بلوچستان لبریشن فرنٹ کے ترجمان میجر گہرام بلوچ نے میڈیا کو جاری بیان میں کہا ہے کہ تنظیم کی نو تشکیل شدہ یونٹ “کریمہ آرمڈ اسالٹ ڈویژن “ (کاڈ )کے سرمچاروں نے تربت کے علاقے جوسک میں سی پیک شاہراہ پر اور قلات کے شہر منگچر میں کوئٹہ-کراچی شاہراہ پر دو اہم کارروائیاں سرانجام دیں۔ کاڈ کی جوسک کے معرکے میں قابض پاکستانی فوج کے 6 اہلکار ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے، جبکہ منگچر میں شاہراہ کی ناکہ بندی کے دوران پیش قدمی کرنے والی قابض فوج کے 2 اہلکار ہلاک ہوئے جبکہ باغوں کی طرف پسپا ہو کر سرمچاروں کا گھیراؤ کی کوشش کرنے والے اہلکاروں پر دوسرے حملے میں مزید 1 فوجی اہلکار ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے ہیں۔
انہوں نے کہاکہ 22 ستمبر 2026 کو کریمہ آرمڈ اسالٹ ڈویژن (کاڈ) کے سرمچاروں نے انٹیلی جنس معلومات پر تربت کے علاقے جوسک میں سی پیک شاہراہ پر قابض پاکستانی فوج کی کوئیک ریسپانس فورس (QRF) کی 3 گاڑیوں پر مشتمل قافلے کو گھات لگا کر حملے میں نشانہ بنایا۔ سی پیک شاہراہ پر یہ معرکہ کریمہ آرمڈ اسالٹ ڈویژن (کاڈ) کی پہلی عسکری کاروائی تھی۔ جیسے ہی کوئیک رسپانس فورس کا قافلہ نشان ہدف پر پہنچا کاڈ کے سرمچاروں نے سڑک پر پیش قدمی کر کے قافلے کو گھیرے میں لے لیا اور ان پر سامنے سے فائرنگ شروع کر دی۔ پہلی بلٹ پروف گاڑی کے اوپر نصب ایل ایم جی گنر کو کاڈ کے سرمچاروں نے براہِ راست ہدف بنا کر موقع پر ہی ہلاک کردیا جبکہ دوسری گاڑی پر فائرنگ کے نتیجے میں گاڑی میں سوار 1 اہلکار ہلاک ہوگیا، اور دونوں گاڑیاں ہدف سے دور نکل گئے۔ اسی اثنا میں آنے والی تیسری گاڑی پر سرمچاروں نے خودکار ہتھیاروں سے مختلف اطراف سے شدید حملہ کیا جس کے نتیجے میں گاڑی میں موجود چاروں 4 فوجی اہلکار ہلاک ہوئے۔ کاڈ کے سرمچاروں کی اس کارروائی کے نتیجے میں قابض فوج کے مجموعی طور پر 6 اہلکار ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے، جبکہ دشمن کی گاڑیوں کو شدید نقصان پہنچا۔ اس کارروائی کو سرانجام دینے میں کاڈ کو بی ایل ایف کی قربان یونٹ کے سرمچاروں کی بھرپور کمک حاصل تھی۔
ترجمان نے کہاکہ حملے کے بعد جب قابض فوج نے جوابی گھیراؤ کی کوشش کی جسے کاڈ اور قربان یونٹ کے سرمچاروں نے پسپا کر کے اپنے ساتھیوں کو کور (cover) فراہم کی اور تمام دستوں کی باحفاظت واپسی کو یقینی بنایا۔ اس معرکہ میں قربان یونٹ کے نڈر اور بہادر سرمچار کیپٹن چاکر مراد عرف دلیپ جان دلیری سے لڑتے ہوئے جامِ شہادت نوش کر گئے۔ اس معرکے کے دوران کاڈ اور قربان یونٹ کے سرمچاروں نے اعلیٰ عسکری نظم و ضبط، موثر حکمتِ عملی اور بے مثال شجاعت کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے تمام تر اہداف حاصل کیے۔
انہوں نے کہاکہ 25 ستمبر 2026 کو کریمہ آرمڈ اسالٹ ڈویژن (کاڈ) کے سرمچار منظم و مربوط منصوبہ بندی کے ساتھ قلات کے شہر منگچر میں داخل ہو کر کوئٹہ-کراچی مرکزی شاہراہ پر 3 مختلف مقامات پر ناکہ بندی قائم کر کے اسنیپ چیکنگ کی اور علاقے میں گشت کیا۔ منگچر بازار کی جانب سے قابض فوج نے ایک بکتر بند اور دو دیگر گاڑیوں کے ساتھ ناکہ بندی ختم کرانے کے لیے پیش قدمی کی، جس پر شاہراہ پہ موجود مستعد سرمچاروں نے حملہ کر کے بکتر بند گاڑی سمیت تینوں گاڑیوں پر بھاری اور خودکار ہتھیاروں سے حملہ کر دیا۔ اس کارروائی کے نتیجے میں 2 فوجی اہلکار ہلاک ہو گئے, فوجی گاڑیوں کو شدید نقصان پہنچا اور قابض فوج کے اہلکار جانی نقصانات کے بعد پسپا ہونے پر مجبور ہو گئیں۔
ترجمان نے کہاکہ پسپائی کے بعد قابض فوج کے دیگر دستوں نے سرمچاروں کو گھیرنے کی کوشش کی اور شاہراہ کے اطراف باغوں میں موجود اہلکاروں نے سرمچاروں پر حملہ شروع کر دیا، سرمچاروں نے باغوں میں چھپے اہلکاروں کو راکٹ، ایل ایم جی اور خودکار ہتھیاروں سے نشانہ بنا کر ان کا گھیرا توڑ دیا۔ اس دوسری کارروائی کے نتیجے میں مزید 1 فوجی اہلکار ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے اور قابض فوج کو وہاں سے بھی پیچھے دھکیل دیا گیا۔ تیسرے مقام پر سرمچاروں نے 40 منٹ تک گاڑیوں کو روک کر اسنیپ چیکنگ کی اور دشمن کے مارٹر گولوں و کواڈ کاپٹر سے داغے گئے بموں کے باجود تمام اہداف حاصل کیے اور باحفاظت اپنے محفوظ ٹھکانوں کی طرف نکل گئے۔
مزید کہاکہ کریمہ آرمڈ اسالٹ ڈویژن (KAAD) کی تشکیل اور ان حالیہ معرکوں میں ان کا ہراول دستے کا کردار واضح کرتا ہے کہ بلوچ قومی تحرک محض عسکری کارروائیوں کا نام نہیں بلکہ یہ گہرے سیاسی شعور اور نظریاتی بلوغت کا مظہر ہے۔ شہید بانک کریمہ بلوچ کی فکری اور انقلابی میراث سے معنون بلوچ خواتین کا یونٹ قومی جدوجہدِ آزادی کا متحرک، باصلاحیت اور ہراول دستہ بن کر روایتی و سامراجی بیانیوں کو مکمل طور پر ملیا میٹ کر دے گا۔ کاڈ عسکری سائنس، صف بندی اور صفِ اول میں شانہ بشانہ جنگی حکمتِ عملی کے ذریعے نہ صرف قابض ریاست کے استعماری تسلط اور قابض ریاست کی منصوبوں کو چیلنج کر رہی ہے، بلکہ بلوچ معاشرے سے پدری شاہی تسلط اور صنفی تفریق کا خاتمہ کر کے ایک جدید اور مساویانہ سماج کی داغ بیل ڈال رہی ہے۔ قابض ریاست پاکستان پر یہ واضح ہونا چاہیے کہ بلوچ قوم کی طاقت صرف ہتھیاروں سے نہیں بلکہ اس کے ناقابلِ تسخیر سیاسی شعور، قومی یکجہتی اور وطن کی مکمل آزادی کے غیر متزلزل عزم سے ماخوذ ہے۔
ترجمان نے کہاکہ بلوچستان لبریشن فرنٹ جوسک اور منگچر کے ان دونوں معرکوں میں قابض پاکستانی فوج کے مجموعی طور پر 9 اہلکاروں کی ہلاکت، متعدد کے زخمی ہونے اور گاڑیوں کی تباہی کی ذمہ داری قبول کرتی ہے۔ ہم اپنے عظیم شہید سرمچار کیپٹن چاکر مراد عرف دلیپ جان کی لازوال قربانی کو خراج عقیدت اور سلام پیش کرتے ہیں اور اس عزم کا اعادہ کرتے ہیں کہ سیاسی اور فکری طور پر بالاغ اور عسکری طور پر منظم بی ایل ایف کے سرمچار قومی شعور اور جذبہ قربانی کے ساتھ بلوچستان کی مکمل آزادی تک قابض قابض فوج پر اپنے حملے مزید شدت کے ساتھ جاری رکھیں گے۔
ترجمان نے میڈیا کو جاری ایک اور بیان میں کہا ہے کہ بلوچستان لبریشن فرنٹ اپنے دیرینہ، نڈر، اور انتہائی باصلاحیت تنظیمی ساتھی شہید کیپٹن چاکر مراد عرف دلیپ امیر ولد مراد، سکنہ بلوچی بازار آپسر تربت کی عظیم قربانی اور لازوال جدوجہد کو سرخ سلام پیش کرتی ہے۔ شہید کیپٹن چاکر مراد نے سرزمین کے دفاع، قومی بقا اور غاصب دشمن کے خلاف گوریلا جنگ کے دوران بہادری و شجاعت کی وہ تاریخ رقم کی جو بلوچ قوم کے لیے ہمیشہ باعثِ فخر اور مشعلِ راہ رہے گی۔
انہوں نے کہاکہ شہید کیپٹن چاکر مراد فروری 2021ء میں بلوچستان لبریشن فرنٹ کے پلیٹ فارم سے مسلح جدوجہدِ آزادی میں باقاعدہ طور پر شامل ہوئے، تاہم اپنی کمسنی ہی کے دور سے وہ تحریکِ آزادی اور تنظیم سے گہری دلی و نظریاتی لگاؤ رکھتے تھے۔ باقاعدہ شمولیت سے قبل بھی وہ کمسنی کے باوجود ساتھیوں کی رہنمائی، انٹیلی جنس معلومات کی فراہم کاری اور دیگر تنظیمی امور میں غیر معمولی طور پر فعال اور متحرک رہے۔ تحریک سے اسی وابستگی کی پاداش میں کمسنی ہی کے عالم میں قابض دشمن نے انہیں گرفتار کر کے چھ ماہ تک اپنے تاریک و بھیانک قید خانوں میں بند رکھا۔ دشمن کے ان عقوبت خانوں میں شہید کیپٹن چاکر نے اذیتیں، وحشیانہ ٹارچر اور ہولناک عذاب برداشت کیے، جبکہ دشمن نے انہیں لالچ دینے کی بھی ہر ممکن کوشش کی مگر وہ آہن جیسا عزم رکھنے والا سرمچار نہ تو تشدد سے ٹوٹا، نہ خاموش ہوا، اور نہ ہی لالچ اور خوف انہیں قومی جنگ سے دور کر سکا۔
ترجمان نے کہاکہ رہائی کے بعد، بی ایل ایف میں باقاعدہ شمولیت اختیار کر کے انہوں نے تنظیمی صفوں میں گہری سیاسی و نظریاتی تربیت حاصل کی، جس کی بدولت انہوں نے اپنے احساسات و جذبات کو اعلیٰ انقلابی شعور میں بدل دیا اور غاصب ریاست کی استحصالی پالیسیوں کا درست اندازہ لگا کر دشمن کے سامنے ایک نڈر اور مضبوط چٹان کی طرح ڈٹ گئے۔ انہوں نے کم عمری میں گوریلا جنگی حکمتِ عملی پر مکمل عبور حاصل کر لیا اور تنظیم کے سینئر اور دیرینہ ساتھیوں کی صف میں شمار ہونے لگے، جہاں کسی کو یہ احساس تک نہ ہوتا تھا کہ ان کی عمر یا تنظیمی مدت کم ہے۔
انہوں نے کہاکہ شہید کیپٹن چاکر مراد کی بے مثال جفاکش، غیر متزلزل مخلصی اور اعلیٰ قائدانہ صلاحیتوں کی بدولت تنظیم نے انہیں کیپٹن کے ذمہ دارانہ رینک پر فائز کیا اور کیمپ کا سیکنڈ کمانڈ مقرر کیا۔ وہ قربان یونٹ کے ایک صفِ اول اور جفاکش رکن تھے، قربان یونٹ بی ایل ایف کا خصوصی و ہراول دستہ ہے جو ہر چھوٹے بڑے معرکے میں اپنی جان کی پروا کیے بغیر فرنٹ لائن پر دشمن سے نبرد آزما ہوتا ہے۔ شہید کیپٹن چاکر نے تربت، کیلکور، بالگتر، پنجگور، شاپک، پروم، زامران اور بلیدہ کے سخت اور دشوار گزار محاذوں پر قربان یونٹ کے ایک نڈر سرمچار کے طور پر تمام جنگی فرائض دلیری سے نبھائے ہیں۔
میجر گہرام بلوچ نے کہاکہ بلخصوص تربت شہر میں، جسے دشمن اپنی فوج، آئی ایس آئی، ایم آئی، ہیڈکوارٹرز، سینکڑوں چوکیوں اور پروردہ دلالوں کے باعث ایک محفوظ زون تصور کرتا تھا، شہید کیپٹن چاکر مراد نے قابضین کی دن رات کی نیندیں حرام کر دیں۔ شہید کیپٹن چاکر مراد نے تربت شہر میں اس وقت شہری گوریلا جنگ میں شدت پیدا کی اور اس کو منظم صورت دینے میں اہم کردار ادا کیا جب شہری محاذ پر عسکری کارروائیاں نہ ہونے کے برابر اور نہایت دشوار تصور کی جاتی تھیں۔ انہوں نے بی ایل ایف کے اتحادی تنظیموں کو لاجسٹک، انٹیلی جنس اور حربی کمک فراہم کر کے شہری محاذ کا راستہ ہموار کیا اور مسلسل ان کی مدد فرمائی کی ہے۔
کیپٹن چاکر مراد نے دلاورانہ حکمتِ عملی کے تحت دشمن کے گڑھ میں گھس کر حملے کیے اور قابض فوج و انٹیلی جنس ایجنسیوں کے نیٹ ورک کو ان کے کیمپوں تک محصور کر کے رکھ دیا۔ کپیٹن چاکر مراد اور اس کے ساتھیوں نے تربت شہر کے قلب میں قابض فوج کو بارہا ہزیمت سے دوچار کیا اور ان پہ در پہ حملوں میں دشمن کو ناقابل تلافی نقصانات کا سامنا رہا ہے۔
انہوں نے کہاکہ مجید برگیڈ کے تاریخی فدائی آپریشن زر پہاز 4 (بحری آپریشن) کی کامیابی میں شہید کیپٹن چاکر مراد نے کلیدی اور تاریخی کردار ادا کیا۔ انہوں نے اپنی بے مثال گوریلا مہارت اور راہنمائی کے ذریعے مجید برگیڈ کے فدائی ساتھیوں کو تمام تر خطرات سے محفوظ رکھتے ہوئے نیوی کیمپ تک پہنچایا اور اس عظیم مشن کی کامیابی کو یقینی بنایا۔
ترجمان نے کہاکہ ان کی بے پناہ صلاحیتوں، بے مثال جفاکشی اور تنظیم کے غیر متزلزل اعتماد کی بدولت بی ایل ایف نے انہیں انتہائی اہم یونٹ کریمہ آرمڈ اسالٹ ڈویژن کی پہلی کارروائی کی ذمہ داریواں میں شامل کیا۔ کاڈ کے اس پہلے معرکے اور مشن کی کامیابی کے لیے شہید کیپٹن چاکر نے حد درجہ تکالیف، کٹھن حالات، سخت محنت اور بے مثال جفاکشی برداشت کی، تاکہ یہ انقلابی یونٹ ہر صورت کامیاب رہے اور قومی تحریکِ آزادی میں ایک روشن و نئے باب کا آغاز کامیابی کے ساتھ ہو۔ وہ اس تاریخی و اہم ترین مشن کو مشکلات اور خطرات کا مقابلہ کرتے ہوئے اسے کامیابی سے ہمکنار کیا۔
ترجمان نے کہاکہ انہوں نے تربت شہر کے بالکل قلب میں دشمن کو ایسا دردناک زخم اور تاریخی صدمہ دیا جس کی کسک دشمن کی آنے والی نسلیں بھی محسوس کرتی رہیں گی۔ اس معرکے کے دوران شہید کیپٹن چاکر مراد نے کاڈ ؤ قربان یونٹ کے تمام بہادر ساتھیوں اور شیر زال سرمچاروں کو بحفاظت نکالنے کے لیے اپنی جان کا نذرانہ پیش کر دیا اور خود کو قربان کر کے ساتھیوں کی حفاظت کی ایک لازوال تاریخ رقم کی۔
انہوں نے کہاکہ شہید کیپٹن چاکر مراد بی ایل ایف کے اندر ایک انتہائی سخت گیر اصول پسند اور پابندِ ڈسپلن سرمچار تھے۔ تنظیم کے قواعد و ضوابط کی پاسداری ان کے لیے ایک مقدس فریضے اور عبادت کی مانند تھی۔ انہوں نے نہ صرف خود کبھی اصولوں پر سمجھوتا نہیں کیا بلکہ کسی دوسرے ساتھی کو بھی تنظیمی ڈسپلن سے انحراف کی اجازت نہ دی۔ وہ اپنی غلام قوم کو آزادی کا شعور دینے، بیدار کرنے اور جنگ کی ترغیب دینے کے جنون میں مبتلا تھے اور شب و روز تحرک میں رہے۔ کیپٹن چاکر مراد شہری گوریلا جنگ کا ماہر سرمچار تھا اور اس کی جنگی حکمت عملیاں مسقبل میں شہری گوریلا جنگ میں بلوچ سرمچاروں کے لئے قابل تقلید ہونگے۔
آخر میں کہاکہ بی ایل ایف اپنے اس عظیم نوجوان رہنما، گوریلا جنگ کے ماہر اور بہادر سرمچار کی لازوال قربانی کو عظیم ترین الفاظ میں خراجِ تحسین پیش کرتی ہے۔ شہید کیپٹن چاکر مراد کا بہتا ہوا مقدس لہو بلوچ قوم کی آزادی اور خودمختاری کے سفر کو مزید تیز کرے گی۔ بی ایل ایف یہ عہد کرتی ہے کہ شہید کپٹن چاکر مراد کے مشن کو اس کی منطقی منزل آزاد بلوچستان تک پہنچایا جائے گا۔















































