چین میں تعینات امریکی سفیر نے کہا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی اسلحہ چین کو بیچنے کی پیشکش کی ہے۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق چین میں امریکی سفیر نے ڈیوڈ پرڈیو نے اتوار کو نشر ہونے والے فاکس نیوز کو دیے گئے انٹرویو میں بتایا کہ یہ اقدام تائیوان کو امریکی اسلحے کی فروخت پر چین کی تشویش کے جواب میں کیا گیا۔
ان کا کہنا تھا کہ پچھلے ہفتے چینی صدر شی جن پنگ کے دورے کے موقع پر بھی یہ معاملہ ایک بار پھر زیر بحث آیا تھا۔
چین تائیوان کو اپنی سرزمین کا حصہ قرار دیتا ہے جبکہ خود کو خود مختار قرار دینے والے تائیون کو امریکہ طویل عرصے سے اسلحہ فروخت کر رہا ہے جس کی وجہ سے واشنگٹن اور چین کے درمیان کشیدگی بھی پائی جاتی ہے۔
امریکی قوانین کے تحت واشنگٹن تائیوان کے دفاع کے لیے ہتھیار فراہم کرنے کا پابند ہے۔
امریکی سفیر کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’صدر ڈونلڈ ٹرمپ مسلسل یہ کہتے رہے ہیں کہ ہم دنیا بھر میں دوسرے ممالک کو اسلحہ فروخت کرتے ہیں اور گفتگو کے دوران ایک موقع پر انہوں نے چینی صدر شی سے بھی پوچھا کہ وہ کچھ ہتھیار خریدنا چاہیں گے؟‘
ڈیوڈ پرڈیو کے مطابق ’دوسری اشیا کی فروخت کے حوالے سے بھی بات چیت جاری ہے، امریکی و چینی صدور جب بھی ملتے ہیں اس معاملے پر بات کرتے ہیں۔‘
انہوں نے یہ وضاحت بھی کی فروخت کے معاملے پر امریکہ کا موقف وہی ہے اور تبدیل نہیں ہوا۔
جون میں چین نے تائیوان کو خبردار کیا تھا کہ امریکہ پر انحصار کرتے ہوئے یا فوجی ذرائع کے ذریعے آزادی حاصل کرنے کی کوشش ایسا راستہ ہے جس کے آخر میں ناکامی ہے۔
امریکی سفیر کا کہنا تھا کہ واشنگٹن دسمبر میں پہلے ہی تائیوان کو 11 اعشاریہ ایک ارب ڈالر کے ہتھیار فروخت کرنے کی مںظوری دے چکا ہے جو کہ 1979 کے بعد سے کسی بھی امریکی صدر کی جانب سے تائیوان کو ہتھیاروں کی سب سے بڑی فروخت ہے۔
چینی صدر شی جن پنگ نے امریکہ کے دورے کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر زور دیا کہ وہ تائیوان کے معاملے پر ’احتیاط سے کام لیں‘ اور امریکہ پر تائیوان کی آزادی کی مخالفت کرنے پر بھی زور دیا۔
مئی میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اشارہ دیا تھا کہ وہ تائی پی کو فراہم کیے جانے والے اسلحے کے نئے پیکیج کو چین کے ساتھ مذاکرات میں سودے بازی کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے جس سے ایسے خدشات بھی پیدا ہوئے کہ تائیوان کی سلامتی خطرے میں پڑ سکتی ہے۔



















































