بلوچستان لبریشن فرنت کے ترجمان میجر گہرام بلوچ نے میڈیا کو جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ 29 ستمبر 2026 کو بلوچستان لبریشن فرنٹ کے کریمہ آرمڈ اسالٹ ڈویژن (کاڈ) کے سرمچاروں نے قلات کے علاقے دشت گوران میں کوئٹہ-کراچی شاہرہ پر صبح 12 بجے ناکہ بندی قائم کرکے کامیابی سے اسنیپ سنیپ چیکنگ کیا۔ اس دوران سرمچاروں نے شاہراہ پر نقل و حرکت کرنے والی گاڑیوں کی تلاشی لی اور تنظیمی و قومی امور سرانجام دیے۔ شام 5 بجے تک اپنے اہداف حاصل کرنے کے بعد ناکہ بندی ختم کردی اور اس دوران قابض فوج نے کوئی بھی نقل حرکت نہیں کیا۔
انہوں نے کہا کہ ایک اور کارروائی میں 26 ستمبر 2026 کو کریمہ آرمڈ اسالٹ ڈویژن کے سرمچاروں نے خضدار کے علاقے لاکھوریان میں کوئٹہ-کراچی مرکزی شاہراہ پر دوپہر 2 بجے سے شام 5 بجے تک ناکہ بندی قائم کر کے کامیابی کے ساتھ اسنیپ چیکنگ کیا۔ اس دوران سرمچاروں نے شاہراہ پر نقل و حرکت کرنے والی گاڑیوں کی تلاشی لی اور تنظیمی و قومی امور سرانجام دیے۔
ترجمان نے کہا کہ شام 5 بجے ناکہ بندی ختم کرنے کے بعد بھی کاڈ کے مستعد سرمچار کوئٹہ-کراچی شاہراہ کے قریب ہی پوزیشنیں سنبھال کر رات 8 بجے تک قابض پاکستانی فوج کی آمد کے منتظر رہے اور شاہراہ کو اپنے کنٹرول میں رکھا، تاہم سرمچاروں کی موجودگی کی اطلاع کے باوجود قابض فوج کے اہلکار خوف کے باعث سامنے آنے اور مقابلہ کرنے کی ہمت نہ کر سکے۔ تمام اہداف حاصل کرنے کے بعد سرمچار باحفاظت اپنے محفوظ ٹھکانوں کی طرف نکل گئے۔
انہوں نے مزید کہا کہ بلوچستان لبریشن فرنٹ قلات اور خضدار میں مرکزی شاہراہ پر ناکہ بندی اور علاقے میں مکمل کنٹرول برقرار رکھنے کی ذمہ داری قبول کرتی ہے۔













































