کوئٹہ: جبری گمشدگیوں کے خلاف احتجاجی کیمپ 6374ویں روز بھی جاری، بیبرگ قمبرانی کے والدین کی شرکت

2

بلوچستان میں جبری گمشدگیوں کے خلاف وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز (وی بی ایم پی) کے زیرِ اہتمام کوئٹہ پریس کلب کے سامنے قائم احتجاجی کیمپ تنظیم کے چیئرمین نصراللہ بلوچ کی قیادت میں 6374ویں روز بھی جاری رہا۔

اس موقع پر جبری طور پر لاپتہ بیبرگ قمبرانی کے والدین نے احتجاجی کیمپ میں شرکت کرکے اپنے بیٹے کی بازیابی کے لیے اپیل کی۔

انہوں نے کہا کہ ان کے ایک بیٹے، حمل خان، کو 25 دسمبر 2025 کو ڈیگاری ایف سی چیک پوسٹ سے، جبکہ دوسرے بیٹے، بیبرگ قمبرانی، کو اسی روز کلی قمبرانی سے فورسز نے جبری طور پر لاپتہ کیا۔

انہوں نے کہا کہ حمل خان کو بعد ازاں ہدہ جیل سے منظرِ عام پر لایا گیا، تاہم بیبرگ قمبرانی تاحال لاپتہ ہے۔ انہوں نے اعلیٰ حکام سے اپیل کی کہ بیبرگ قمبرانی کو بھی منظرِ عام پر لاکر اہلِ خانہ کو اذیت اور بے یقینی کی کیفیت سے نجات دلائی جائے۔

وی بی ایم پی کے چیئرمین نصراللہ بلوچ نے مطالبہ کیا کہ بیبرگ قمبرانی سمیت تمام جبری طور پر لاپتہ افراد کو بازیاب کرایا جائے، جبکہ جن افراد پر کوئی الزام ہے، انہیں منظرِ عام پر لاکر عدالت میں پیش کیا جائے۔