عاشقِ مٹی، شاعرِ رزم
تحریر: کوہ شان بلوچ
دی بلوچستان پوسٹ
دنیائے ادب میں شاعری وہ واحد صنفِ سخن ہے جو رنج و غم میں بھی عزم و حوصلہ عطا کرتی ہے۔ نظم اور غزل دراصل وہ پاکیزہ کلام ہیں جو دل کے درد اور رنج کی صورت میں قلم کی نوک سے بہہ کر کاغذ کی زینت بن جاتے ہیں۔ پھر جب یہی درد کسی دوسرے انسان کے دل میں اترتا ہے، تو وہ ان اشعار کو پڑھ کر یوں اشکبار ہو جاتا ہے جیسے صدیوں پہلے کوئی شاعر اسی کے کرب سے گزرا ہو اور یہ لازوال الفاظ لکھ گیا ہو۔ یہ وہ کلام ہے جس کی تخلیق اور تفہیم، دونوں کے لیے دل میں درد کا ہونا شرطِ اول ہے۔
کسی جنگی فضا یا باغیوں کے مسکن میں شاعر کا کردار آسمان کو چھونے لگتا ہے۔ وہ اپنے تخلیقی لمس سے ہر کردار کو ایک مقدس درد عطا کرتا ہے، ہر میدانِ کارزار کی جھڑپ کو رنج کا پیرہن لکیرتا ہے اور زندگی کے ہر پل کو ایک انوکھا رنگ بخش دیتا ہے۔
وہ شاعر بڑا دلیر ہوگا جو اپنی زمین پر قابض کے خلاف جنگ کو ایک ادبی شکل دے کر دنیا کے سامنے لاتا ہے۔ وہ کمال کا ہنر رکھتا ہوگا جو اپنے شہیدوں کے جسم کے ٹکڑوں کو شاعری کا روپ دے کر تاریخ کے اوراق میں شامل کرتا ہے۔ وہ شاعر یقیناً نایاب ہوگا جب وہ بندوق کی گولی کو ایک خوبصورت تشبیہ کے طور پر استعمال کرتا ہوگا، اور لاجواب ہوگا وہ شاعر جو جنگی ماحول کو بیان کرنے کے لیے قلم کی طاقت کو کارآمد بناتا ہے۔
اس سے بڑھ کر شاعر تب ایک عظیم رہنما کی حقیقی تعریف بن جاتا ہے جب وہ جنگ میں محض تماشائی نہیں بلکہ عملی کردار اور چشم دید گواہ بن کر ہر درد کو شاعری کی زینت بنا دیتا ہے۔ وہ شاعر بہادری کی انتہا پر ہوگا جو اپنے ہی دوستوں کی رخصتی (موت) کے لمحات کو قلم بند کرتا ہے۔ سلام ہے اس شاعر پر جو بارود سے بکھرے ہوئے دوستوں کے جسم کے ٹکڑوں کو استعارہ اور تشبیہ بنا دیتا ہے، اور سلام ہے اس شاعر پر جو ندیوں میں پڑے دوستوں کے سرد جسموں کو قافیہ اور ردیف کا روپ دیتا ہے۔ یہ ماننے کے لائق ہے کہ وہ شاعر خود مر مر کر یہ سب لکھتا ہوگا، لیکن وہ اس خدائی تخلیق (شاعری) سے ہرگز دستبردار نہیں ہو سکتا۔ کیونکہ وہ جس کرب سے گزر کر لکھتا ہے، اسے یقین ہو جاتا ہے کہ اس درد کو جھیل کر لکھنا صرف اسی نایاب شاعر کا کام ہے جسے کوئی دوسرا سرانجام نہیں دے سکتا، اسی لیے وہ اس درد کو کاغذ کی زینت بناتا ہے۔
بلوچ قومی تحریک میں بے شمار شاعروں نے جنم لیا، جو اپنے قلم کے جوہر دکھاتے رہے اور شہیدوں کی بہادری کو شاعری کی زینت بناتے گئے۔ پر چند شاعر ایسے بھی ہوتے ہیں جو بذاتِ خود ایک وزنی اور مکمل شاعری ہوتے ہیں؛ جنہیں دیکھ کر آپ کو ادب یاد آئے اور جنہیں سن کر عرب و عجم کے قصے یاد آئیں۔ انہی میں ابصار ایک نمایاں کردار ہیں۔ وہ ابصار جنہوں نے اپنی جوانی کو قومی جنگ کے لیے وقف کر دیا؛ وہ ایک جنگی سپاہی ہونے کے ساتھ ساتھ ایک عظیم تخلیق کار بھی ہیں۔ ان کی تخلیق میں درد اور رنج تو ہے، مگر وہ سچ اور تلخ بھی ہے۔ اسے پڑھنے کے لیے احساس اور برداشت کا ہونا ضروری ہے۔ وہ آنکھوں دیکھا حال ایسے بیان کرتے ہیں کہ پڑھنے والا سن ہو جاتا ہے اور بکھر کر دوبارہ جڑ جاتا ہے۔
ابصار کیسے لکھتا ہوگا؟ یہ سوال ہم پوچھ نہیں سکتے بلکہ محض حیران ہو سکتے ہیں، کیونکہ یہ ایک نایاب تخلیق ہے جو اسے خدا نے بخشی ہے۔ پر وہ خود کیا نظم ہے جو کندھوں پر بندوق اور ہاتھ میں قلم رکھتا ہے، اور اپنے دماغ میں ہر عمل اور واقعے کو ایک سخن (شعر) کی شکل میں بدلتا ہے۔ کمال ہوگا ابصار کہ جب اس سے کوئی درد دریافت کرے تو وہ شاعری کا سمندر بن جاتا ہے۔ ابصار ہی وہ شاعر ہے جو اس مہیب درد میں ان فدائی دوستوں کو تحریر کر سکتا ہے۔ یہ ابصار ہی کر سکتا ہے کہ جب سرخ گولی کسی لختِ جگر دوست کو لگتی ہے، تو وہ اس درد کے طوفان کو ادب میں پیوست کر دیتا ہے۔ ایسا نہیں کہ وہ جنگ سے غافل ہے، بلکہ وہ ایک لاجواب، سیاسی، فکری، شعوری اور دور اندیش سرمچار ہے، پر اس کے کردار کی ان تمام خوبیوں کے ساتھ وہ ایک بہادر اور عظیم شاعر بھی ہے جو قلم کے ذریعے شہید دوستوں کے ساتھ انصاف کرنے کی کوشش کرتا ہے اور انہیں ہمیشہ کے لیے بلوچستان کی زینت بنانا چاہتا ہے۔ یہ واقعی میں ایک کمال اور بے مثال جذبہ ہے۔
جب وطن کے سپاہی دشمن پر کاری ضرب لگانے کے لیے خود کو بارود میں لپیٹ لیتے ہیں اور فضا میں ٹکڑے ٹکڑے ہو کر بکھر جاتے ہیں، تو یہی ابصار بطور ایک مخلص اور ذمہ دار سرمچار آ کر ان ٹکڑوں کو سمیٹتا ہے اور ادب کی دنیا میں محفوظ کر دیتا ہے۔ وہ فدائی جو کفن و دفن کے بغیر بکھر جاتا ہے، اسے شاعری کے کفن میں اور ادب کے قبرستان میں ابصار دفن کرتا ہے۔ وہی ابصار جب (شدتِ کرب سے) قلم پھینکنا چاہے کہ اب یہ درد لکھنا ممکن نہیں، تو یہی فدائی اسے دوبارہ قلم اٹھانے پر مجبور کر دیتے ہیں کہ ‘ہمیں بیان کرنا محض تمہاری خوبی ہے، تم ہمارے سوا کسی دنیاوی شے کو ہرگز بیان نہیں کر سکتے’۔ اور یہ بھی حقیقت ہے کہ انہیں قلم بند کیے بغیر ابصار کا دل بھی بے چین رہے گا۔ جب بارود کی دھول سے دشمن بوکھلاہٹ کا شکار ہو کر چھپنے کی کوشش کرے، تو ابصار کی تخلیق میں وہ طاقت ہے کہ دشمن کے اس بزدلانہ عمل کو شاعری بنا کر قوم اور دنیا کے سامنے پیش کر دیتا ہے۔ جب جنگ میں پیاس سے کسی سرمچار کا حلق سوکھ جائے، تو ابصار کی تخلیق اس کیفیت کو دھرتی سے وفاداری کی لازوال مثال بنا کر شاعری میں بند کر دیتی ہے کہ پڑھنے والا پڑھتے وقت حیران رہ جاتا ہے۔
پر جب یہ سننے کو ملے کہ یہ ادیب اب ادب کی دنیا سے فرار ہونا چاہتا ہے تو دل دہل جاتا ہے اور پریشانی کا سامان بن جاتا ہے کہ کیا ابصار اب شاعری نہیں کریں گے؟ یعنی اب وہ بکھرے ہوئے ٹکڑے ہمیں ابصار کی تخلیق میں نہیں ملیں گے؟ کیا ہوگا اس منگیتر کا جو ابصار کو پڑھ کر یہ محسوس کرتی ہے کہ زمین کے لیے ہزار مرید قربان! کیا سنے گی وہ بوڑھی ماں جو اپنے لختِ جگر کا آخری دیدار صرف ابصار کی شاعری میں کرتی تھی؟ کیا ہوگا اس بھائی کا جو اپنے بھائی کے کردار اور نام کا تذکرہ سننا بند کر دے؟ یہ سوالات روح کانپا دیتے ہیں۔ کیا ابصار کی تخلیق ہار مان گئی؟ کیا وہ ہمت ہار گیا جسے مکمل کرنا محض اسی کا کام تھا؟ یا تشبیہ، ردیف، قافیہ اور وزن کی کمی ہے اس لیے وہ قلم پھینک رہا ہے؟ پر سوچنے کے بعد جواب ملا کہ نہیں، اب بھی ہزاروں کردار زندہ ہیں اور ہزاروں کردار تیار ہیں جو ابصار کی شاعری کو عرب و عجم کے قصوں سے بھی گہرا بنا سکتے ہیں۔ اگر ابصار سو سال بھی شاعری کرتا رہے اور جنگی میدان کو ادب کے میدان میں ڈھالتا رہے، تو اسے ایک دن بھی بہادری، درد، خوبصورتی، شجاعت اور وفا کے لیے ردیف اور قافیہ کی کمی یہ فدائی ہونے نہیں دیں گے؛ کیونکہ اس زمین پر قربان ہونے کے لیے ہزاروں سر تیار ہیں جو ابصار کے لیے محض وہ درد چھوڑ سکتے ہیں جسے ادبی میدان میں لانا ابصار کا کام ہے۔ پھر کیوں ابصار اس تخلیق سے بے وفائی کر رہے ہیں؟ اگر ابصار یہ مانے کہ ان سے بہتر درد اور رنج کو سینے میں پیوست کر کے قلم کے ذریعے کاغذ کی زینت بنانے والا کوئی اور شاعر اس تحریک میں موجود ہے تو ہم چپ ہو کر بیٹھ جاتے ہیں اور ابصار کی تخلیق کو رخصت کرتے ہیں، پر یہ ممکن ہی نہیں کہ ان سے بہتر کوئی منظر کشی کر سکے۔ اس لیے ابصار کی تخلیق کا جاری رہنا ہر ایک سرمچار کی دلی خواہش ہے۔
اگر ابصار کہتا ہے کہ شہید دوستوں نے رخصتی کے وقت یہی درس دیا ہے کہ جنگ کو شدت بخشنی ہے نہ کہ شاعری کو، تو ابصار یار! کبھی کسی شہید نے تجھ سے کہا کہ تم اس تخلیق سے دستبردار ہو جاؤ؟ کیا محبت کی دنیا میں محبوب نے کبھی کہا ہے کہ مجھے شاعری کی زینت بناؤ؟ ہرگز نہیں! مگر عاشق نے ہمیشہ اپنے دل کی آواز سنی ہے اور محبوب کو ادب کی زینت بنا دیا ہے۔ اسی طرح وطن پر فدا ہونے والے شہید، جو کسی تعریف کے محتاج نہیں، ہرگز نہیں کہیں گے کہ موت کو گلے لگانے کے بعد ہمیں شاعری میں پیش کرو؛ بلکہ انہیں ادبی زینت بخشنا تمہارے اپنے دل کی آواز ہے جسے تم اب درد سے نڈھال ہو کر دبانا چاہتے ہو۔ تم یہ مانتے ہو کہ انہیں اپنی شاعری کا عنوان بنانا تمہارا فرض ہے، تو پھر کیوں تم اس چاہت کو مٹانا چاہتے ہو؟ یار حاجی! یہ صرف تم سے ہی ممکن ہے، اور کوئی دوسرا نہیں جو درد کو اتنا خوبصورت بنا کر پیش کر سکے۔ تم یہ ماننے کو کیوں تیار نہیں؟ کیا شاعری تجھے جنگی مہارتوں سے دور رکھ رہی ہے؟ کیا تم اس تخلیق کی وجہ سے جنگ میں کمزور پڑ گئے ہو، جنگی اصول بھول رہے ہو یا جنگی شدت میں پیچھے رہ گئے ہو؟ آپ کا جواب ہر بلوچ خود دے گا کہ ‘نہیں، ہرگز نہیں!’ کیونکہ اس تخلیق نے کبھی تمہاری جنگی خوبیوں کو کمزور نہیں کیا اور نہ ہی جنگی اصولوں کو پامال کیا ہے۔ پس حقیقت کو دیکھو، کیونکہ تم خود حقیقت پسند ہو، اس لیے اس خدائی تخلیق کو ترک مت کرو۔
ہرگز کوئی نہیں کہے گا کہ تم اس جنگی دائرے سے باہر نکل کر شاعری کرو؛ بس ہر ماں، باپ، بہن، بھائی اور منگیتر یہی چاہتے ہیں کہ تمہارا موضوع ہمیشہ ان کا وہ لختِ جگر ہو جس نے تمہاری ہمراہی میں دم توڑا ہے۔ تم انہیں زمین اور آسمان کے ہر شاعر اور دوست سے بہتر ادب کی دنیا میں دفن کر سکتے ہو، جنہوں نے تمہاری ہی گود میں آخری سانس لی ہو۔ نوشکل تجھ پر ناز کرتا ہے ابصار! جب تمہاری شاعری پورے بلوچستان کو بیان کرتی ہے۔ شور پارود کو چار چاند لگ جاتے ہیں جب ان کا تذکرہ تمہاری شاعری میں ہوتا ہے۔ وہ درد بھی ناز کرتا ہے جو ردیف بن کر تمہاری شاعری کا حصہ بنتا ہے، اور وہ پہاڑ اور ندیاں بھی جوش سے جھوم اٹھتی ہوں گی جو اس تخلیق میں بہادری اور شجاعت کی نظموں میں شامل ہوتی ہیں۔
زندان میں بند قیدی جب تمہاری شاعری کا ایک بند بھی یاد کرے گا، وہ بکھرنے سے ہزار سال تک بچ جائے گا۔ ابصار! تم خود شناس ہو، تو کیوں اس تخلیق کی شناسائی سے خود کو بے خبر کر رہے ہو؟ جب ہر دروازہ درد کی وجہ سے بند ہو جاتا ہے، تب تم جینے کا حوصلہ بن جاتے ہو۔ تم نے نہ جانے کتنے نوجوانوں کو پاک راہ دکھائی جو بھٹکے ہوئے تھے، جو مایوس تھے اور جو زوال پذیر تھے؛ مگر وہ تمہاری تخلیق ہی ہے جو انہیں بکھرنے سے بچا گئی۔ تم ‘ساہ کش’ (نزع کا عالم) لکھ کر اب کیسے اپنے بچپن کے ساتھی میرین کی یادوں کو رخصت کرنا چاہتے ہو؟ یہ ممکن ہی نہیں ہے، اس لیے اس قیمتی قلم کو ہرگز مت پھینکو، بلکہ اس میں اور سیاہی بھر کر ادب کو فدائیوں کی خوشبو سے سجا لو۔
“ابصار! یہ تخلیق خداداد ہے۔ اس میدانِ جنگ میں (حالات کو) صرف تم ہی سنبھال سکتے ہو۔ تم ہی وہ ماہر شاعر، ادیب اور سرمچار ہو جو درد کو ادبی قالب میں ڈھال کر تاریخ کا حصہ بناتا ہے۔ جب تم کرداروں کو قلم کی زینت بناتے ہو اور ہر ماتمی رات کو اک داستان میں بدلتے ہو، تو یہ وہ نایاب تخلیق ہوتی ہے جو صرف تمہیں ہی میسر ہے۔
تم ہر سرمچار کے پیروں کے چھالوں پر مرہم رکھ سکتے ہو اور مایوس دلوں کو حوصلہ بخش سکتے ہو۔ تمہارے کلام میں طاقت ہے، درس ہے، علم ہے، درد ہے اور وہ تربیت ہے جسے پڑھ کر ہر انسان موم ہو جاتا ہے۔ جب تنہائی میں بیٹھ کر تم قلم کو اپنا ہتھیار بناتے ہو، تب یقیناً تم اپنے خیالات سے ہمکلام ہوتے ہو گے۔ وہ منظر کتنا سحر انگیز ہوگا جسے لفظوں میں بیان کرنا ناممکن سا لگتا ہے۔
ابصار! یہ ایک التجا ہے، ایک فریاد ہے، ایک پکار ہے اُس انسان کی جو تمہارے کلام سے محبت کی انتہا کرتا ہے۔ خدا کے لیے اس قلم کو کبھی گرنے مت دینا! تم وہ عملی، فکری، سیاسی اور رزمیہ (جنگی) شاعر ہو جو بذاتِ خود ایک مکمل کلام ہے۔
ہم تم سے مادی دنیا کی تعریف بیان کرنے کو ہرگز نہیں کہیں گے، اور نہ ہی کبھی کسی محبوبہ کے زلف و رخسار کے قصے چھیڑنے کا تقاضا کریں گے۔ بلکہ تم شعر لکھو اُس منگیتر کے لیے جو اس جنگ کی زد میں آ گئی۔ تم ردیف اور قافیہ اُس ماں کے بیٹے کو بناؤ جو اس دھرتی پر خود کو فنا کر گیا۔ تم استعارہ اور تشبیہ اُس بہن کے بھائی کو بناؤ جو بارود سے کھیلتا ہے۔ تم اپنی شاعری کا وزن اُس بہن کے عزم کو بناؤ جو اپنی ہر خوشی اور آسائش کو تیاگ کر زمین کی آزادی کے لیے کوشاں ہے۔ تم اپنے کلام کا عنوان ‘شاری’ کو بناؤ جو میرو اور ماہو کو مٹی کی خاطر چھوڑ گئی۔جس طرح اس شعر میں عرض ہے کہ،
بنا کر قافیہ لکّھوں گا مَیں اس ماں کے جگر گوشے
جو دھرتی کی حفاظت میں یہاں خود کو فنا کر گیا
وہ بہنیں جو زمین کی مہر میں سکھ چھوڑ بیٹھی ہیں
انھی کی عزم و ہمت کو مَیں اب اپنا وزن دوں گا
نہ زلفوں کی کہانی ہو، نہ حُسن و عشق کا قصہ
جو بارودوں سے کھیلتے ہیں، انھی کا اب بیاں ہوگا
وہ شاری ہو، وہ میرو ہو، یا ماہو کے ہوں آنسو
شہیدوں کی ہی داستان اب میرا بیاں ہوگا
بلوچستان کی مٹی سے جو لکھی جا رہی ہے اب
وہی تاریخِ مقتل اب مرے دل کا پتا ہوگا
عرب ہو یا عجم، ان کا ادب بھی دنگ رہ جائے
مَیں ایسے درد کو بخشوں گا اب جادو کلامی کا
تم ہرگز حسنِ ظاہری کو ادبی شکل مت دو، بلکہ یہ التجا ہے کہ درد سے لبرِیز جنگی داستانوں کو شاعری کی زینت بناؤ۔ کیونکہ وہ صرف تم ہو جو اس درد کو شاعری کا روپ دے سکتے ہو؛ وہ تم ہو جو ان بکھرے خیالات کو قلم بند کر سکتے ہو؛ وہ تم ہو جو قلم کی آبرو رکھ سکتے ہو؛ اور وہ تم ہو جو عرب و عجم کے ادب کو ٹکر دے سکتے ہو۔
بس ایک ہی آرزو ہے کہ تم لکھتے رہو! اُن پھول جیسے شہیدوں کے نام لکھو جو اس بلوچستان کی شان و تفاخر کے لیے ٹکڑے ٹکڑے ہو گئے۔ تم ادب کی دنیا میں ہر شہید کی قربانی کو اس طرح بیان کرو کہ تاریخ بھی ان کی شجاعت اور بہادری دیکھ کر دنگ رہ جائے۔
دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔













































