جینوا: بلوچستان میں جینے کا حق بھی چھین لیا گیا، مرنے کا وقار بھی۔ بی این ایم احتجاج

3

بلوچ نیشنل موومنٹ نے بلوچستان میں جبری گمشدگیوں، انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں، ماورائے عدالت قتل اور سیاسی کارکنوں کو جھوٹے مقدمات میں سزائیں دیے جانے کے خلاف جنیوا میں احتجاجی ریلی نکالی۔

احتجاجی ریلی کے شرکا اقوام متحدہ کے دفتر کے باہر ’بروکن چیئر‘ کے مقام پر جمع ہوئے، جہاں مقررین نے بلوچستان سمیت سندھ، خیبر پختونخوا اور کشمیر میں انسانی حقوق کی صورتِ حال پر عالمی توجہ کا مطالبہ کیا۔ یہ احتجاج بی این ایم کی ستمبر 2026 کی جنیوا مہم کا حصہ تھا۔ مہم کا مقصد مسئلہ بلوچستان کو عالمی سطح پر اجاگر کرنا تھا۔ پاکستانی بندوبست کے محکوم اقوام کے نمائندگان کی شرکت سے بی این ایم کے اس عالمی مہم کو صرف بلوچستان تک محدود نہیں رکھا بلکہ سندھی ، پشتون ، گلگت بلتستان اور کشمیر کے نمائندگان کی شرکت سے یہ خطے کے محکوم اقوام کی مشترکہ مہم کی صورت اجاگر ہوئی۔

بی این ایم کی جنیوا میں تین روزہ خصوصی مہم کے دوران بی این ایم کے نمائندگان نے پشتون اور سندھیوں کے مظاہرے میں شرکت کی ، ان سے اظہار ہمدردی کی اور آزادی کے نکتے پر مشترکہ جدوجہد کو نجات کا راستہ قرار دیا۔

جنیوا میں بی این ایم کے مظاہرے سے بی این ایم کے چیئرمین ڈاکٹر نسیم بلوچ، خارجہ سیکریٹری فہیم بلوچ، مرکزی جونیئر جوائنٹ سیکریٹری حسن دوست بلوچ، خارجہ ڈیپارٹمنٹ کے فوکل پرسن حکیم بلوچ، وائس فار مسنگ پرسنز سندھ کے یورپ چیپٹر کے کوآرڈینیٹر سارنگ حیدر، انسانی حقوق کی کارکن نور مریم کنور اور ورلڈ سندھی کانگریس کے کامران جتوئی نے خطاب کیا۔

مقررین نے کہا کہ دنیا کے مختلف حصوں سے لوگ ان ماؤں کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کے لیے جنیوا پہنچے ہیں جو برسوں سے اپنے جبری لاپتہ بچوں کی واپسی کا انتظار کر رہی ہیں۔

ان کے مطابق یہ مائیں ’’دروازے بند نہیں کرتیں اور ٹھیک سے سو نہیں پاتیں‘‘ کیونکہ وہ اپنے بیٹوں اور بیٹیوں کے انتظار میں ہیں۔

مقررین نے کہا کہ باپ اپنے بیٹوں کی گمشدگی پر لوگوں کے سامنے اپنے آنسو روک لیتے ہیں، لیکن ’’جب اکیلے بیٹھتے ہیں تو گہرا روتے ہیں اور بچوں کو یاد کرتے ہیں۔‘‘

انھوں نے کہا کہ بہنیں بھی معمول کے مطابق کھاتی پیتی نہیں کیونکہ ان کے بھائی ’’اندھیرے اور تشدد کے سیل‘‘ میں ہیں۔

مقررین نےبتایا بلوچستان میں انسانیت کے خلاف جرائم کا سلسلہ جاری ہے اور اس میں عمر یا جنس کی کوئی تمیز نہیں کی جاتی۔

ان کے مطابق ’’ہزاروں لوگ اغوا کیے جا رہے ہیں، ہزاروں مارے جا رہے ہیں اور لاشیں سڑکوں پر پھینکی جا رہی ہیں۔‘‘

انھوں نے کہا کہ مسئلہ صرف بلوچوں تک محدود نہیں بلکہ پشتون، سندھی اور کشمیری بھی اس صورتِ حال سے متاثر ہیں۔

’’ہمیں متحد ہونا ہے۔ ہمیں اپنی آوازیں اکٹھی کرنی ہیں۔ پشتون، بلوچ، سندھی سب ساتھ ہیں۔ گلگت بلتستان، سندھ، پختونخوا یا بلوچستان، ہم سب مظلوم ہیں اور ہم سب تکلیف میں ہیں۔‘‘

مقررین نے کہا کہ بلوچستان ’’دہائیوں سے دکھ کی زمین‘‘ ہے اور ان کے مطابق انسانی حقوق کی پامالی کا سلسلہ 1948 سے جاری ہے، جس کے بعد 1962، 1973 اور 2006 کے ادوار میں بھی یہ سلسلہ جاری رہا۔

انھوں نے اظہار کیا کہ ہزاروں بلوچ جبری گمشدگیوں اور ماورائے قانون قتل کا نشانہ بن چکے ہیں۔

ان کے بقول، ’’بلوچستان کو فوجی چھاؤنی میں تبدیل کر دیا گیا ہے اور مقامی لوگوں کی تمام آزادیاں اور قانونی حقوق چھین لیے گئے ہیں۔‘‘

مقررین نے سندھ اور پختونخوا میں بھی جبری گمشدگیوں اور ماورائے قانون قتل کا ذکر کیا۔

انھوں نے کہا کہ گزشتہ دہائیوں کے دوران سندھ میں ’’3500 سے زائد جبری گمشدگیاں اور 100 سے زائد ماورائے قانون قتل رپورٹ ہوئے‘‘ جبکہ ’’100 سے زائد قوم دوست کارکن اب بھی جبری طور پر لاپتہ ہیں اور عام شہریوں کی تعداد اس سے چار گنا زیادہ ہے۔‘‘

مظاہرین اور مقررین نے اقوام متحدہ سے بلوچستان، سندھ، خیبر پختونخوا، کشمیر اور سرائیکی وسیب میں مداخلت اور ایک آزاد فیکٹ فائنڈنگ مشن بھیجنے کا مطالبہ کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ جبری گمشدگیوں اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا معاملہ اب صرف بلوچستان تک محدود نہیں رہا بلکہ خیبر پختونخوا، کشمیر اور خطے کے دیگر بڑے شہروں تک پھیل چکا ہے۔

مقررین نے کہا کہ متحدہ ہندوستان کے لوگوں نے 1940 کی دہائی میں برطانوی نوآبادیاتی نظام کے خلاف آزادی حاصل کی تھی، لیکن اب ’’ہم اسی نوآبادیات کے نئے روپ میں رہنے پر مجبور ہیں۔‘‘

فرانس فینن کا حوالہ دیتے ہوئے مقررین نے موقع پرستوں اور نوآبادیاتی دانشوروں کو زندگی پر قابض قرار دیا۔

انھوں نے کہا، ’’انھوں نے جینے کا حق چھین لیا ہے، اور امن و وقار سے مرنے کا حق بھی۔‘‘

مقررین کے مطابق بعض افراد کے قتل کے بعد ان کی لاشیں خاندانوں کے حوالے نہیں کی جاتیں اور خاندانوں پر دباؤ ڈال کر خوفناک معاہدوں پر دستخط کرائے جاتے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ’’روزمرہ کی خوفناک حقیقت پر کافی بات نہیں ہوتی۔‘‘

مقررین نے کہا کہ صرف بلوچ، پشتون اور سندھی کارکن ہی نہیں بلکہ ان کے مقدمات لڑنے والے وکلا بھی نشانے پر ہیں۔

انھوں نے ایمان مزاری اور ان کے شوہر ہادی چٹھہ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ انھیں اس لیے تنگ کیا جا رہا ہے کہ انھوں نے بلوچ اور پشتون جبری لاپتہ افراد کے خاندانوں کے مقدمات لیے۔

مقررین نے کہا، ’’پاکستان میں قانون کی حکمرانی نہیں۔ وہاں طاقت ہی درست قانون ہے اور طاقت پاکستانی فوج ہے۔‘‘

انھوں نے سماجی کارکن سبین محمود کا بھی حوالہ دیا اور کہا کہ وہ ’’صرف اس لیے قتل ہوئیں کہ انھوں نے جبری لاپتہ افراد کے خاندانوں کے ساتھ ایک نشست رکھی۔ آدھے گھنٹے بعد کراچی میں انھیں گولیاں ماری گئیں۔‘‘

مقررین نے کہا کہ ماہ رنگ، بیبو، گل زادی، بیبگر اور صبغت اللہ جیسے کارکنوں کے خاندان بھی اجتماعی سزا کے دائرے میں ہیں، انھیں ہراساں کیا جاتا ہے، دبایا جاتا ہے اور بعض اوقات قتل بھی کیا جاتا ہے۔

احتجاج کے اختتام پر مقررین نے ایک بار پھر اقوام متحدہ سے بلوچستان میں فوری اور بامعنی اقدامات کا مطالبہ کیا۔

انھوں نے کہا کہ اقوام متحدہ آزادانہ تحقیقات کرے اور جبری گمشدگیوں، اجتماعی سزا اور متاثرہ خاندانوں پر دباؤ کے معاملے کو نظرانداز نہ کرے۔

مظاہرے میں شریک سندھ، خیبر پختونخوا اور دیگر خطوں کے مقررین نے بلوچستان کی صورتِ حال کو ایک مشترکہ انسانی حقوق کا مسئلہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ متاثرہ قوموں اور خاندانوں کی آواز عالمی سطح پر سنی جانی چاہیے۔