یمنی حوثیوں کا تعز میں سعودی افواج کے فضائی حملے میں 30 جنگجوؤں سمیت آٹھ شہریوں کی ہلاکت کا دعویٰ

31

یمن میں حوثی گروپ کے متعدد ذرائع نے اے ایف پی کو بتایا کہ اتوار کو تعز کے علاقے میں ہونے والے متعدد فضائی حملوں میں گروپ کے تقریباً 30 جنگجو اور آٹھ شہری ہلاک ہوئے ہیں۔

جبکہ بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ یمنی حکومت نے اعلان کیا کہ اس نے علاقے میں حوثیوں کے ایک فوجی کیمپ اور گاڑیوں کو نشانہ بنایا ہے۔

حوثیوں سے وابستہ ٹی وی چینل المسیرہ نے اس سے قبل اعلان کیا تھا کہ ایک فضائی حملے میں سات افراد ہلاک اور 40 زخمی ہوئے، جس کے بارے میں اس نے کہا تھا کہ یہ حملہ سعودی عرب نے کیا اور ایک بازار کو نشانہ بنایا۔

تاہم بعدازاں چینل نے حوثیوں کی وزارتِ صحت کے حوالے سے بتایا کہ زخمیوں میں پانچ بچے بھی شامل ہیں۔

حوثیوں کی وزارتِ صحت نے کہا کہ حملے میں تعز صوبے کے مویہ چوراہے پر واقع ایک بازار اور متعدد دکانوں کو نشانہ بنایا گیا، جبکہ بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ یمنی حکومت نے کہا کہ اس کی فورسز نے اسی چوراہے پر حوثیوں کے ایک کیمپ اور فوجی گاڑیوں کو نشانہ بنایا۔

حوثی ترجمان یحییٰ سریع نے سعودی عرب پر تعز کے مضافات میں ایک بازار کو نشانہ بنانے والے دو فضائی حملے کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ ان حملوں میں ہلاکتوں اور زخمیوں سمیت تقریباً 50 افراد متاثر ہوئے۔ انھوں نے کہا کہ اس حملے کا جواب ضرور دیا جائے گا۔

بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ یمنی حکومت کی مسلح افواج کے سرکاری ترجمان کرنل ماجد عبداللہ النزیلی نے اعلان کیا کہ مسلح افواج نے 72 گھنٹوں کے دوران 756 درست اور مؤثر کارروائیاں کیں اور حوثیوں کے 2,316 جنگجوؤں کو نشانہ بنایا گیا جن میں چار ایرانی شہری بھی شامل ہیں۔

تعز پر حملے کے بعد یمن کی حکومتی فورسز اور حوثیوں کے درمیان کشیدگی میں اضافہ

یمن کے صوبے تعز میں یمن کی حکومتی افواج اور یمنی حوثیوں کے درمیان لڑائی میں شدت آ گئی ہے۔

بی بی سی فارسی کے مطابق سعودی قیادت میں قائم اتحاد کی حمایت یافتہ یمنی حکومتی فورسز ایران کے حمایت یافتہ حوثیوں کی نئی پیش قدمی روکنے کی کوشش کر رہی ہیں۔

تعز ایک حساس صوبہ ہے جو ملک کے شمال میں یمنی حکومت کے زیرِ کنٹرول علاقوں اور جنوب میں حوثیوں کے زیرِ کنٹرول علاقوں کے درمیان واقع ہے۔

گذشتہ ماہ سے ان جھڑپوں میں شدت آئی ہے، جب حوثی فورسز نے بندرگاہی شہر المخا پر قبضہ کیا تھا۔