ماؤ ماؤ بغاوت (1952 تا 1960)
مترجم : گُل شیر منیر
دی بلوچستان پوسٹ
مقاصد اور شکایات
ماؤ ماؤ بغاوت کینیا میں برطانوی نوآبادیاتی راج کی پیدا کردہ گہری سماجی، معاشی اور سیاسی نااہلیوں اور ناانصافیوں کے نتیجے میں ابھری۔ انیسویں صدی کے آخر اور بیسویں صدی کے آغاز میں، برطانیہ نے اس علاقے پر اپنا کنٹرول قائم کیا، اسے اپنے شاہی نظام میں شامل کیا اور یورپی آبادکاری کی حوصلہ افزائی کی۔
نوآبادیاتی انتظامیہ نے افریقیوں کی زمین کی ملکیت مزدوروں کے تعلقات اور سیاسی اختیار کے نظام کو بدل کر رکھ دیا، جس کے نتیجے میں کینیا کی متعدد برادریوں کا اپنے وسائل اور اداروں پر اختیار برائے نام رہ گیا۔ چنانچہ یہ بغاوت تشدد کا کوئی اچانک یا الگ تھلگ واقعہ نہیں تھی، بلکہ نوآبادیاتی تسلط کے خلاف دہائیوں سے جمع ہونے والے غصے اور بے چینی کا نتیجہ تھی۔
زمینوں سے بے دخلی اس تنازع کی سب سے بڑی وجوہات میں سے ایک تھی۔ کینیا کے سرسبز و شاداب پہاڑی علاقوں کی وسیع زرعی زمینیں یورپی آبادکاروں کے لیے غصب کر لی گئیں جبکہ بے شمار افریقی خاندانوں کو بے دخل کر کے مخصوص ریزرو علاقوں تک محدود کر دیا گیا۔ کینیا کا سب سے بڑا نسلی گروہ “کیکویو” جو ان مرکزی پہاڑی علاقوں میں بڑی تعداد میں آباد تھے اس سے شدید متاثر ہوا۔
بہت سے لوگ اپنی ان آبائی زمینوں سے محروم ہو گئے جو نسل در نسل ان کے خاندانوں کی روزی روٹی کا ذریعہ تھیں۔ زمین کی اس قلت نے زرعی معیشت کو تباہ کر دیا اور محدود ہوتے ہوئے وسائل پر مقابلے کی دوڑ کو تیز کر دیا۔
نوآبادیاتی زراعت کی پالیسیوں نے ایک ایسے طبقے کو جنم دیا جو زمین سے محروم اور معاشی طور پر غیر محفوظ تھا۔ کچھ کیکویو افراد یورپیوں کی ملکیت والی جاگیروں پر مزارع (جسے عام طور پر “اسکوایٹر” کہا جاتا تھا) بن گئے جہاں وہ مشقت اور دیگر شرائط کے بدلے زمین کے چھوٹے ٹکڑوں پر کاشتکاری کرتے تھے۔ اگرچہ اس انتظام سے انہیں زمین کا کچھ حصہ مل جاتا تھا، لیکن افریقی خاندان مکمل طور پر یورپی آبادکاروں کے رحم و کرم پر آ گئے اور نوآبادیاتی قوانین کی تبدیلیوں کا شکار ہونے کے لیے بے یار و مددگار رہ گئے۔ مویشیوں کی تعداد کاشتکاری اور نقل وحرکت پر پابندیوں نے ان کی معاشی خودمختاری کو مزید کمزور کر دیا۔
متاثرہ خاندانوں کے لیے زمین صرف آمدنی کا ذریعہ نہیں تھی، بلکہ یہ ان کی شناخت، وراثت اور سماجی تعلق کی علامت بھی تھی۔
مزدوروں کے استحصال نے ان خدشات اور شکایات کو اور زیادہ شدید کر دیا۔
نوآبادیاتی حکام نے جھونپڑی ٹیکس (hut tax) اور فی کس ٹیکس (poll tax)جیسے ٹیکس عائد کیے، جس کی وجہ سے افریقی خاندانوں کے لیے ضروری ہو گیا کہ وہ اجرت پر ملازمت کر کے یا زرعی اجناس بیچ کر نقد رقم حاصل کریں۔ ان اقدامات کا مقصد افریقیوں کو ایک ایسی نوآبادیاتی معیشت کا حصہ بننے پر مجبور کرنا تھا جہاں یورپی آبادکاروں کو مکمل مراعات حاصل تھیں۔ کم اجرت، کام کے ابتر حالات اور معاشی مواقع پر پابندیوں نے عمومی بے چینی اور روزافزوں بے اطمینانی کو جنم دیا۔ اس کا سب سے زیادہ بوجھ ان لوگوں پر پڑا جو پہلے ہی اپنی زمینوں سے محروم ہو چکے تھے کیونکہ ان کے پاس کم اجرت والی ملازمتوں کے علاوہ زندگی بسر کرنے کا کوئی دوسرا راستہ نہیں بچا تھا۔
سیاسی محرومی اور الگ تھلگ کیا جانا بددلی کی ایک اور بڑی وجہ تھی۔ برطانوی حکام نے افریقیوں کی نوآبادیاتی حکومت کے اداروں میں شمولیت کو شدید محدود کر رکھا تھا، جبکہ یورپی آبادکار زمین کی پالیسی مزدوروں کے قوانین اور عوامی انتظامیہ پر غیر متناسب اثر و رسوخ رکھتے تھے۔ افریقی سیاسی تنظیمیں مسلسل سیاسی نمائندگی، شہری حقوق اور زمین کے حقوق کے تحفظ کا مطالبہ کر رہی تھیں۔
جومو کینیاٹا (Jomo Kenyatta) جیسے رہنماؤں سے وابستہ “کینیا افریقن یونین” (KAU) قومی مطالبوں کی ترجمانی کا ایک اہم ذریعہ بن گئی۔ تاہم، اصلاحات کی سست رفتاری اور نوآبادیاتی حکومت کی جانب سے واقعی معنوں میں سیاسی اقتدار منتقل نہ کرنے کے رویے سے بہت سے فعال کارکن شدید مایوس ہو گئے۔
بغاوت کا سبب بننے والے مسائل صرف مادی یا معاشی محرومیوں تک محدود نہیں تھے۔ نوآبادیاتی نظام نے قائم شدہ سماجی رشتوں کو بھی درہم برہم کر دیا اور بعض روایتی اداروں کے اختیار کو کمزور کر دیا۔ عیسائی مبلغین، مغربی تعلیم، شہری ملازمتوں اور بدلے ہوئے معاشی حالات نے بالخصوص نوجوان کینیائی باشندوں میں نئی امنگیں بیدار کیں۔ ان تبدیلیوں نے ایک ایسا باہم سیاسی شعور رکھنے والا طبقہ پیدا کیا جو نسل پرستانہ نظام اور محدود مواقع کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں تھا۔ اس بات پر اختلاف رائے پیدا ہو گیا کہ اصلاحات کیسے حاصل کی جائیں۔۔ کچھ فعال کارکن آئینی مذاکرات کے حامی تھے جبکہ دیگر کا جھکاؤ مسلح یا جارحانہ مزاحمت کی طرف ہوتا گیا۔
ماؤ ماؤ تحریک کے ابھار کو دوسری جنگ عظیم کے بعد افریقی قوم پرستی اور نوآبادیات کے بارے میں عالمی سطح پر بدلتے ہوئے نقطہ نظر کے تناظر میں بھی دیکھنا ضروری ہے۔ ہزاروں افریقیوں نے جنگ کے دوران فوج میں خدمات انجام دیں یا شاہی جنگی کوششوں میں اپنا حصہ ڈالا تھا، جبکہ جنگ کے بعد ہونے والی سیاسی بحثوں میں آزادی اور حقِ خودارادیت پر زور دیا جا رہا تھا۔ جنگ سے واپس لوٹنے والے فوجیوں، پھیلتے ہوئے شہری رابطوں اور بڑھتی ہوئی سیاسی تنظیموں نے نوآبادیات مخالف افکار کو پھیلانے میں مدد کی۔ ایشیا کی آزادی کی تحریکوں سمیت عالمی پیش رفتوں نے ثابت کر دیا کہ یورپی سامراجی راج دائمی نہیں ہے، اگرچہ مختلف نوآبادیاتی علاقوں میں مزاحمت کی وجوہات اور حکمتِ عملی مختلف تھی۔
1952 تک، یہ پرانی شکایات اور ناانصافیاں، سیاسی محرومی کی بڑھتی ہوئی مایوسی اور پرامن مطالبات کے ذریعے تبدیلی لانے میں ناکامی کے ساتھ مل کر ایک طوفان کی شکل اختیار کر چکی تھیں۔
نوآبادیاتی انتظامیہ نے پھیلتی ہوئی مزاحمتی تحریک کو بنیادی طور پر امن و امان اور سلامتی کے لیے ایک خطرہ قرار دیا، جبکہ اس کے متعدد حامی اسے زمین، آزادی اور افریقی خود مختار حکومت کے لیے جدوجہد سمجھتے تھے۔ اس کے باوجود، نوآبادیاتی راج کی مخالفت تمام کینیائی باشندوں میں ایک جیسی نہیں تھی۔ مختلف برادریوں کے مفادات، وفاداریاں اور اس تنازع پر ردِعمل مختلف تھے۔ یہ بغاوت ایک پیچیدہ نوآبادیاتی معاشرے کا نتیجہ تھی جہاں زمین سے محرومی، معاشی نااہلی اور سیاسی حاشیے پر دھکیلے جانے نے مسلح مزاحمت کی بنیاد رکھی۔
کینیا لینڈ اینڈ فریڈم آرمی (KLFA)
“کینیا لینڈ اینڈ فریڈم آرمی” جسے عام طور پر ماؤ ماؤ کے نام سے جانا جاتا ہے، برطانوی نوآبادیاتی راج کے خلاف اس بغاوت میں شامل مرکزی مسلح مزاحمتی تنظیم تھی۔ اس کی سرگرمیاں 1952 سے اس وقت نمایاں ہوئیں جب نوآبادیاتی حکام نے کینیا میں ہنگامی حالت کا اعلان کیا۔ اس تحریک کو سب سے زیادہ حمایت وسطی کینیا کی کیکویو برادری سے ملی، تاہم “ایمبو” (Embu) اور “میرو” (Meru) اقوام کے لوگوں نے بھی وسیع تر مزاحمت میں اہم کردار ادا کیا۔ اس کے ارکان کا مقصد نوآبادیاتی سیاسی و معاشی نظام کو چیلنج کرنا تھا، جبکہ زمین کی واپسی اور افریقیوں کی آزادی ان کے منشور کے اہم ترین عناصر تھے۔
لفظ “ماؤ ماؤ” Mau Mau کا استعمال برطانوی حکام صحافیوں اور بعد میں تاریخ دانوں نے بڑے پیمانے پر کیا۔ لیکن اس کے اصل ماخذ اور بنیادی معنی کے بارے میں اختلاف رائے اب بھی موجود ہے۔
یہ لفظ ایک ایسی وسیع تحریک کے لیے ایک عمومی اصطلاح بن گیا جس کے تمام شرکاء کے مقاصد، تنظیمی ڈھانچے یا سیاسی نظریات کا مکمل طور پر ایک جیسا ہونا ضروری نہیں تھا۔ کچھ شرکاء زمین اور آزادی کی زبان کو ترجیح دیتے تھے، جو ان کی جدوجہد کو براہ راست نوآبادیاتی غصب کاری کے نتائج سے جوڑتی تھی۔ لفظ “ماؤ ماؤ” حلف برداری کی ان رسموں سے بھی منسوب ہو گیا جو جذبہ اتحاد اور عہد کی پابندی کے لیے استعمال کی جاتی تھیں۔ ان رسموں کے معانی شرکاء، نوآبادیاتی حکام اور تحریک کے افریقی مخالفین کے نزدیک بالکل مختلف اور متضاد تھے۔
ان قسموں اور حلف کی رسموں نے مزاحمت کی تنظیم سازی میں اہم کردار ادا کیا۔ ایسے ماحول میں جہاں راز افشا ہونے کا مطلب گرفتاری، قید یا سزائے موت ہو سکتا تھا، یہ قسمیں وفاداری کا اظہار کرتی تھیں، راز داری کو مضبوط بناتی تھیں اور شرکاء کو ایک دوسرے کا پابند کرتی تھیں۔
قسم کھانے کی یہ رسمیں مقامی ثقافتی اور مذہبی روایات پر مبنی تھیں اگرچہ تحریک نے ان کو ہنگامی حالت کے سیاسی حالات کے مطابق ڈھال لیا تھا۔ برطانوی حکام نے اکثر ان قسموں کو غیر عقلی رویے، مجرمانہ ذہنیت یا خطرناک وہم پرستی کے ثبوت کے طور پر پیش کیا۔ اس طرح کے بیانیے نے سخت اور جابرانہ کارروائیوں کو جواز فراہم کیا، جبکہ اس حقیقت کو چھپا دیا کہ یہ رسمیں سیاسی بیداری اور اجتماعی عزم و اتحاد کے ایک موثر ذریعہ کے طور پر کام کر رہی تھیں۔
کے ایل ایف اے (KLFA) ایک روایتی فوج کی طرح کام نہیں کرتی تھی جس کا کوئی واحد، مرکزی کمانڈ ڈھانچہ ہوتا جو ہر رکن کو کنٹرول کر سکتا۔ ان کی مزاحمت میں جنگلوں میں قائم گوریلا یونٹ، مقامی نیٹ ورک، شہری حامی اور وہ لوگ شامل تھے جو معلومات، راشن یا پناہ فراہم کرتے تھے۔ جنگجوؤں نے برطانوی گشت سے بچنے، چھاپے مارنے اور بکھرے ہوئے گروہوں کے درمیان رابطہ برقرار رکھنے کے لیے وسطی کینیا کے جنگلات اور پہاڑی علاقوں کو استعمال کیا۔
جاری۔۔۔
دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔













































