گھرانے نے قومی آزادی کے لیئے لازوال قربانیاں دی ہیں، آپ کے بھائی سنگت مبشر ہوت عرف شاہ دوست نے اکتوبر 2020 میں کلبر کے محاذ پر اور دوسرے بھائی سنگت نبیل احمد عرف علی نے 29 اپریل 2025 کو تربت کے محاذ پر دشمن سے دوبدو لڑائی میں شہادت پائی۔ آپ کے پورے خاندان نے ریاستی جبر، تشدد اور جبری گمشدگیوں کے باوجود استقامت کا دامن نہیں چھوڑا۔

ترجمان نے کہاکہ جیونی میں دشمن کی بحری تنصیبات اور کوسٹ گارڈز کے خلاف حمل میری ٹائم ڈیفنس فورس (HMDF) کی یہ فیصلہ کن کارروائی بلوچ قومی تحریکِ آزادی کے اسٹریٹجک ارتقاء کا ایک نیا اور فیصلہ کن باب ہے۔ یہ حملہ اس بات کا غماز ہے کہ بی ایل اے اب ایک ہمہ جہت اور کثیرالجہتی جنگی ڈھانچہ تشکیل دے چکی ہے، جہاں زمینی محاذ کے ساتھ ساتھ بحری محاذ پر بھی قابض ریاست کے لیئے کوئی محفوظ پناہ گاہ باقی نہیں رہی۔ بلوچ ساحل محض جغرافیائی حدود نہیں، بلکہ یہ قابض پاکستان اور اس کے سامراجی حلیفوں کے لیئے وہ مالیاتی اور تجارتی رگِ جاں ہیں جس پر ان کی استعماری معیشت کا انحصار ہے۔ ساحلوں کی غیر قانونی عسکری صف بندی، بیرونی طاقتوں کے ساتھ مل کر تجارتی راہداریوں کے نام پر وسائل کی لوٹ مار، اور مقامی ماہی گیروں کے معاشی قتلِ عام کے ذریعے دشمن جو معاشی واسٹریٹجک غلبہ حاصل کرنا چاہتا ہے، بی ایل اے کی بحری فورس اس پورے جال کو مفلوج کررہا ہے۔ حمل میری ٹائم ڈیفنس فورس کے تحت یہ واضح کردیا گیا ہے کہ سمندر اب دشمن کے لیئے آمد ورفت یا محفوظ دفاع کا زون نہیں رہیگا، بلکہ اس کی بحری نقل وحرکت، رسد اور اثاثوں کے لیئے ایک مستقل مقتل بنادیا جائیگا۔ جب تک دشمن کے قبضے کا ہر نشان اور اس کی سامراجی بحری شراکت داری اس خطے سے ختم نہیں ہو جاتی، ہماری یہ بحری جنگ پوری قوت اور وسعت کے ساتھ جاری رہے گی۔

بیان کے آخر میں کہا ہےکہ اس بحری معرکے کے دوران جامِ شہادت نوش کرنے والے حمل میری ٹائم ڈیفنس فورس کے یونٹ کمانڈر سنگت نواز بلوچ عرف استاد گاجیان نے اپنی جان کا نذرانہ پیش کرکے معاصر بلوچ قومی تحریک کی تاریخ میں ایک ایسا سنگِ میل قائم کیا ہے جو آنے والی نسلوں کے لیئے ہمیشہ مشعلِ راہ رہے گا۔ کمانڈر استاد گاجیان کا نام اس اعتبار سے بھی تاریخی اور منفرد حیثیت رکھتا ہے کہ وہ رواں بلوچ قومی تحریک کے پہلے بحری شہید ہیں، تربت کے علاقے گوگدان سے تعلق رکھنے والے اس جانباز سرمچار نے 2010 سے لے کر اب تک تمپ، مند، دشت، تربت، پروم، پنجگور اور بالآخر ساحلی پٹی کے کٹھن ترین محاذوں پر جو فکری، تنظیمی اور عسکری خدمات انجام دیں، وہ بلوچ عسکری تاریخ کا ایک روشن باب ہیں۔ بی ایل اے شہید کمانڈر استاد گاجیان کے اس تاریخی اور انقلابی کردار کو سرخ سلام پیش کرتی ہے۔