ریاض ایئرپورٹ پر نئے حملے میں پاکستانی شہری ہلاک، 11 افراد زخمی

24

سعودی جنرل اتھارٹی آف سول ایوی ایشن کے مطابق ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر اتوار کی دوپہر حوثیوں کے نئے حملے میں ایک پاکستانی ہلاک جبکہ 11 افراد زخمی ہوئے ہیں۔

یمن میں حوثی ملیشیا کی جانب سے گزشتہ پانچ دنوں میں کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر ہونے والا یہ چوتھا حملہ ہے۔

سعودی پریس ایجنسی کے مطابق جنرل اتھارٹی آف سول ایوی ایشن نے ایک بیان میں کہا ہے کہ زخمیوں کو فوری طور پر علاج کے لیے ہسپتال منتقل کر دیا گیا جبکہ حکام نے حملے کے نتیجے میں ہونے والے نقصان کا جائزہ لینا شروع کر دیا۔

اس سے قبل بتایا گیا تھا کہ حوثیوں نے اتوار کو ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر حملہ کیا ہے جبکہ دمام کے کنگ فہد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کو بھی دوبارہ نشانہ بنایا گیا۔

اتھارٹی نے بیان میں کہا تھا کہ ریاض ایئر پورٹ پر حملے کے نتیجے میں کئی افراد زخمی ہوئے ہیں۔ متعلقہ حکام کے ساتھ مل کر دونوں ایئرپورٹس پر نقصانات کا جائزہ لینے کے ساتھ ایئرپورٹ کا سیفٹی انسپکشن کیا جا رہا ہے۔

یمن میں آئینی حکومت کی بحالی کے لیے قائم اتحادی افواج کے ترجمان نے بیان میں کہا کہ فضائی دفاعی نظام نے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے قریب ایک کروز میزائل کو روک کر تباہ کر دیا۔

ایک علیحدہ بیان میں ترجمان نے کہا تھا کہ ریاض میں کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے پیسنجر ٹرمینل 4 سے ایک نامعلوم  پروجیکٹائل (میزائل) ٹکرایا جس سے آگ لگ گئی۔ حکام نے موقع پر پہنچ کر کارروائی کی۔

یاد رہے ایک دن قبل سنیچر کو کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر حوثیوں کے حملے میں 12 افراد ہلاک اور 300 سے زائد زخمی ہوئے تھے۔

اتحادی افواج کے ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی نے اس حملے کا سخت اور حتمی جواب دینے کا عزم ظاہر کیا۔

اتحادی افواج کے ترجمان نے کہا کہ سنیچر کو ایئرپورٹ کے پسینجر ٹرمینل 4 پر ہونے والا یہ حملہ بین الاقوامی انسانی حقوق کے قوانین کی روشنی میں ایک سنگین جنگی جرم ہے۔

ترکی المالکی کا کہنا تھا کہ ’شاہ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر حملہ دہشت گردی کی کھلی کارروائی ہے اور اس کا نہایت سخت اور موثر جواب دیا جائے گا۔‘

حالیہ حملے سعودی عرب میں سول ایوی ایشن کی تنصیبات کو نشانہ بنائے جانے میں اضافے کو ظاہر کرتے ہیں جس سے مسافروں کی حفاظت اور اہم انفراسٹرکچر کی سکیورٹی کے حوالے سے خدشات بڑھ گئے ہیں۔