مکران ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن نے اپنے ایک بیان میں دنیا بھر میں لاپتہ افراد کے عالمی دن کے موقع پر مطالبہ کیا ہے کہ پاکستان میں جبری گمشدگی کا شکار تمام لاپتہ افراد کو فوری طور پر بازیاب کیا جائے۔
انہوں نے کہا ہے کہ اگر پاکستان و بلوچستان میں امن چاہتے ہیں تو تمام لاپتہ افراد کو بازیاب کیا جائے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ 30 اگست دنیا بھر میں لاپتہ افراد کے عالمی دن کے طور پر منایا جاتا ہے، یہ دن ان افراد کی یاد میں منایا جاتا ہے جو جبری گمشدگی کا شکار ہوئے اور ان کے اہل خانہ کی اس تکلیف کو اجاگر کرنے کے لیے ہے جو اپنے پیاروں کی خبر اور واپسی کے منتظر رہتے ہیں۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ اس دن کا بنیادی مقصد و پیغام یہ ہے کہ کسی بھی شخص کو قانون کے دائرے سے باہر لے جا کر لاپتہ کرنا یا قید کرنا بنیادی انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے، یہ آئینِ پاکستان اور قانون کی بھی سنگین خلاف ورزی ہے ہر خاندان کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنے لاپتہ عزیز کے بارے میں حقیقت جانے، جبکہ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ ایسے معاملات کی شفاف، غیر جانب دارانہ اور مؤثر تحقیقات کرے۔
مکران ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ پاکستان خصوصاً بلوچستان میں لاپتہ افراد کا مسئلہ ایک اہم انسانی اور قانونی مسئلہ ہے، ضرورت اس امر کی ہے کہ تمام لاپتہ افراد کے مقدمات کو قانون اور آئین کے مطابق دیکھا جائے، اہل خانہ کو معلومات فراہم کی جائیں اور اگر کسی شخص پر جرم کا الزام ہے تو اسے عدالت کے سامنے پیش کر کے قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔
ان کے مطابق 30 اگست ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ہر انسان کو زندگی، آزادی، قانونی تحفظ اور انصاف کا حق حاصل ہے، لاپتہ افراد کے خاندانوں کی آواز سننا اور ان کے پیاروں کے بارے میں سچ سامنے لانا انسانی اور اخلاقی ذمہ داری ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ بلوچستان تاریخ کے نازک ترین حالات سے گزر رہا ہے اور اگر بلوچستان میں امن لانا ہے تو تمام لاپتہ افراد کو فوری طور پر بازیاب کیا جائے اور آئین و قانون کی بالادستی قائم رکھی جائے، آئین و قانون کی بالادستی سے ملک میں امن و انصاف قائم ہوگا۔


















































