بلوچستان کے جبری گمشدگان کی خاموش فریاد، بی این ایم کی جنیوا میں تصویری نمائش

1

بلوچ نیشنل موومنٹ کے مطابق پارٹی نے اقوام متحدہ کے دفتر کے سامنے بلوچستان میں جبری گمشدگیوں، اجتماعی سزا اور انسانی حقوق کی صورتِ حال پر تصویری نمائش کا انعقاد کیا، جس میں جبری لاپتہ افراد اور ان کے خاندانوں کی مشکلات کو تصاویر کے ذریعے اجاگر کیا گیا۔

بیان کے مطابق یہ نمائش بی این ایم کی 24 سے 26 ستمبر تک جاری رہنے والی تین روزہ جنیوا مہم کا حصہ تھی، جس میں کانفرنس، احتجاج اور ریلی بھی شامل تھے۔ بی این ایم کے مطابق، مہم کا مقصد بلوچستان کی صورتِ حال کو عالمی سطح پر اجاگر کرنا اور جبری گمشدگیوں سے متعلق شواہد بین الاقوامی اداروں تک پہنچانا تھا۔

بی این ایم کے ترجمان نے کہا کہ بلوچستان میں جبری گمشدگی محض دعویٰ یا اعداد و شمار نہیں بلکہ ہزاروں خاندانوں کی زندگیوں سے جڑی ایک دردناک حقیقت ہے۔ ان کے مطابق، نمائش میں پیش کی گئی تصاویر ان خاندانوں کی نمائندگی کرتی ہیں جو برسوں سے اپنے پیاروں کی واپسی اور ان کے بارے میں جواب کے منتظر ہیں۔

ترجمان نے کہا کہ بلوچستان میں جبری لاپتہ افراد کے لواحقین کے احتجاج، وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے لانگ مارچ اور طویل بھوک ہڑتالوں کے باوجود عالمی سطح پر اس مسئلے پر مؤثر اقدام نہیں اٹھایا جاسکا۔ انھوں نے کہا کہ بی این ایم کی عالمی مہم اسی سوال کو اقوام متحدہ جیسے عالمی پلیٹ فارم تک دستاویز اور تصویری شواہد کی صورت میں پہنچانے کی کوشش ہے۔

انھوں نے کہا کہ ماما قدیر کے لانگ مارچ میں اپنے والدین کی تلاش کے لیے شریک ہونے والے کئی بچے آج جوان ہوچکے ہیں، جبکہ بعض خود بھی جبری گمشدگی اور ریاستی دباؤ کا سامنا کرچکے ہیں۔

ترجمان نے ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ انھوں نے اپنے والد کی جبری گمشدگی کے خلاف اس وقت آواز اٹھائی جب وہ کم سن بچی تھیں اور آج بلوچ حقوق کے لیے ایک معروف آواز بن چکی ہیں۔ انھوں نے کہا کہ انھیں بلوچ حقوق کی جدوجہد کی پاداش میں مقدمات کا سامنا کرنا پڑا اور جون 2026 میں انھیں ایک جھوٹے مقدمے میں عمر قید کی سزا سنائی گئی۔

ترجمان نے بی این ایم کے چیئرمین ڈاکٹر نسیم بلوچ کے خاندان کا بھی حوالہ دیا۔ ان کے مطابق، ڈاکٹر نسیم بلوچ کے والد محمد بخش ساجدی اور چچا نعیم ساجدی اور ماموں انجینئر رفیق بلوچ کو 2 فروری 2026 کو ھب میں ان کے گھروں پر کارروائی کے دوران پاکستانی فوج نے حراست میں لے کر جبری لاپتہ کیا اور ان کے بارے میں تاحال کوئی معلومات سامنے نہیں آئی ہیں۔ اس معاملے کو برطانوی پارلیمان کے ایک ارلی ڈے موشن میں بھی اٹھایا گیا ہے۔

ترجمان نے کہا کہ بلوچ قوم ان تمام تر مشکلات کے باوجود اپنی سیاسی جدوجہد اور تحریکِ آزادی میں استقامت سے کھڑی ہے۔ یہ تصویری نمائش اس استقامت اور ان قربانیوں کا اظہار ہے جو بلوچ اپنی آزادی کے لیے دے رہا ہے۔

جنیوا میں ہونے والی اس نمائش کے ذریعے بی این ایم نے جبری گمشدگیوں کے متاثرین کی تصاویر کو عالمی اداروں اور بین الاقوامی برادری کے سامنے پیش کیا اور مطالبہ کیا کہ بلوچستان میں انسانی حقوق کی صورتِ حال کو عالمی سطح پر سنجیدگی سے دیکھا جائے۔