کوئٹہ میں غیر مقامی صحافیوں کو بریفنگ کے دوران پاکستانی فوج کے ایک اعلیٰ سیکیورٹی عہدیدار نے کہا ہے کہ بلوچستان کے مسائل طاقت کے استعمال سے حل نہیں ہوسکتے، ریاست کو عام بلوچ عوام کے ساتھ مسلسل مذاکرات اور سیاسی رابطے کی پالیسی اپنانا ہوگی۔
کوئٹہ میں اسلام آباد سے آنے والے صحافیوں کو بریفنگ دیتے ہوئے سیکیورٹی عہدیدار نے کہا کہ ہمیں بلوچستان میں جنگ نہیں بلکہ امن جیتنا ہے اور اصل مسئلہ ’’بیانیہ‘‘ ہے، فوجی عہدہ دار نے دعویٰ کیا ہے کہ بلوچستان کے مسائل سنگین ہیں لیکن ناقابلِ حل نہیں۔
عہدیدار نے کہا کہ بلوچستان کے لیے قلیل مدتی سیکیورٹی اقدامات کے بجائے 10 سالہ طویل المدتی تزویراتی منصوبے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے عوام کی حقیقی شکایات موجود ہیں، تاہم بعض خدشات کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا جارہا ہے۔
سیکیورٹی عہدیدار نے کہا کہ ریاست کے خلاف ہتھیار اٹھانے والوں سے سیکیورٹی کارروائیوں کے ذریعے نمٹا جائے گا، تاہم اس کے ساتھ سیاسی حل بھی ضروری ہے اور مقصد لوگوں کو سیاسی دھارے میں واپس لانا ہے۔
انہوں نے بلوچستان کے اہم مسائل میں معاشی محرومی کے ساتھ سیاسی محرومی بی شامل ہے تقریباً نصف پاکستان کے رقبے پر مشتمل بلوچستان کی قومی اسمبلی میں صرف 16 نشستیں ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ بڑی سیاسی جماعتوں کی بلوچستان میں سرگرمیوں میں کمی سے سیاسی خلا پیدا ہوا ہے، جسے سوشل میڈیا پر سماجی تحریکوں اور مختلف بیانیوں نے پُر کیا ہے، انہوں نے کہا کہ بعض علاقوں میں قومی اسمبلی کا ایک حلقہ چار اضلاع تک پھیلا ہوا ہے۔
عسکری عہدیدار نے ترقیاتی وسائل کے ثمرات عوام تک نہ پہنچنے کا ذمہ دار اشرافیہ کے قبضے اور بدعنوانی کو قرار دیتے ہوئے کہا کہ حکومت کو اس سوال کا جواب دینا ہوگا کہ ’’بلوچستان کب ترقی کرے گا؟
انہوں نے بلوچستان کو معدنی وسائل اور جغرافیائی اہمیت کے باعث علاقائی و عالمی طاقتوں کی مسابقت کا مرکز قرار دیا اور کہا کہ ’’بلوچستان پاکستان کا مستقبل ہے ان کے مطابق بلوچستان میں سونے، تانبے اور نایاب معدنیات کے ذخائر کی ممکنہ مالیت تقریباً 6 ٹریلین ڈالر ہے، جبکہ گیس، ماہی گیری اور دیگر قدرتی وسائل بھی بڑی معاشی صلاحیت رکھتے ہیں۔
سیکیورٹی عہدیدار کے مطابق سارونہ بلاک میں سوئی سے کئی گنا زیادہ گیس کے ذخائر موجود ہیں تاہم قبائلی مخالفت کے باعث منصوبہ تعطل کا شکار ہے، انہوں نے الزام عائد کیا کہ سی پیک کو نقصان پہنچانے اور مقامی شکایات سے فائدہ اٹھانے کی کوششیں جاری ہیں۔
عسکری عہدیدار نے الزام عائد کیا کہ بیرونی پشت پناہی رکھنے والے مسلح نیٹ ورک پاکستان کے خلاف سرگرم ہیں اور دعویٰ کیا کہ بلوچ مسلح تنظیم کے رہنما ڈاکٹر اللہ نذر پڑوسی ممالک میں سے ایک میں روپوش ہیں، ان کے مطابق متعدد مطلوب افراد کے خلاف ریڈ نوٹس بھی جاری کیے گئے ہیں۔
انہوں نے بلوچستان میں مسلح کارروائیوں میں اضافے کو افغانستان سے امریکی انخلا کے بعد کی صورتحال سے جوڑتے ہوئے کہا کہ رواں سال حالیہ برسوں کا سب سے مہلک دور رہا ہے، جبکہ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق رواں سال 1,263 مسلح افراد مارے گئے ہیں۔
انہوں نے اعتراف کیا کہ ریاست تاحال بحران کا سیاسی حل تلاش نہیں کرسکی، تاہم ان کے بقول پاکستان اس وقت جیتیں گی جب وہ عام بلوچ کو اپنے ساتھ لے آئیں گے۔
سیکیورٹی عہدیدار نے دعویٰ کیا ہے کہ ماہ رنگ بلوچ سے بھی مذاکرات کے لیے متعدد بار رابطے کی کوشش کی گئی، تاہم انہوں نے بات چیت میں شامل ہونے سے انکار کیا۔



















































