بلوچستان: 9 بلوچ خواتین انتہائی مطلوب قرار، سروں کی قیمت مقرر

0

بلوچستان حکومت نے 9 خواتین کو مطلوب قرار دے کر ان کے سروں کی قیمت مقرر کر دی ہے۔

بلوچستان حکومت کے محکمہ داخلہ نے بلوچستان کے مختلف علاقوں، جن میں گوادر، جیونی اور تربت شامل ہیں سے تعلق رکھنے والی 9 مقامی خواتین کو مسلح سرگرمیوں میں ملوث قرار دیتے ہوئے ان کے بارے میں معلومات فراہم کرنے پر انعام مقرر کیا ہے۔

وزیر داخلہ بلوچستان کے معاون خصوصی کے مطابق مطلوب خواتین سے متعلق معلومات فراہم کرنے والوں کو 10 سے 15 لاکھ روپے تک انعام دیا جائے گا۔

محکمہ داخلہ کا دعویٰ ہے کہ مذکورہ خواتین بلوچ آزادی پسند مسلح تنظیموں سے رابطے میں ہیں اور مسلح سرگرمیوں میں ملوث ہیں۔

یاد رہے کہ اس سے قبل بلوچستان سے درجنوں خواتین کو جبری گمشدگی کا نشانہ بنائے جانے کے بعد حکام نے انہیں مفرور قرار دیا ہے، جن میں حب چوکی سے جبری گمشدگی کا نشانہ بننے والی 17 سالہ نسرین بلوچ بھی شامل ہیں، جنہیں فرار ہونے والی خودکش بمبار قرار دیا گیا تھا۔

بلوچستان میں حالیہ دنوں بلوچ خواتین کو ان کے گھروں اور تعلیمی اداروں سے جبری گمشدگی کا نشانہ بنائے جانے کے واقعات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، بلوچستان کی سیاسی و انسانی حقوق کی تنظیموں نے ان واقعات پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

بلوچ سیاسی تنظیموں کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ بلوچستان میں جبری گمشدگیوں کے طویل سلسلے میں اب خواتین کو جبری گمشدگی کا نشانہ بنانے کے بعد انہیں تخریب کار ظاہر کیا جاتا ہے، جبکہ اس سے قبل یہی طریقہ کار مرد سیاسی کارکنوں کے خلاف سالوں سے استعمال کیا جاتا رہا ہے۔