بلوچ خواتین کی عملی اور عسکری شمولیت کے بغیر آزادی کے عظیم خواب کی تعبیر ناممکن ہے۔بی ایل ایف

55

بلوچستان لبریشن فرنٹ نے میڈیا کو جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ قابض ریاست پاکستان کی نوآبادیاتی تسلط کے خلاف طویل عرصے سے جاری بلوچ قومی آزادی کی مسلح جدوجہد میں کریمہ آرمڈ اسالٹ ڈویژن (کاڈ) کا باضابطہ قیام اور عسکری صفوں میں بلوچ خواتین کا منظم قدم رکھنا بلوچ جہدِ آزادی کی تاریخ میں ایک نئے، انتہائی اہم انقلابی اور روشن باب کا اضافہ ہے۔ کاڈ کا قیام محض ایک عسکری یونٹ کا وجود میں آنا نہیں ہے، بلکہ یہ لمہِ وطن شہید بانک کریمہ بلوچ کی عظیم، بے مثال اور تاریخی جدوجہد کو خراجِ عقیدت پیش کرنے اور قومی بیداری کا ایک فیصلہ کن انقلابی عمل ہے۔

انہوں نے کہا کہ بلوچستان لبریشن فرنٹ بطور ایک ذمہ دار اور منظم قومی ادارہ اپنے واضح سیاسی بیانیے، قومی منشور اور فکری و نظریاتی موقف کے تحت اس بنیادی اور آفاقی حقیقت کا اعلان کرتا ہے کہ بلوچ قومی آزادی کی تحریک اپنے اساس اور نظریاتی جوہر میں ہمیشہ سے ترقی پسند، جمہور اور انقلابی رہی ہے۔ نوآبادیاتی جبر کا شکار کسی بھی مظلوم قوم کی آزادی کی جدوجہد اس وقت تک اپنے حتمی، منطقی اور تاریخی انجام کو نہیں پہنچ سکتی جب تک کہ اس قوم کی نصف آبادی یعنی خواتین سائنسی اور انقلابی بنیاد پر منظم ہوکر اس قومی کاروان کی انقلابی اور جنگی صفوں میں مردوں کے شانہ بشانہ تاریخی کردار ادا نہ کریں۔

ترجمان نے کہا کہ بلوچ قوم کی سیاسی، قومی اور رزمیہ تاریخ قدیم زمانے سے لے کر جدید دور تک بانڑی، گل بی بی اور مہناز کی داستانوں سے لے کر عصرِ حاضر میں شہید بانک کریمہ اور شہید بانک زرینہ بلوچ و دیگر باعمل خواتین تک قومی سیاسی اور عسکری امور میں بلوچ خواتین کی شمولیت، بہادری، شجاعت اور قربانیوں کی لازوال داستانوں سے بھری پڑی ہے۔ تاہم، اکیسویں صدی کی اس جدید جہدِ آزادی نے بلوچ خواتین کو روایتی اور محدود دائروں سے نکال کر قومی تحریک آزادی میں وسیع، موثر اور فیصلہ کن کردار ادا کرنے کا تاریخی موقع فراہم کیا ہے۔

بی ایل ایف کا سیاسی موقف ہے کہ قومی غلامی، جغرافیائی تسلط اور معاشی و سماجی استحصال کے خلاف جاری جنگ کوئی لمحاتی جذباتیت یا محض دفاعی ردِعمل نہیں ہے، بلکہ یہ بلوچ قوم کی سلب شدہ قومی اقتدار اعلیٰ کی مکمل بحالی، قومی سرزمین اور اس کے ساحل و وسائل پر بلا شرکتِ غیرے مالکانہ حقوق کے قیام، اور نوآبادیاتی طاقت کو مکمل انخلا پر مجبور کرنے کا ایک نامیاتی، تاریخی اور سائنسی عمل ہے۔ اس عمل میں کاڈ (KAAD) کی صورت میں بلوچ خواتین کا منظم عسکری و سیاسی یونٹ قائم کرنا قومی آزادی کی جدوجہد کو جدید ترین اور پائیدار بنیادوں پر استوار کرنے کے عمل کا حصہ ہے، جسے  قابض دشمن اور دنیا نظرانداز نہیں کر سکتے۔

بلوچ قومی تحریک آزادی میں خواتین کی یہ فعال مسلح و سیاسی شرکت بلوچ سماج کے اندر رونما ہونے والی انقلابی تبدیلیوں کے ایک مسلسل عمل کا حصہ ہے۔ اس کٹھن اور تاریخی راستے کو وا کرنے، اسے نظریاتی جلا بخشنے اور نئی نسل کے لیے مشعلِ راہ بنانے میں شہید بانک کریمہ بلوچ کا ایک بنیادی اور تاریخی کردار رہی ہے۔

بانک کریمہ بلوچ نے اپنے سیاسی سفر کا باضابطہ آغاز اسکول اور کالج کی طالبہ کی حیثیت سے کیا، جہاں انہوں نے طلبہ کی صفوں میں سیاسی و نظریاتی شعور، اور قومی آگاہی و فکر کی آبیاری کی۔ وہ بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن (آزاد) کے تاریخ کے سخت ترین، خوفناک اور پرتشدد دور میں تنظیم کی مرکزی چیئرپرسن کے منصب پر فائز ہوئیں۔ یہ وہ دور تھا جب دشمن کی طرف سے روزمرہ کی بنیاد پر بلوچ طلباء اور سیاسی کارکنوں پر ہولناک تشدد، ان کی جبری گمشدگیاں اور تشدد سے  مسخ شدہ لاشوں کے ملنے کا عمل عروج پر تھا۔ اس خونی اور خوفزدہ کر دینے والے ماحول میں بانک کریمہ بلوچ نے نہ صرف تنظیمی نظم و ضبط کو بکھرنے سے بچایا، بلکہ بلوچستان کے طول و عرض، تعلیمی اداروں، گھروں اور عوامی صفوں میں جا کر سیاسی بیداری، قومی خودداری اور آزادی کے نظریے کی مشعل کو روشن رکھا۔

انہوں نے بلوچ سیاست کو روایتی، مراعات یافتہ، پارلیمانی اور محض بیانیات و زبانی جمع خرچ کے دائروں سے باہر نکال کر عام لوگوں کے دلوں، مظلوم طبقوں اور تعلیمی اداروں میں ایک ناقابلِ تسخیر نظریہ بنا دیا۔
شہید بانک کریمہ بلوچ نے اپنی انتھک محنت، سازمانی بصیرت اور جہدِ مسلسل سے اس بنیادی مزاحمتی فکر کی آبیاری کی کہ جب تک سماج کے نصف حصے یعنی خواتین کی عملی، سیاسی اور انقلابی شمولیت ممکن نہیں بنائی جاتی، تب تک قومی آزادی کے عظیم مقصد کا حصول ناگزیر طور پر ادھورا رہے گا۔ اس انقلابی سفر میں انہیں بے شمار مشکلات کا سامنا رہا, ایک طرف قابض ریاست پاکستان اور اس کا جابرانہ نوآبادیاتی اپریٹس بلوچ خواتین کی سیاسی بیداری سے خوفزدہ تھا اور اسے روکنے کے لیے ہر قسم کا ریاستی تشدد بروئے کار لا رہا تھا، تو دوسری طرف پدری شاہی سوچ اور روایات سے متاثر بلوچ سماج کا ایک پسماندہ حلقہ بھی تحریک میں خواتین کی اس عملی شمولیت کی راہ میں حائل تھا لیکن بانک کریمہ اور ان کی دیگر عظیم جدوجہد کار ساتھیوں کی مسلسل جدوجہد، صلابت، قائدانہ صلاحبت اور غیر متزلزل عزم نے تمام تر اندرونی و بیرونی رکاوٹوں کو عبور کرکے قومی آزادی کی تحریک میں ایسی انقلابی تبدیلیوں کی راہ ہموار کیا جنہوں نے بلوچ قوم کے سیاسی اور سماجی بیانیے کا رخ ہمیشہ کے لیے موڑ دیا۔

ان کے عمل، افکار، تقاریر اور تحریروں نے بلوچ خواتین کو اس سائنسی حقیقت سے روشناس کرایا کہ وطن کی آزادی کا حصول اور غلامی کے نوآبادیاتی طوق کو توڑنا صرف مردوں کا فریضہ نہیں ہے، بلکہ بلا تفریقِ جنس ہر اس شخص کا بنیادی، قومی اور اخلاقی فرض ہے جو اس سرزمین کی مٹی، شناخت، تاریخ اور ننگ سے جڑا ہوا ہے۔ بلوچستان لبریشن فرنٹ بطور ایک قومی انقلابی ادارہ اس نظریاتی تصور پر کامل ایقان رکھتا ہے کہ تحریک آزادی میں بلوچ خواتین کی عملی اور عسکری شمولیت کے بغیر آزادی کے عظیم خواب کی تعبیر ناممکن ہے اور کاڈ کا قیام اسی مقدس خواب کی تعبیر کی جانب ایک عملی، باضابطہ اور فیصلہ کن قدم ہے۔

قابض ریاست پاکستان نے بلوچ خواتین کی ہمت، حوصلے اور عزم کو توڑنے اور انہیں قومی تحریک آزادی سے دور رکھنے کے لیے اپنے تمام تر جابرانہ ذرائع، جبری گمشدگیاں، اجتماعی سزا، سفاکیت، چادر و چاردیواری کی پامالی اور نفسیاتی بلیک میلنگ کو آزما کر دیکھ لیا ہے لیکن ریاستی جبر کا یہ ہولناک تسلسل بلوچ خواتین کے عزم کو متزلزل کرنے میں مکمل طور پر ناکام ثابت ہوا ہے۔

بانک کریمہ بلوچ کےافکار کی تسلسل اور بی ایل ایف کے انقلابی ڈسپلن نے موجودہ دور کے بلوچ خواتین کو اس تاریخی موڑ پر پہنچا دیا ہے جہاں وہ محض جبر کا شکار مظلوم وجود تک محدود نہیں رہیں، بلکہ اپنے ہاتھوں میں جدید خودکار ہتھیار اٹھائے بلوچستان کے پہاڑی دروں اور سنگروں میں دشمن کی عسکری طاقت کے بالمقابل کھڑی ہیں۔ بلوچ قومی مزاحمت کی تاریخ میں خواتین کا کردار لازوال قربانیوں کا وہ عظیم تسلسل ہے جس نے دشمن کے جارحانہ منصوبوں اور نفسیاتی کیفیت کو تہہ و بالا کر دیا ہے اور ثابت کیا ہے کہ بلوچ خواتین جب قومی جذبہ و فکر اور انقلابی نظریے کے ساتھ میدانِ معرکہ میں اترتی ہیں تو وہ قابض کے لیے ایک ہولناک خواب بن جاتی ہیں۔

کریمہ آرمڈ آسالٹ ڈویژن کے قیام کا ایک کلیدی، فکری اور سائنسی نقطہ یہ ہے کہ کاڈ کے سرمچار صرف ایک محاذ پر محدود نہیں رہیں گی، بلکہ وہ دوہرے انقلابی محاذ پر نبردِ آزما ہوں گے۔ جہاں ایک طرف وہ براہِ راست میدانِ جنگ میں قابض پاکستانی فوج، اس کی خفیہ ایجنسیوں، ملٹری انفراسٹرکچر اور تمام نوآبادیاتی اداروں سے نبردِ آزما ہوں گی تو دوسری طرف وہ بلوچ سماج کے اندر موجود ناانصافی، طبقاتی استحصال، پدری شاہی سماجی ساختوں اور بوسیدہ، پسماندہ سماجی روایات کے خلاف بھی انقلابی جدوجہد کا علم بلند رکھیں گی تاکہ ایک متوازن اور مساوی بلوچ معاشرہ وجود میں آ سکے۔

کریمہ آرمڈ اسالٹ ڈویژن کے سرمچار نہ صرف قومی آزادی کی جنگ کو عسکری و سیاسی طور پر مضبوط کریں گے، بلکہ نظم و ضبط سے لیس اپنی منظم، اور جدید گوریلا جنگی تکنیک کے ذریعے دشمن کے لیے خوف اور ہیبت کا استعارہ بنیں گے۔ کاڈ کے سرمچار اور قوم کے تمام بیدار ذہن اس تاریخی حقیقت سے بخوبی واقف ہیں کہ حقیقی طاقت کا سرچشمہ ہماری ناقابلِ تسخیر قوم کی غیر متزلزل ہمت، لازوال ایثار اور آزادی کے گہرے اور پختہ شعور میں مضمر ہے۔ ہتھیار محض ایک آلہ ہیں، جبکہ اصل قوت وہ قومی بیداری، انقلابی نظریاتی تربیت اور جذبہ ہے جو سرمچاروں کے دلوں میں موجزن ہے۔

جنگی تکنیک اور گوریلا حکمتِ عملی کے میدان میں کاڈ کی تشکیل نے بلوچستان لبریشن فرنٹ کی مجموعی عسکری اور آپریشنل صلاحیت کو ایک نئی بلندی عطا کی ہے۔ گوریلا جنگی فن، گہرے اور ناقابلِ تسخیر انٹیلی جنس نیٹ ورکنگ، خفیہ مواصلاتی رابطوں، میڈیکل کور کی دیکھ بھال، لاجسٹکس کی ترسیل، اور معرکہ آرائی کے دوران بلوچ خواتین کی تکنیکی اور پیشہ ورانہ مہارت نے دشمن کے روایتی دفاعی نقشوں، ملٹری انٹیلی جنس اور سیکیورٹی گرڈ کو مکمل طور پر حواس باختہ کر کے رکھ دیا ہے۔
قابض ریاست کا نوآبادیاتی عسکری نظام روایتی انداز میں جنگوں کو دیکھتا تھا لیکن کاڈ کی خواتین سرمچاروں کے غیر متوقع، انتہائی بر ہدف ،اور بے باک گوریلا حملے اور انٹیلی جنس اپریٹس نے دشمن کے عسکری حکمت عملی کی بنیادی منطقوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ ایک ماں، بہن اور بیٹی نے خودکار ہتھیار سنبھال کر وطن کی حفاظت اور آزادی کے لیے پیش قدمی کرکے بلوچ عوام کے اندر دہائیوں سے پیدا کردہ قابض کے خوف، دہشت اور بیگانگی کے اثرات کو بھی مکمل طور پر محو کر دیا ہے۔

بلوچ تحریک آزادی کے عسکری محاذ میں شامل خواتین کی اکثریت اعلیٰ تعلیم یافتہ اور روشن خیال خواتین کی ہے، جس نے یہ عالمی سچائی دنیا اور قابض ریاست کے سامنے واضح کر دی ہے کہ بلوچ کی یہ مسلح قومی مزاحمت انتہائی گہرے سیاسی، تاریخی، سائنسی اور فکری شعور کا مرہونِ منت ہے۔ کاڈ کی تشکیل نے مزاحمتی میدان میں ایک ایسا موڑ پیدا کر دیا ہے جہاں عسکری تکنیک، انٹیلی جنس نیٹ ورکنگ، نظریاتی تربیت اور سیاسی حکمتِ عملی یکجا ہو کر ایک مضبوط انقلابی مشینری کی صورت اختیار کر چکی ہیں۔ بی ایل ایف کے لیے عسکری قوت کا استعمال مربوط اور طویل المدتی حکمتِ عملی کا حصہ ہے، جس کا مقصد نوآبادیاتی نظام کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنا ہے۔

خواتین کی اس بیداری اور عسکری شمولیت نے آزادی کے نظریے کو گھروں کی دہلیز اور ماؤں کی آغوش کے ذریعے اگلی نسلوں کی روح اور سوچ کا مستقل حصہ بنا دیا ہے۔ اب آزادی کا سبق صرف کتابوں یا تنظیمی مجالس میں نہیں پڑھایا جاتا، بلکہ ماں کی لوری سے لے کر سنگر کی گولی تک، ہر جگہ یہی ایک للکار گونج رہی ہے۔ جنگی محاذ اور گوریلا کیمپوں نے صنفی تفریق کی تمام روایتی حدوں کو مٹا کر ہر کارکُن اور جنگجو کو سنگت کے واحد، باوقار، مساوی اور انقلابی مرتبے پر فائز کر دیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ، ان انقلابی خواتین کی تحریروں، شاعرانہ کاوشوں، ڈاکیومنٹیشن، اور فکری نشستوں نے بلوچ مزاحمتی ادب اور سیاسی بیانیے کو ایک نیا، توانا رنگ عطا کیا ہے۔

بی ایل ایف کے انقلابی فلسفے کے مطابق، قومی آزادی کی جنگ سماج کی اندرونی تطہیر اور انقلابی بحالی کا نام بھی ہے۔ کاڈ کے قیام اور تحریک آزادی کی مسلح محاذ پر خواتین کے کردار نے بلوچ سماج کے اندر دہائیوں سے قابض کے مسلط کردہ پسماندہ روایات، نیم سرمایہ دارانہ استحصالی اور پدری شاہی ساختوں کی گلی سڑی ستونوں کو زمین بوس کر دیے گا، جو خواتین کو محض گھر کی چار دیواری یا ایک غیر فعال اور نچلے درجے کے وجود تک محدود رکھتی تھیں۔ محاذِ جنگ اور انقلابی سنگر نے خواتین کو ایک فعال، بااختیار، فیصلہ کن صلابت اور قائدانہ صلاحیتوں سے لیس سنگت اور سرمچار کے مرتبے پر فائز کر دیا ہے۔ اس انقلابی عمل نے یہ منطقی حقیقت واضح کر دی ہے کہ بلوچ قومی تحریک مجموعی قوم اور مظلوموں کی بقا اور آزادی کی حتمی معرکہ آرائی ہے۔ عسکری اور سیاسی میدانوں میں خواتین کے اس متحرک شمولیت نے تحریک کو وہ اخلاقی بالادستی، فکری صلابت اور سائنسی جواز فراہم کیا ہے جو قابض ریاست کی تمام تر پراپیگنڈا مشینری، نفسیاتی جنگ اور نوآبادیاتی بیانیے کو خاک میں ملا دیتا ہے۔

گوریلا سنگر سے لے کر میڈیا، سیاسی، سفارتی، اور فکری محاذوں تک خواتین کی اس ہمہ جہت اور فعال شراکت داری علاقائی، لسانی، تعصباتی اور قبائلی تفریق کی زنگ آلود دیواروں کو گرا کر ایک ناقابلِ شکست، جدید، ترقی پسند اور متحدہ بلوچ قومی شناخت کی مضبوط بنیاد رکھنے میں مدد دے گی۔ قوم کے ہر طبقے کی شرکت عالمی برادری اور دنیا لے لیے بھی واضح پیغام ہے کہ بلوچستان میں جاری جنگ کوئی داخلی لاقانونیت، محدود شورش، قبائلی جھگڑا یا امن و امان کا سطحی مسئلہ نہیں ہے، بلکہ یہ اقوامِ متحدہ کے منشور اور بین الاقوامی قوانین کے تحت مکمل قومی آزادی اور حقِ خودارادیت کی ایک باقاعدہ، سیاسی اور اخلاقی طور پر درست جدوجہد ہے۔

کریمہ آرمڈ آسلٹ ڈویژن (کاڈ) کے سرمچار آزادی کے حتمی حصول تک محاذِ جنگ پر اپنے ہم فکر، ہم سفر اور ہم سنگر سرمچاروں کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر جدوجہد کی صفوں میں شامل رہیں گے۔ یہ جنگ ایک متحد قوم کے دو بنیادی بازوؤں کا مشترکہ انقلابی عمل ہے۔ جیونی کے ساحلوں سے لے کر کوہِ سلیمان کے سرسبز و شاداب اور سرکش پہاڑی سلسلوں تک، شہید کریمہ بلوچ کے تمام فکری وارث منظم، سائنسی اور غیر متزلزل گوریلا جنگ کے ذریعے قابض پاکستانی فوج اور اس کے ماتحت اداروں کو بلوچ سرزمین پر ایک لمحے کے لیے بھی سکون کا سانس نہیں لینے دیں گے۔ کاڈ کے جنگجو اپنے بے مثال حوصلے، ڈسپلن اور لازوال قربانیوں سے قابض دشمن کو عبرتناک شکست سے دوچار کریں گے اور نوآبادیاتی فوج کے تمام تر غرور کو توڑ کر انہیں بلوچ سرزمین سے مکمل انخلا پر مجبور کر دیں گے۔
شہید بانک کریمہ کے یہ تمام فکری علمبردار سرمچار مستقبل میں آزاد بلوچ سماج کے اندر حقیقی برابری، مساوات اور انصاف کا روشن استعارہ بنیں گے۔ وہ ایک ایسے نئے، جدید، ترقی پسند اور آزاد معاشرے کی تشکیل کی جانب پیش قدمی کر رہے ہیں جس کی بنیادیں قومی خودداری، انسانی احترام، صنفی مساوات، طبقاتی خاتمے اور سماجی انصاف پر استوار ہوں گی۔ یہ تحریک نہ صرف بلوچستان کے اندر بلکہ دنیا بھر کی مظلوم، سامراج مخالف اور نوآبادیاتی نظام سے برسرِ پیکار اقوام کی خواتین کے لیے ایک شاندارنظیر اور مشعل راہ ثابت ہوگا۔ 

ترجمان کا کہنا ہے کہ بلوچستان لبریشن فرنٹ یہ اعلان کرتا ہے کہ کاڈ کی تشکیل کے ساتھ ہی بلوچ قومی تحریکِ آزادی اپنے تمام تر عبوری اور روایتی مرحلوں سے نکل کر ایک جدید، پائیدار، سائنسی اور فتح مند انقلابی مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔ اس تمام تاریخی، سیاسی، فکری اور عسکری پیشرفت کا حتمی، اٹل اور ناقابلِ تردید ایقان یہ ہے کہ کاڈ کی تشکیل اور بلوچ خواتین کے اس فیصلہ کن قدم نے یہ سچائی ہمیشہ کے لیے طے کر دی ہے کہ بلوچ کی یہ قومی آزادی کی جنگ کسی ادھورے حل، دھوکے، مراعاتی پیکیجوں کی پیشکش یا نوآبادیاتی ریاست کے ڈرامائی مذاکرات کے دلاسے ہرگز نہیں رکے گی، بلکہ یہ کاروانِ آزادی بلوچ سرزمین سے قابض کے مکمل، حتمی اور غیر مشروط انخلا، بلوچ قومی اقتدار اعلیٰ کی بحالی اور مکمل قومی آزادی کے حصول تک بغیر کسی تعطل اور جھکاؤ کے بلا تفریق جاری و ساری رہے گا۔